لیاری میں عمارت گرنے کا واقعہ، تحقیقات کیلئے 5 رکنی کمیٹی قائم
اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی کے علاقے لیاری میں پیش آنے والے افسوسناک عمارت گرنے کے واقعے پر حکومت نے فوری ایکشن لیتے ہوئے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
اس سلسلے میں ایک 5 رکنی اعلیٰ سطحی تحقیقاتی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جس کی سربراہی کمشنر کراچی حسن نقوی کریں گے۔
سرکاری نوٹیفکیشن کے مطابق کمیٹی میں اسپیشل سیکرٹری لوکل گورنمنٹ، ڈپٹی ڈائریکٹر ایس بی سی اے اور دیگر متعلقہ افسران بھی شامل ہیں۔ کمیٹی کا بنیادی مقصد اس سانحے کی وجوہات کا تعین کرنا اور ان افراد یا اداروں کی نشاندہی کرنا ہے جو اس حادثے کے ذمہ دار ہو سکتے ہیں۔
اس کے ساتھ ساتھ کمیٹی کو یہ ہدایت بھی دی گئی ہے کہ وہ مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے ٹھوس سفارشات مرتب کرے تاکہ انسانی جانوں کے ضیاع سے بچا جا سکے۔
تحقیقاتی کمیٹی کو 48 گھنٹوں کے اندر اندر اپنی رپورٹ تیار کر کے متعلقہ حکام کو پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے لیاری بغدادی میں ایک 5 منزلہ رہائشی عمارت منہدم ہو گئی تھی، جس کے نتیجے میں 27 افراد جاں بحق ہو گئے تھے، جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ یہ واقعہ شہر میں غیر قانونی اور خستہ حال عمارتوں کے بڑھتے ہوئے خطرے کی ایک اور بھیانک مثال بن کر سامنے آیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
عید تعطیلات کے بعد کاروباری اوقات کار پھر تبدیل کردئیے گئے
حکومت نے بازار اور دکانیں بند کرنے کے اوقاف کار(business hours) تبدیل کر دئیے ۔دکانوں اور کاروباری مراکز کے بند ہونے کے اوقات میں توسیع کا فیصلہ ۔
اسحاق ڈار کی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی اور عملدرآمد سے متعلق کمیٹی کا اجلاس کمیٹی نے جاری کفایت شعاری اقدامات کا جائزہ لیا نئے اوقات کے مطابق دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رہیں گے۔
ریسٹورنٹس اور کھانے پینے کے مراکز رات 11 بجے تک کھلے ہونگے ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز ان اوقات سے مستثنیٰ ہوں گیشادی ہالز اور تقریبات کے مقامات رات 10 بجے تک ہی کھلے ہونگے۔
مزید پڑھیں:اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
فارمیسی، اسپتال، پٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ادارے مستثنیٰ ہونگے صوبائی حکومتیں وفاق کے ساتھ رابطے میں رہتے ہوئے ان ہدایات پر مؤثر عملدرآمد کو یقینی بنائیں، کمیٹی کی ہدایت