26 نومبر احتجاج کیس؛ عدالت میں غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری
اشاعت کی تاریخ: 10th, July 2025 GMT
اسلام آ باد:
26 نومبر احتجاج کیس کی سماعت کے دوران عدالت میں غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے گئے۔
انسداددہشت گردی عدالت اسلام آباد میں پی ٹی آئی کارکنوں کے خلاف 26 نومبراحتجاج پر درج مقدمہ کی سماعت جج طاہر عباس سپرا نے کی، جس میں پیش ہونے والے ملزمان کی حاضری کے بعد عدالت نے سماعت ملتوی کردی۔
عدالت نے سماعت کے موقع پر غیر حاضر ملزمان کے وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
دورانِ سماعت پی ٹی آئی کے 77 کارکنان کی حد تک مقدمے کا چالان پیش کیا گیا جب کہ 14 ملزمان عدالت میں پیش ہوئے۔ انسداد دہشت گردی عدالت میں آج ہونے والی سماعت میں سردار محمد مصروف خان ایڈووکیٹ، زاہد بشیر ڈار اور مرتضیٰ طوری پیش ہوئے۔
بعد ازاں عدالت نے کیس کی سماعت 5 ستمبر تک ملتوی کردی۔
واضح رہے کہ پی ٹی آئی کارکنان کیخلاف تھانہ کراچی کمپنی میں مقدمہ درج ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: عدالت میں
پڑھیں:
امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔
دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔
ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔
دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔
انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔
ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔
انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔
دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔