بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان شبمن گل کے زخمی ہوکر میچ سے باہر ہونے سے انڈیا کو جنوبی افریقہ کے خلاف کولکتہ ٹیسٹ کے تیسرے روز آغاز سے قبل بڑا دھچکا لگا ہے۔

شبمن گل کو دوسرے دن کھیل کے دوران گردن میں تکلیف کے باعث فوراً کولکتہ کے ووڈلینڈز اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں انہیں احتیاطی طور پر آئی سی یو میں رکھا گیا۔ این ڈی ٹی وی کے مطابق گل کی حالت مستحکم ہے مگر طبی ماہرین ان کی مسلسل نگرانی کر رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: شبمن گل جولائی کے لیے آئی سی سی پلیئر آف دی منتھ قرار

ان کے علاج کے لیے ایک خصوصی میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا ہے، ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ان کی آئندہ گواہاٹی ٹیسٹ میں شرکت کا فیصلہ مکمل طور پر اُن کی صحت یابی کی رفتار پر منحصر ہوگا۔ ابھی یہ کہنا ممکن نہیں کہ وہ کب تک فٹ ہوں گے۔

شبمن گل نے دوسرے روز صرف 3 گیندیں کھیلیں اور سائمن ہارمر کے خلاف سوئپ شاٹ کھیلنے کے بعد گردن تھامتے ہوئے گراؤنڈ سے باہر چلے گئے۔ ابتدائی معائنے میں گردن کے پٹھوں میں شدید کھنچاؤ کی تشخیص ہوئی اور انہیں گردن کا پٹا (سروائیکل کالر) بھی لگایا گیا۔ گل کے اچانک ریٹائرڈ ہرٹ ہونے کے بعد رشبھ پنت کو بیٹنگ کے لیے بھیجنا پڑا، جو انجری کے بعد اپنا پہلا ٹیسٹ کھیل رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیے: کیا انجری کے بعد ہارڈک پانڈیا اور ابھیشیک شرما پاکستان کیخلاف کھیل سکیں گے؟ باؤلنگ کوچ نے بتا دیا

بی سی سی آئی نے تیسرے روز کھیل سے قبل تصدیق کی کہ گل باقی میچ میں حصہ نہیں لیں گے۔

بورڈ کے مطابق ان کی فٹنس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا اور وہ اسپتال میں زیر علاج رہیں گے۔ رپورٹ کے مطابق شبمن گل کی تکلیف میں واضح کمی آئی ہے، وہ ناشتہ کر چکے ہیں اور اسپتال سے ہی بھارت اور جنوبی افریقہ کا میچ بھی دیکھ رہے ہیں، جو ان کی صحت میں بہتری کا مثبت اشارہ ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئی سی یو اسپتال انڈیا ٹیسٹ شبمن گل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: آئی سی یو اسپتال انڈیا ٹیسٹ شبمن گل شبمن گل کے لیے کے بعد

پڑھیں:

برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ

برطانیہ کے 70 سے زائد ارکانِ پارلیمنٹ نے نئے وزیراعظم اینڈی برنہم سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے حوالے سے اقوامِ متحدہ کے آزاد تحقیقاتی کمیشن کے نتائج کو باضابطہ طور پر تسلیم کریں اور اسرائیل کے خلاف فوری اور مؤثر اقدامات کریں۔

عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق خط میں نشاندہی کی گئی ہے کہ گزشتہ ماہ جاری ہونے والی اقوامِ متحدہ کی آزاد تحقیقاتی رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کی کارروائیاں نسل کشی کے زمرے میں آتی ہیں اور رپورٹ میں خاص طور پر اسرائیلی حملوں میں بچوں کو دانستہ طور پر نشانہ بنانے کی تصدیق بھی تھی۔

ارکان پارلیمان نے کھلے خط میں نو منتخب وزیراعظم سے مطالبہ کیا کہ وہ بین الاقوامی عدالتِ انصاف کی جولائی 2024 کی مشاورتی رائے پر بھی عمل درآمد کو یقینی بنانے کے لیے عملی اقدامات کریں۔

برطانوی ارکانِ پارلیمنٹ کے بقول عالمی عدالت نے اسرائیل پر زور دیا تھا کہ وہ فوری طور پر مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے اپنی موجودگی ختم کرے، تمام اسرائیلی بستیاں ختم کرے، متاثرہ فلسطینیوں کو معاوضہ ادا کرے اور بے گھر ہونے والے فلسطینیوں کی واپسی میں تعاون کرے۔

عدالت نے اپنی رائے میں یہ بھی کہا تھا کہ دنیا کے تمام ممالک پر ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ ایسے اقدامات سے گریز کریں جو اسرائیلی قبضے کو برقرار رکھنے یا اس میں معاونت کا سبب بنیں۔

خط میں برطانوی حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسرائیل پر مکمل اسلحہ پابندی عائد کی جائے، اسرائیلی حکام کے خلاف پابندیاں لگائی جائیں اور ایسی ہر قسم کی تجارت پر پابندی عائد کی جائے جو مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں قائم اسرائیلی بستیوں کو فائدہ پہنچاتی ہو۔

ارکانِ پارلیمنٹ کا کہنا ہے کہ برطانیہ کو بین الاقوامی قوانین اور انسانی حقوق سے متعلق اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرتے ہوئے واضح اور مؤثر پالیسی اختیار کرنی چاہیے۔

I'm one of 80 MPs & Peers calling on the PM to:

- Recognise the UN’s findings on genocide & implement the ICJ ruling in full
- Impose sanctions including a full arms embargo
- Ban trade that supports Israel’s illegal settlements

End Britain’s complicity in genocide, now. pic.twitter.com/TjtJ0yj2Qq

— Kim Johnson (@KimJohnsonMP) July 23, 2026

فلسطین سالیڈیرٹی کمپین کے نائب ڈائریکٹر پیٹر لیری نے ارکانِ پارلیمنٹ کے خط کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی حکومت نے طویل عرصے سے نسل کشی کنونشن اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے مؤقف کو نظر انداز کیا ہے۔

انھوں نے الزام عائد کیا ہے کہ برطانیہ مسلسل ایسی پالیسیاں اپناتا رہا ہے جن سے فلسطینی عوام کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کو عملی یا سفارتی حمایت ملتی رہی۔

خیال رہے کہ اسرائیل غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو مسترد کرتا ہے اور مؤقف اختیار کرتا آیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں حماس اور دیگر مسلح گروہوں کے خلاف ہیں جبکہ شہری ہلاکتوں سے بچنے کے لیے اقدامات کیے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اقوامِ متحدہ اور متعدد بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیمیں اسرائیلی دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے غزہ میں بڑے پیمانے پر شہریوں، خصوصاً خواتین اور بچوں کے جانی نقصان پر مسلسل تشویش کا اظہار کر رہی ہیں۔

 

متعلقہ مضامین

  • پاکستان ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی، پہلا میچ کل سے شروع ہوگا
  • پاکستان اور ویسٹ انڈیز کے درمیان ٹیسٹ سیریز کی ٹرافی کی رونمائی
  • میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
  • پاک ویسٹ انڈیز ٹیسٹ سیریز، ٹرافی کی رونمائی کردی گئی
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • پاکستان کے خلاف ٹیسٹ سیریز: ویسٹ انڈیز نے 15 رکنی اسکواڈ کا اعلان کر دیا
  • راولپنڈی میں 14 سالہ فیکٹری ملازم کے ساتھ ’استاد‘ کی بدفعلی، لڑکا اسپتال میں داخل
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • ولیکا اسپتال میں ایچ آئی وی کا ایک اور کیس رپورٹ، 18 ماہ کے بچے میں بیماری کی تصدیق