ایشین گرلز یوتھ نیٹ بال چیمپیئن شپ میں فتح کے حوالے سے وزیر اعظم شہباز شریف کی مبارکباد معمہ بن گئی، ایونٹ کی آفیشل ٹیم سٹیڈنگ کے مطابق پاکستان ٹورنامنٹ میں چھٹے نمبر کی ٹیم رہی۔

27 جون سے 4 جولائی تک جنوبی کوریا کی میزبانی میں کھیلے گئے ٹورنامنٹ میں سنگا پور کی ٹیم پہلے، ملائشیاء دوسرے، سری لنکا تیسرے، ہانگ کانگ چوتھے، انڈیا پانچویں اور پاکستان چھٹے نمبر پر موجود ہے۔ یہ ٹورنامنٹ ایشین نیٹ بال فیڈ ریشن کے زیر اہتمام کھیلا گیا۔

یہ بھی پڑھیے: پاکستان نے مالدیپ کو شکست دیکر ایشین یوتھ گرلز نیٹ بال چیمپیئن شپ جیت لی

پاکستان نیٹ بال فیڈریشن نے ایونٹ کے فائنل میں پاکستان کی فتح کی باقاعدہ پریس ریلیز جاری کی جس کے مطابق ایونٹ کے فائنل میں پاکستان نے مالدیپ کو 35کے مقابلے میں 60 پوائنٹس سے شکست دی۔ اسی پریس ریلیز  کے مندرجات میں فیڈ ریشن کے چیئرمین، صدر اور سیکریٹری کی طرف سے ٹیم کو مبارکباد بھی پیش کی گئی۔

وزیر اعظم شہباز شریف نے جولائی 4 کو ایکس پوسٹ میں ٹیم کو ایشین گرلز یوتھ نیٹ بال چیمپیئن شپ ‘جیتنے’ پر مبارکباد بھی پیش کی۔

انہوں نے لکھا، ‘پاکستان ایشین یوتھ گرلز نیٹ بال چیمپئن شپ 2025 جیت گیاپوری قوم کے لیے ایک قابل فخر لمحہ اور کھیلوں میں خواتین کے لیے ایک اور عظیم سنگ میل! پورے ٹورنامنٹ میں ناقابل شکست رہنے کی خصوصی تعریف! بہت اچھاکھیلا۔’

یہ بھی پڑھیے: بھارتی ویزا نہ ملنے پر قومی خواتین نیٹ بال ٹیم ایشین چیمپیئن شپ میں شرکت سے محروم

وزیر اعظم شہباز شریف کی پوسٹ کو ایکس نے مینشن کیا اور اس پر کمیونٹی نوٹ جاری کیا جس کے مطابق ‘پاکستان دراصل چھٹے نمبر پر رہا۔ ٹورنامنٹ 2 ڈویژن یعنی کپ اور پلیٹ میں منعقد ہوا۔ پاکستان پلیٹ ڈویژن میں تھا جو چیمپئن شپ  کا حصہ ہی نہیں تھا۔ اس حوالے سے وی نیوز نے پاکستان نیٹ بال فیڈ ریشن کے چیئرمین مدثر آرائیں سے جاننے کی کوشش کی کہ یہ معمہ کیا ہے اور چھٹے نمبر پر موجود پاکستان کے فاتح رہنے کی پریس ریلیز کیوں جاری کی گئی۔

مدثر آرائیں نے بتایا کہ جونیئر سطح پر کھیلا جانا والا ٹورنامنٹ 2 پول میں تقسیم تھا، جس میں کپ ڈویژن یا کپ پول اور پلیٹ ڈویژن یا پلیٹ پول شامل ہیں۔ پاکستان نے ٹورنامنٹ کے پلیٹ ڈویژن میں شرکت کی اور ناقابل شکست رہتے ہوئے فائنل کھیلا اور ٹرافی جیتی۔ پلیٹ ڈویژن کو کپ ڈویژن کا کوالیفائنگ راؤنڈ بھی کہا جا سکتا ہے کیوں کہ اس پول کی فاتح ٹیم اگلے سال کپ ڈویژن کھیلنے کی اہل ہوتی ہے۔

مدثر آرائیں کے مطابق پاکستان آئندہ سال کپ ڈویژن کھیلے گا۔ انہوں نے اس بات سے لاعلمی کا اظہار کیا کہ فیڈ ریشن کی طرف سے پریس ریلیز میں کوئی غلط بیانی کی گئی ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

رینکنگ کھیل مبارک باد نیٹ بال.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: کھیل نیٹ بال نیٹ بال چیمپیئن شپ پریس ریلیز چھٹے نمبر کے مطابق فیڈ ریشن

پڑھیں:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیوں میں اضافے پر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو سخت تنبیہ کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مزید حملے نہ صرف خطے میں کشیدگی بڑھا سکتے ہیں بلکہ اسرائیل کو عالمی سطح پر مزید تنہائی کا شکار بھی کر سکتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: لبنان جنگ بندی پراتفاق ہونے کے بعد امریکا، ایران مذاکرات دوبارہ تیز رفتاری سے شروع ہو گئے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کا اعلان

امریکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پیر کو دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک گفتگو خاصی کشیدہ رہی جس میں ٹرمپ نے لبنان میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور بیروت میں ممکنہ حملوں کے منصوبوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔

امریکی صدر نے نیتن یاہو کو باور کرایا کہ بیروت پر حملہ خطے میں حالات کو مزید خراب کر سکتا ہے، اسرائیل کی بین الاقوامی ساکھ کو نقصان پہنچا سکتا ہے اور ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کو بھی پیچیدگیوں سے دوچار کر سکتا ہے۔

یکم جون کو جنوبی لبنان کے شہر صور میں ایک اسپتال کے قریب اسرائیلی حملے کے مقام پر امدادی کارکن اور ریسکیو اہلکار جمع ہیں۔

یہ گفتگو ایسے وقت میں ہوئی جب ایران نے لبنان میں اسرائیلی کارروائیوں پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے امریکا کے ساتھ جاری مذاکرات سے دستبرداری کا عندیہ دیا ہے۔ ٹرمپ کے قریبی ذرائع کے مطابق امریکی صدر کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو خطے میں استحکام کے لیے جاری سفارتی کوششیں متاثر ہو سکتی ہیں۔

اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسرائیل کے دفاع کے حق کو تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ حزب اللہ کی جانب سے حملوں کا جواب دینا اسرائیل کا حق ہے تاہم انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ موجودہ فوجی ردعمل ضرورت سے زیادہ ہے اور اس کے نتیجے میں شہری ہلاکتوں اور تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مزید پڑھیے: امریکا کی 250ویں سالگرہ کی تقریبات تنازع کا شکار، فنکاروں کی علیحدگی پر صدر ٹرمپ برہم

رپورٹس کے مطابق امریکی صدر نے خاص طور پر ان کارروائیوں پر اعتراض کیا جن میں حزب اللہ کے کمانڈروں کو نشانہ بنانے کے لیے رہائشی عمارتوں پر وسیع بمباری کی جاتی ہے۔ ان کا مؤقف تھا کہ اس طرزِ عمل سے اسرائیل کے خلاف عالمی تنقید میں اضافہ ہو رہا ہے۔

حکام کے مطابق گفتگو کے دوران ٹرمپ نے نیتن یاہو کو خبردار کیا کہ بیروت پر حملے کی منظوری اسرائیل کو مزید عالمی تنہائی کی طرف دھکیل سکتی ہے اور اتحادی ممالک میں بھی تشویش پیدا کر سکتی ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ اس سخت مؤقف کے بعد اسرائیل نے بیروت میں بعض اہداف پر مجوزہ حملوں کا منصوبہ مؤخر کر دیا۔ بعد ازاں ایک اسرائیلی عہدیدار نے بھی اشارہ دیا کہ فی الحال بیروت پر حملے کا کوئی فوری منصوبہ نہیں تاہم جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں جاری رہیں گی۔

ٹرمپ سے گفتگو کے بعد جاری بیان میں نیتن یاہو نے کہا کہ اگر حزب اللہ کی جانب سے حملے جاری رہے تو بیروت میں اہداف کو نشانہ بنانے کا آپشن بدستور موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیل اپنی سلامتی کے خلاف خطرات کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گا۔

مزید پڑھیں: امریکی صدر ٹرمپ کا طبی معائنہ: کام کے لیے ِفٹ قرار، صحت بہترین، وزن کم کرنے کا مشورہ

تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ ٹرمپ اور نیتن یاہو ایران سمیت کئی علاقائی معاملات پر قریبی رابطے میں رہے ہیں تاہم لبنان کے معاملے پر حالیہ اختلافات دونوں رہنماؤں کے درمیان بڑھتے ہوئے مؤقف کے فرق کی نشاندہی کرتے ہیں۔

صدر ٹرمپ کی تشویش کی ایک بڑی وجہ ایران کے ساتھ جاری مذاکرات ہیں جنہیں امریکی انتظامیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے کی وسیع تر حکمت عملی کا حصہ سمجھتی ہے۔

ٹیلیفونک گفتگو کے کچھ ہی دیر بعد ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات تیزی سے آگے بڑھ رہے ہیں تاہم امریکی حکام کا ماننا ہے کہ لبنان کی صورتحال ان مذاکرات کے مستقبل پر براہِ راست اثر انداز ہو سکتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ صورتحال امریکا کے لیے ایک نازک توازن کی عکاسی کرتی ہے جہاں ایک جانب واشنگٹن اسرائیل کی سلامتی کی حمایت جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری جانب وہ خطے میں وسیع جنگ کے خدشات کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششوں کو بھی آگے بڑھا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیے: امریکا ایران ممکنہ معاہدہ: نیتن یاہو کی برسوں پر محیط ایران پالیسی کو بڑا دھچکا لگنے کا خدشہ

جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور ایران کے ساتھ مذاکرات کے تناظر میں آنے والے ہفتے مشرقِ وسطیٰ کی سلامتی اور علاقائی سفارت کاری کے لیے انتہائی اہم قرار دیے جا رہے ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ٹرمپ نیتن یاہو پر برہم لبنان پر اسرائیل کے حملے لبنان جنگ

متعلقہ مضامین

  • ایکس نے ’ری ایکٹ ود ویڈیو‘ فیچر متعارف کرا دیا، یہ کام کیسے کرتا ہے؟
  • کفایت شعاری اقدامات میں بڑا ریلیف ؛ مارکیٹوں کے اوقات کار میں توسیع
  • صدر مملکت ، وزیر اعظم وفاقی وزیر داخلہ اور وزیر اعلیٰ سندھ  کا بھارتی سپانسرڈ دہشتگردوں کے خلاف آپریشنز پر سیکورٹی فورسز کی ستائش 
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اسرائیلی حملوں پر برہم، نیتن یاہو کو سخت پیغام
  • بجلی صارفین کے لیے ریلیف کا اعلان، پاور ڈویژن نے عوام کو خوشخبری سنا دی
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • وزیر ریلوے کی اطالوی قومی دن کے موقع پر اٹلی کی حکومت اور عوام کو مبارکباد
  • صدر زرداری کی اٹلی کے صدر ور عوام کو یومِ جمہوریہ پر مبارکباد
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف