زرداری مستعفی نہیں ہورہے، فیلڈ مارشل نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی، وزیراعظم شہباز شریف
اشاعت کی تاریخ: 12th, July 2025 GMT
وزیراعظم شہباز شریف نے واضح الفاظ میں افواہوں کو مسترد کر دیا ہے جن میں کہا جا رہا تھا کہ صدر آصف علی زرداری کو استعفیٰ دینے کا کہا جا سکتا ہے یا آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر صدر بننے کے خواہش مند ہیں۔
وزیراعظم نے ان قیاس آرائیوں کو ’محض افواہیں‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس میں کوئی صداقت نہیں۔
سینیئر صحافی انصار عباسی کے مطابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے کبھی صدر بننے کی خواہش ظاہر نہیں کی اور نہ ہی حکومت یا اسٹیبلشمنٹ کے کسی حلقے میں ایسا کوئی منصوبہ زیر غور ہے۔
شہباز شریف نے مزید کہا کہ ان کی، صدر زرداری کی اور آرمی چیف کی باہمی عزت اور پاکستان کی ترقی کے مشترکہ مقصد پر مبنی مضبوط شراکت داری ہے۔
وزیر داخلہ محسن نقوی نے بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (سابق ٹوئٹر) پر اس حوالے سے جاری بیان میں ان افواہوں کو ’شرانگیز مہم‘ قرار دیا اور کہا کہ ہم جانتے ہیں کہ اس مہم کے پیچھے کون عناصر ہیں۔
محسن نقوی نے کہا کہ نہ ایسی کوئی بات ہوئی ہے اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز زیر غور ہے کہ صدر کو مستعفی ہونے کا کہا جائے یا آرمی چیف صدر بننے کا ارادہ رکھتے ہوں۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اس افواہ ساز مہم میں بیرونی دشمن عناصر بھی ملوث ہو سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ دشمن قوتوں کے ساتھ مل کر جو مرضی کر لیں، ہم پاکستان کو دوبارہ مضبوط بنانے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے، ان شاء اللہ۔
چیئرمین سینیٹ اور سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے بھی ان خبروں کو جھوٹ اور گمراہ کن معلومات” قرار دے کر مسترد کر دیا۔
حکومت اور اتحادیوں کی جانب سے مشترکہ طور پر ان افواہوں کی تردید سے واضح ہوتا ہے کہ یہ سب خبریں سیاسی مقاصد کے تحت پھیلائی گئی ہیں اور ان کی کوئی حقیقت نہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ
وزیراعظم اجلاس کی صدارت کر رہے ہیں - فوٹو بشکریہ پی آئی ڈیوزیراعظم شہباز شریف نے چین میں بی ٹو بی کانفرنس کے دوران ہوئی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ کیا ہے۔
دورہ چین میں پاک چین بزنس ٹو بزنس کانفرنس کے دوران لیے گئے فیصلوں کی پیشرفت کا جائزہ لینے کیلئے وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت اجلاس ہوا۔ جس میں وفاقی وزرا رانا تنویر، احد چیمہ، احسن اقبال، شزا فاطمہ خواجہ اور متعلقہ حکام شریک ہوئے۔
اس موقع پر وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا تھا کہ پاکستان اور چین کے نجی شعبے کے درمیان کاروباری روابط میں غیر معمولی اضافہ ہوا ہے۔ یہ اضافہ دونوں ممالک کی اقتصادی شراکت داری کے نئے دور کا آغاز ہے۔
اسلام آباد پاکستان اور چین نے سرمایہ کاری، زراعت...
انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ صنعتی، زرعی اور تکنیکی تعاون سے برآمدات بڑھنے اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے۔ ہانگژو بی ٹو بی کانفرنس میں ایم اویوز کو جلد باقاعدہ معاہدوں اور مشترکہ منصوبوں میں تبدیل کیا جائے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ چین کی اکیڈمی آف ایگریکلچرل سائنسز اور پاکستان ایگریکلچرل ریسرچ کونسل کے درمیان تعاون کو عملی جامہ پہنایا جائے۔ پاک چین مشترکہ منصوبوں سے پاکستان کے زرعی شعبے میں انقلابی تبدیلی لائی جاسکیں گی۔
اجلاس کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ ہانگژو میں 24 مئی کو پاکستان چین بی ٹو بی کانفرنس میں 123 پاکستانی اور 436 چینی کمپنیوں نے شرکت کی۔ کانفرنس کے دوران تقریباً 7.54 ارب ڈالر مالیت کی 207 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔