وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ یوم عاشورہ تاریخ اسلام کا ایک عظیم اور سبق آموز دن ہے، جو ہمیں صبر، قربانی اور اصولوں پر ڈٹے رہنے کی وہ عظیم مثال عطاءکرتا ہے جو قیامت تک انسانیت کے ضمیر کو روشنی دکھاتی رہے گی۔

یوم عاشورہ کے موقع پر اپنے پیغام میں وزیراعظم نے کہاکہ دس محرم الحرام کو میدانِ کربلا میں جو معرکہ رونما ہوا، وہ کوئی عام معرکہ نہیں بلکہ رہتی دنیا تک ایک دائمی پیغام ہے۔ نواسہ رسول ﷺ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنے خاندان اور جانثار رفقاء کے ہمراہ سچائی، عدل اور دین کی سر بلندی کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا، مگر باطل کے سامنے سر نہیں جھکایا۔

وزیراعظم نے کہا کہ اُن کی یہ عظیم قربانی ہمیں یاد دلاتی ہے کہ اصولوں کی حفاظت اور حق پر ڈٹے رہنے کے لیے بلند حوصلہ اور غیر متزلزل یقین درکار ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام حسین کی شہادت سے یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ دین اسلام کی اصل روح انسانی وقار، عدل، رحم، اصول پرستی اور حریت میں پنہاں ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ واقعہ کربلا ہمیں یہ درس دیتا ہے کہ اگرچہ حق کا راستہ کٹھن ہے، لیکن یہی وہ راستہ ہے جو اللہ تعالیٰ کی رضا، دلوں کے اطمینان اور دائمی فلاح کا ذریعہ بنتا ہے۔ امام عالی مقام کا پیغام صرف اُن کے زمانے تک محدود نہیں، بلکہ ایک ہمہ گیر پیغام ہے، جو آج بھی ہمیں یہ باور کراتا ہے کہ مسلمان حق کے لیے کھڑا ہوتا ہے، مظلوم کا ساتھ دیتا ہے، اور ہر حال میں انصاف کی حمایت کرتا ہے۔

وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کہا کہ آج جب ہماری قوم کو کئی چیلنجز کا سامنا ہے۔ خواہ وہ معیشت ہو، معاشرت ہو یا قومی اتحاد، ہمیں امام حسین کی سیرت سے رہنمائی لینے کی پہلے سے کہیں زیادہ ضرورت ہے۔ ہمیں اپنی قومی زندگی میں دیانت، برداشت، صبر، قربانی اور اصول پسندی جیسے اوصاف کو جگہ دینا ہو گی۔ انفرادی رویوں سے لے کر ریاستی پالیسیوں تک، اگر ہم کربلا کی روشنی میں اپنا راستہ طے کریں، تو پاکستان ایک ایسی فلاحی، منصفانہ اور خود دار ریاست بن سکتا ہے جو نہ صرف اپنے عوام کی امنگوں کی ترجمان ہو بلکہ دنیا کے لیے بھی ایک مثال ہو۔

وزیر اعظم نے کہا کہ حضرت امام حسین کی عظیم قربانی پوری امت مسلمہ کا مشترکہ سرمایہ ہے۔ ہمیں چاہیے کہ اس مقدس پیغام کو وحدت کا ذریعہ بنائیں اور اپنے معاشرے کو محبت، رواداری اور خیر خواہی کا گہوارہ بنائیں۔

شہباز شریف نے کہا کہ آئیں، آج یوم عاشورہ پر ہم یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں حق و صداقت کو اپنا شعار بنائیں گے۔ ہم ظلم کے خلاف آواز بلند کریں گے اور اپنے وطن کو وہی امن، عدل اور وقار عطا کرنے کی کوشش کریں گے جس کی جھلک سیدنا امام حسین کے روشن کردار سے ملتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ میری یہ دعا ہے کہ اللہ تعالی پاکستان کو امن، اتحاد اور ترقی کی راہ پر گامزن رکھے، اور ملک پاکستان کو داخلی و خارجی فتنوں سے محفوظ فرما کر استحکام نصیب فرمائے اور ہمیں وہ دانش اور حکمت عطا فرمائے جس سے ہم ایک روشن اور با وقار مستقبل کی طرف بڑھ سکیں۔

Post Views: 4.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: اعظم نے کہا کہ کے لیے

پڑھیں:

مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز

گرمیوں کی آمد کے ساتھ ہی آموں کی خوشبو اور مٹھاس ہر طرف پھیل جاتی ہے، اور بازاروں، ریڑھیوں اور گھروں میں مختلف اقسام کے آم اپنی رنگینی بکھیرنے لگتے ہیں۔

پاکستان میں آم کی کئی مشہور اقسام پائی جاتی ہیں جن میں دسہری، کیسر، چونسہ اور سندھ کے بعض علاقوں میں محدود پیمانے پر کاشت ہونے والا الفانسو آم شامل ہے، جسے عام طور پر ’الفنس‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

آم کو صرف ایک پھل نہیں بلکہ گرمیوں کی پہچان سمجھا جاتا ہے، اسی لیے اس موسم میں اس سے آئس کریم، میٹھے پکوان، آم رس، سلاد اور مختلف مشروبات تیار کیے جاتے ہیں۔ تاہم ٹھنڈا اور گاڑھا مینگو شیک آج بھی سب سے زیادہ پسند کیے جانے والے مشروبات میں شمار ہوتا ہے، اور اکثر یہ سوال سامنے آتا ہے کہ آخر مینگو شیک کے لیے بہترین آم کون سا ہے؟

ماہرین اور شوقین افراد کے مطابق الفانسو آم مینگو شیک کے لیے بہترین انتخاب سمجھا جاتا ہے۔ اس کی گودے دار ساخت قدرتی طور پر کریمی ہوتی ہے، اس میں ریشہ نہ ہونے کے برابر ہوتا ہے اور اس کی مٹھاس دودھ کے ساتھ بخوبی گھل جاتی ہے، جس سے شیک ہموار اور ملائم بنتا ہے۔ بعض آم بلینڈ کرنے کے بعد ریشے دار محسوس ہوتے ہیں، لیکن الفانسو شیک کو ایک یکساں اور کریمی ساخت دیتا ہے۔

الفانسو آم کی ایک اور نمایاں خصوصیت اس کی خوشبو ہے، جو سادہ دودھ کے شیک کو بھی ایک خاص ذائقہ اور مہک عطا کرتی ہے۔ چونکہ یہ قدرتی طور پر بہت میٹھا ہوتا ہے، اس لیے اکثر افراد اس میں اضافی چینی ڈالنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر آم مینگو شیک کے لیے یکساں طور پر موزوں نہیں ہوتا۔ ایک اچھے شیک کے لیے ایسے آم کا انتخاب بہتر ہے جس میں ریشہ کم ہو، گودا قدرتی طور پر میٹھا اور خوشبودار ہو، ساخت گاڑھی اور کریمی ہو، جبکہ گٹھلی چھوٹی اور گودا زیادہ ہو۔

الفانسو کے علاوہ کیسر آم بھی ایک اچھا انتخاب سمجھا جاتا ہے، جو اپنے شوخ نارنجی گودے اور بھرپور مٹھاس کے باعث گاڑھا اور لذیذ شیک تیار کرتا ہے۔ اسی طرح دسہری آم اپنی خوشبو اور رس دار خصوصیات کی وجہ سے ہلکے اور تازگی بخش شیک کے لیے موزوں مانا جاتا ہے۔

ماہرین یہ بھی خبردار کرتے ہیں کہ بہت زیادہ پکے ہوئے آم استعمال نہ کیے جائیں، کیونکہ اگرچہ وہ زیادہ میٹھے ہوتے ہیں لیکن بعض اوقات ان میں خمیر جیسی بو پیدا ہو سکتی ہے جو شیک کے ذائقے کو متاثر کرتی ہے۔

گھر میں بہترین مینگو شیک بنانے کے لیے چند آسان طریقے بھی مددگار ثابت ہوتے ہیں۔ آموں کو استعمال سے پہلے ٹھنڈا کر لیا جائے تو برف کی ضرورت کم ہو جاتی ہے، جبکہ مکمل چکنائی والے ٹھنڈے دودھ سے شیک زیادہ کریمی بنتا ہے۔ آم کے ٹکڑوں کو فریز کر کے استعمال کرنے سے شیک مزید گاڑھا ہو جاتا ہے، اور ذائقے میں بہتری کے لیے ہلکی سی الائچی یا زعفران بھی شامل کیا جا سکتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ضرورت سے زیادہ بلینڈنگ سے شیک پتلا بھی ہو سکتا ہے، اس لیے اسے مناسب وقت تک ہی بلینڈ کرنا بہتر سمجھا جاتا ہے۔ مجموعی طور پر کہا جا سکتا ہے کہ گرمیوں میں بہترین مینگو شیک کا راز صرف ترکیب میں نہیں بلکہ صحیح آم کے انتخاب میں بھی چھپا ہوتا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • امام خمینی، فکر، قیادت اور انقلاب کا استعارہ
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • پہلی ہی گیند پر وکٹ: شاہین آفریدی پاکستان کے عظیم کپتانوں کی فہرست میں شامل
  • 3 جون: جب حضرت امامؒ نے آخری سانس لی
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ٹرمپ کی خام خیالی تھی وہ ہمیں مذاکرات میں لگاکر حزب اللہ کیخلاف کارروائیاں کریں گے، ایرانی سفیر
  • ‏‏سہیل آفریدی ان سے کہیں کہ پہلے عمران خان سے ملاقات کرواو اور پھر آپ بجٹ پاس کرو
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • ہمیں پتہ ہے یہ ڈرے ہوئے ہیں، ہمارا فوکس بانی پی ٹی آئی کی رہائی ہے، علیمہ خان
  • قدرت کا حیرت انگیز شاہکار، ہولونگ درخت کے ’ہیلی کاپٹر پھلوں‘ کی حسین اڑان