پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی میں بھرتیوں کیلئے پیپر لیک ہونے کا انکشاف
اشاعت کی تاریخ: 7th, July 2025 GMT
کراچی:
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کی آسامیوں پر بھرتی کے لیے پیپر لیک ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی انتظامیہ نے پیپر لیک معاملے کی تحقیقات شروع کردی ہے اور پیپر کس نے سوشل میڈیا پر لیک کیا اور کیسے لیک ہوا اس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں۔
ذرائع نے بتایا کہ پیپر لیک معاملے پر ڈائریکٹر ایچ آر پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی سربراہی میں تحقیقات جاری ہیں۔
پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق اے ڈی سیکیورٹی آسامی کا پیپر سوشل میڈیا پر شان علی جاکھرانی نامی امیدوار نے کیا تاہم پیپر لیک کیسے ہوا، موبائل فون یا پھر پین میں لگے ڈیوائس استعمال ہوا اس پہلو کو بھی تحقیقات میں دیکھا جا رہا ہے۔
پی اے اے میں اسسٹنٹ ڈائریکٹر سیکیورٹی کا پیپر 22 جون کو لیا گیا، آسامی کے لیے ٹیسٹ صبح 10 بجے سے ایک بجے تک تھا اور بتایا گیا کہ جس امیدوار نے پیپر لیک کیا اسے ڈس کوالیفائی کردیا گیا ہے۔
مزید بتایا گیا کہ دوپہر کو تین بجے پیپر کا ایک صفحہ کسی نے سوشل میڈیا پر لیک کیا اورلیک کرکے پیپر کو ڈیلیٹ کیا گیا اور پی اے اے کی ٹیم نے معاملے کی تحقیقات میں شان علی جاکھرانی کے پیپر سے وہ لیک شدہ پیپر میچ کرگیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی پر لیک لیک کی
پڑھیں:
بیوٹی انفلوئنسر کاسمیٹک سرجری کے دوران چل بسی
میکسیکو کی معروف بیوٹی انفلوئنسر اور سوشل میڈیا کانٹینٹ کریئٹر 30 سالہ ایڈریانا گارشیا (Adriana Garcia)کاسمیٹک سرجری کے دوران پیش آنے والی پیچیدگیوں کے باعث چل بسی۔
رپورٹس کے مطابق ایڈریانا گارشیا کا منگل کے روز ریاست سینالووا کے ایک نجی کلینک میں کاسمیٹک آپریشن کیا جا رہا تھا، جہاں دورانِ سرجری پیچیدگیاں پیدا ہونے کے بعد ان کی موت واقع ہوگئی،مقامی حکام نے تاحال موت کی سرکاری وجہ جاری نہیں کی، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔
مزیدپڑھیں:عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
واقعے کے بعد حکام نے سرجری کے دوران پیش آنے والے حالات اور ممکنہ طبی غفلت کے پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ ایڈریانا گارشیا کے انسٹاگرام اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر 90 ہزار سے زائد فالوورز تھے، ان کے انتقال کی تصدیق میکسیکو کی کمپنی نے بھی کی، جس کے ساتھ وہ بطور انفلوئنسر کام کرتی تھی۔