Jasarat News:
2026-07-24@13:23:30 GMT

غزہ : اسرائیلی حملے جاری‘ مزید 105فلسطینی شہید

اشاعت کی تاریخ: 8th, July 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

غزہ /تل ابیب /دوحا /قاہرہ /بیروت /واشنگٹن (مانیٹرنگ ڈیسک /صباح نیوز /آن لائن) اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں گزشتہ 24 گھنٹے کے دوران 105 فلسطینی شہیداور356 زخمی ہوئے۔ یومیہ اعداد و شمار کے مطابق اسرائیلی جارحیت کے نتیجے میں گزشتہ24 گھنٹے کے دوران غزہ کی پٹی کے اسپتالوں میں 105شہدا اور 356زخمی لائے گئے۔ اب بھی متعدد افراد ملبے تلے اور سڑکوں پر موجود ہیں، جہاں تک امدادی اور شہری دفاع کی ٹیموں کی رسائی ممکن نہیں ہو سکی۔ عرب میڈیا کے مطابق امداد لینے کے منتظر9 فلسطینی بھی اسرائیلی حملوں میں شہید ہوئے جب کہ خوراک تقسیم کرنے والے 2 امریکی امدادی کارکن بھی زخمی ہوئے۔ دوسری جانب اسرائیلی فوج نے الزام لگایا ہے کہ امریکی امدادی کارکن حماس کی کارروائی میں زخمی ہوئے ہیں۔ خوراک کی تلاش میں نکلے فلسطینیوں پر ہونے والے اسرائیلی حملوں میں اب تک 743 فلسطینی شہید اور 4831 زخمی ہو چکے ہیں۔جنگ بندی کی بات چیت کے دوران بھی اسرائیلی فورسز کی جانب سے غزہ میں جاری بمباری کے دوران پیر کو مزید 19 فلسطینی شہید ہوگئے، مرنے والوں میں امدادی مرکز کے باہر جمع ہونے والوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے، جب کہ 40 فلسطینی زخمی بھی ہوئے ہیں۔قطری نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ کی رپورٹ کے مطابق رفح کے شمال میں امدادی مرکز کے قریب اسرائیلی افواج کی فائرنگ سے مزید 40 سے زاید افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب غزہ شہر میں ایک کلینک پر اسرائیلی فضائی حملے نے تباہی مچا دی، جہاں بے گھر فلسطینی پناہ لیے ہوئے تھے، اس حملے میں کم از کم 6 افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوئے۔ایک عینی شاہد اور بے گھر فلسطینی خاتون ام وسیم نے بتایا کہ ’میرے بہنوئی زخمی ہو گئے ہیں، اور ان کا بیٹا شہید ہو گیا ہے، میری بہن اور بھانجی آئی سی یو میں ہیں۔قطر کے دارالحکومت دوحا میں اسرائیل اور فلسطینی تنظیم حماس کے درمیان جنگ بندی مذاکرات کا پہلا دور کسی نتیجے پر پہنچے بغیر ختم ہو گیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق اسرائیلی وفد مذاکرات میں شریک ضرور ہوا لیکن حتمی معاہدے کے لیے ضروری اختیارات کے بغیر آیا جس کی وجہ سے بات چیت آگے نہیں بڑھ سکی۔ادھر اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ حماس کے تازہ مطالبات اسرائیل کے لیے ناقابل قبول ہیں تاہم پھر بھی انہوں نے ایک اعلیٰ سطحی ٹیم قطر بھیجی۔چند روز قبل حماس نے قطر اور امریکا کی طرف سے پیش کیے گئے نئے جنگ بندی اور قیدیوں کے تبادلے کے مجوزہ معاہدے پر مثبت ردعمل دیا تھا، جس کے بعد امید کی جا رہی تھی کہ فریقین معاہدے کے قریب ہیں۔برکس نے غزہ کی پٹی کو ’مقبوضہ فلسطینی علاقے کا ناقابلِ تقسیم حصہ‘ قرار دیتے ہوئے زور دیا ہے کہ مغربی کنارے اور غزہ کو فلسطینی اتھارٹی کے تحت یکجا کیا جائے۔ ترک خبر رساں ادارے ’انادولو‘ کے مطابق برکس کے اعلامیے میں فلسطینی عوام کے حقِ خودارادیت، بشمول آزاد ریاستِ فلسطین کے قیام کے حق کو ایک بار پھر تسلیم کیا گیا۔رکن ممالک نے اسرائیل کے جاری حملوں اور انسانی امداد کی راہ میں رکاوٹوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے قحط کو بطورِ جنگی ہتھیار استعمال کرنے کی شدید مذمت کی۔برکس ممالک نے کہا کہ ’ہم تمام فریقین پر زور دیتے ہیں کہ وہ نیک نیتی کے ساتھ فوری، مستقل اور غیر مشروط جنگ بندی کے لیے مذاکرات کریں، اسرائیلی افواج کی غزہ پٹی اور دیگر تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے مکمل واپسی ہو، بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی میں قید تمام مغویوں اور قیدیوں کو رہا کیا جائے، اور انسانی امداد کی مسلسل، آزادانہ اور بلارکاوٹ فراہمی کو یقینی بنایا جائے‘۔اس اتحاد نے اقوامِ متحدہ میں ریاستِ فلسطین کی مکمل رکنیت کی حمایت اور 2 ریاستی حل سے اپنی غیر متزلزل وابستگی کا اعادہ بھی کیا۔ اسرائیل نے ایران-اسرائیل جنگ بندی کے بعد یمن میں حوثی شدت پسندوں کے خلاف پھر حملے کیے ہیں، جن میں اتوار کی رات سے پیر کی صبح تک حوثی مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔امریکی میڈیا کے مطابق ان حملوں میں یمن کی بحیرہ احمر کے کنارے واقع اہم بندرگاہوں اور ایک بجلی گھر کو ہدف بنایا گیا۔اسرائیلی فوج کے مطابق یہ حملے اُس وقت کیے گئے جب حوثی شدت پسندوں نے جنگ بندی کے بعد اسرائیل کی طرف کم از کم 3 بیلسٹک میزائل داغے، جن میں سے ایک کو کامیابی کے ساتھ روک لیا گیا تھا۔اسرائیل نے حوثیوں کے زیر قبضہ حدیدہ، رش عیسا، صلیف بندرگاہوں اور راس کاناتب پاور پلانٹ کو نشانہ بنایا۔ اس کے علاوہ، اسرائیل نے گلیکسی لیڈر نامی ایک کارگو جہاز پر بھی حملہ کیا، جسے حوثیوں نے نومبر 2023ء میں قبضے میں لے لیا تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کٹز نے ان حملوں کو آپریشن بلیک فلیگ کا حصہ قرار دیا۔ اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ حوثی اپنے اقدامات کی بھاری قیمت ادا کرتے رہیں گے، اور اگر وہ اسرائیل کی طرف ڈرونز اور بیلسٹک میزائل داغنا جاری رکھتے ہیں تو مزید حملے کیے جائیں گے۔ اسرائیل نے غزہ اور یمن کے بعد دوبارہ لبنان کے شمال، مشرق اور جنوب کے مختلف علاقوں پر فضائی حملے کر دیے۔ نجی ٹی وی نے لبنانی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے حوالے سے بتایا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے مشرقی لبنان میں بعلبک کے مغرب میں واقع بودای کے نزدیک فلاوی کے پہاڑی علاقے پر بمباری کی، 3 حملے بودای کے پہاڑی علاقوں پر کیے گئے۔ خبر ایجنسی نے مزید بتایا کہ شمالی لبنان کے ضلع عکار میں کفرملکی کے علاقے کو بھی نشانہ بنایا گی‘ اسرائیلی طیاروں نے جنوبی لبنان کے علاقے التفاح میں بھی حملے کیے۔ یمن میں حوثی اکثریتی جماعت انصار اللہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ اسرائیل کی جانب جانے والے مال بردار بحری جہاز کو نشانہ بنایا ہے۔صنعا سے عرب میڈیا کے مطابق ترجمان بیان اپنے میں کہا کہ مال بردار بحری جہاز کو بیلسٹک میزائلوں، 3 ڈرون اور 2 ریموٹ کنٹرول کشتیوں سے نشانہ بنایا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے امریکا جانے سے ایک روز پہلے اپنے بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ امریکی صدر غزہ کے لیے جنگ بندی معاہدے اور اسرائیلی قیدیوں کی رہائی کرانے میں ضرور مددگار ثابت ہوں گے‘ نیز غزہ سے حماس کے خطرے کو ختم کرنے میں بھی کردار ادا کریں گے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز واشنگٹن روانہ ہونے سے پہلے اسرائیلی نشریاتی ادارے کے توسط سے گفتگو کر رہے تھے۔ اسرائیل کی سیکورٹی کابینہ نے بین الاقوامی تنظیموں کو شمالی غزہ میں امدادی سامان تقسیم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی حکام کا دعویٰ ہے کہ فلسطینی تنظیم حماس امداد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے‘ امریکا نے اس نئے انتظام کی حمایت کی، جبکہ اقوام متحدہ نے اس پر تنقید کی ہے۔ اسرائیلی وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلہ ایک سنگین غلطی ہے جو حماس کے مفاد میں جائے گا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے برکس کو دھمکی دیدی۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق برکس تنظیم کی جانب سے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کی مذمت کے بعد ٹرمپ کا بیان سامنے آیا ہے۔ اپنے بیان میں امریکی صدر نے دھمکی دی کہ جو ملک بھی برکس کی امریکا مخالف پالیسیوں پر چلے گا، اُس پر اضافی 10 فیصد ٹیرف عاید کیا جائے گا۔ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ اس پالیسی سے کسی کو رعایت نہیں ملے گی، مختلف ممالک کو ٹیرف سے متعلق خطوط ارسال کر دیے جائیںگے۔اسرائیلی وزیراعظم امریکا کے دورے پر پہنچ چکے ، وہ وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کریں گے۔ترکیہ کی ’انادولو‘ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق فلسطین کے حامی گروپوں نے واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر اسرائیلی وزیر اعظم کے دورے کے خلاف احتجاج کیا ہے۔ مظاہرین نے فلسطینی جھنڈے لہراتے ہوئے فری، فری فلسطین کے نعرے لگائے۔ انہوں نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے، جن پر ’اسرائیل کو ہتھیار دینا بند کرو‘، ’فلسطین زندہ باد‘ اور ’مطلوب: نیتن یاہو‘ تحریر تھا۔ مڈل ایسٹ آئی کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی فوج نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شہر بیت لحم کے قریب واقع گاؤں الدحیشہ میں فلسطینی نیوز ایجنسی معان کے چیف ایڈیٹر ناصر اللحام کو ان کے گھر سے گرفتار کر لیا ہے۔

غزہ، اسرائیلی فوج کے میزائل حملوں اور بمباری میں زخمی ایک بچے کو طبی امداد دی جارہی ہے

 

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کے مطابق اسرائیلی میڈیا کے مطابق اسرائیلی وزیر اسرائیلی فوج فلسطینی شہید نشانہ بنایا اسرائیل نے اسرائیل کی زخمی ہوئے کے دوران زخمی ہو حماس کے کے بعد کے لیے کہا کہ

پڑھیں:

امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل

امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔

ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔

???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.

U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.

Command centers.

Drone storage.

Communication networks.

Coastal surveillance.

Maritime capabilities.

AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6

— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026

ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔

???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT

The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.

CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE

— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ

متعلقہ مضامین

  • غزہ میں اسرائیلی بمباری سے مسجد شہید، قریبی مکانات بھی تباہ
  • ایران میں تعمیر نو کی رفتار پر اسرائیل حیران ہے، وال اسٹریٹ جرنل
  • مغربی کنارے میں اسرائیلی فورسز اور آبادکاروں کا دھاوا، 4 فلسطینی شہید
  • امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
  • امریکا نے ایران پر مسلسل 13 ویں رات بھی فضائی حملے شروع کر دیے، سینٹکام
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • مستونگ: سیشن جج اور گن مین قاتلانہ حملے میں شہید، ایڈیشنل سیشن جج شدید زخمی
  • مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ فائرنگ میں شہید، گن مین بھی جاں بحق
  • برطانیہ؛ 70 ارکانِ کا نئے وزیراعظم کو خط؛ اسرائیل کیخلاف سخت اقدامات کا مطالبہ
  • سعودی عرب ابراہام معاہدوں میں شامل ہوا تو یہ تاریخی پیش رفت ہوگی؛ اسرائیلی وزیراعظم