عامر خان کی سابقہ اہلیہ کرن راؤ کی فلم ‘دھو بی گھاٹ’ کے بعد طویل تاخیر کیوں ہوئی؟ اداکار نے بتا دیا
اشاعت کی تاریخ: 15th, September 2025 GMT
عامر خان نے حال ہی میں کرن راؤ کی فلموں ‘دھو بی گھاٹ’ اور’ لاپتہ لیڈیز’ کے درمیان طویل وقفے کی اصل وجہ بیان کی ہے۔
ایک انٹرویو میں اداکار و پروڈیوسر نے بتایا کہ یہ 10 سال کا وقفہ زیادہ تر ان کے بیٹے آزاد راؤ خان کی وجہ سے تھا۔ عامر خان نے کہا کہ دھو بی گھاٹ کو وہ کبھی بھی مین اسٹریم فلم نہیں سمجھتے تھے۔ ان کے مطابق، ’یہ ایک مخصوص ذوق رکھنے والے ناظرین کے لیے فلم تھی، کرن نے اسے پوری ایمانداری سے بنایا اور اسے تجارتی بنانے کی کوشش نہیں کی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ فلم نے پھر بھی کچھ کمائی کی۔
یہ بھی پڑھیے: فیصل خان کا بالی ووڈ اسٹار عامر خان پر غیر ازدواجی تعلق اور ناجائز بچے کا الزام
انہوں نے بتایا کہ کرن میں ہمیشہ ’کمرشل کوالٹی‘ موجود تھی جسے وہ استعمال نہیں کر رہی تھیں۔ ’میں نے انہیں دھو بی گھاٹ کے فوراً بعد کہا تھا کہ آپ ایک بہترین ڈائریکٹر ہیں، آپ جذبات اور اداکاری کو سمجھتی ہیں۔ آپ کو ایک ایسا موضوع لینا چاہیے جو زیادہ مین اسٹریم ہو۔‘
عامر کے مطابق اصل تاخیر ماں کے جذبے کی وجہ سے ہوئی۔ ’کرن نے فلم اس لیے نہیں بنائی کیونکہ ہمارا بیٹا آزاد ہوا تھا اور ان کا پہلا جذبہ آزاد ہی تھا۔ وہ جانتی تھیں کہ اگر فلم شروع کریں گی تو درمیان میں چھوڑنا پڑے گا، اس لیے انہوں نے اس وقت تک فلم نہیں بنائی جب تک آزاد اس عمر کو نہ پہنچ گیا کہ وہ سکون سے فلم پر کام کر سکیں۔‘
دلچسپ بات یہ ہے کہ ‘لاپتہ لیڈیز’ کا اسکرپٹ ایک مقابلے کے ذریعے سامنے آیا۔ عامر نے بتایا کہ جب میں نے اسکرپٹ پڑھا تو یہ مجھے بہت کمرشل اور متاثرکن لگا۔ میں نے کرن سے کہا کہ یہ وہی ہے جس کی ہم تلاش کر رہے تھے۔
عامر خان نے کرن راؤ کی بطور ہدایتکارہ تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ دھو بی گھاٹ کو دوبارہ دیکھیں تو یاسمین کا کردار اور اس کی ویڈیوز کا ٹریک کتنا جذباتی اور پرکشش ہے۔ یہ چھوٹی چھوٹی چیزیں ایک ہدایتکار کی صلاحیت دکھاتی ہیں۔ کرن کی اصل طاقت ایمانداری ہے اور لاپتہ لیڈیز میں جتنی زیادہ ایمانداری تھی، ڈراما اتنا ہی بڑھ گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: کہا کہ
پڑھیں:
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کی بطور فور سٹار جنرل ترقی، کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر
لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی گئی۔وزیراعظم دفتر کے مطابق وزیراعظم نے لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو فور سٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دے دی، لیفٹیننٹ جنرل عامر رضا کو کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کر دیا گیا، وہ چیف آف جنرل سٹاف کے طور پر ذمہ داریاں انجام دے رہے تھے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جنرل عامر رضا، ہلال امتیاز ملٹری، ستارہ بسالت کو ان کی ترقی اور تقرری پر مبارکباد دی اور اس اہم ذمہ داری کی انجام دہی کیلئے جنرل عامر رضا کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔جنرل عامر رضا نے 1988 میں کمیشن پاس کیا، انہوں نے کمانڈ اینڈ سٹاف کالج کوئٹہ اور نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اسلام آباد سے گریجویشن کی، اس کے علاوہ وہ یونیورسٹی آف نوٹنگھم سے بین الاقوامی تعلقات کی ڈگری بھی حاصل کر چکے ہیں۔جنرل عامر رضا کو جنوری 2025 میں چیف آف جنرل سٹاف جی ایچ کیو تعینات کیا گیا تھا، اس کے علاوہ وہ کور کمانڈر لاہور اور چیئرمین ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا کے طور پر فرائض انجام دے چکے ہیں۔خیال رہے کہ پاکستان آرمی، ایئرفورس اور نیوی (ترمیمی) بل 2025 کی منظوری کے بعد کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کا عہدہ متعارف کرایا گیا، اسی قانون سازی کے تحت فیلڈ مارشل عاصم منیر کو چیف آف ڈیفنس فورسز مقرر کیا گیا۔نیا کمان ڈھانچہ چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی (سی جے سی ایس سی) کے عہدے کے خاتمے کے بعد تشکیل دیا گیا، جنرل شمشاد مرزا اس عہدے پر خدمات انجام دینے والے آخری افسر تھے، جن کے بعد یہ منصب ختم کر دیا گیا۔ترمیم شدہ قانون کے مطابق وزیراعظم کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ پاک فوج کے حاضر سروس جنرلز میں سے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا تقرر کریں، یہ تقرری چیف آف آرمی سٹاف کی سفارش پر تین سالہ مدت کے لیے کی جائے گی، جبکہ چیف آف آرمی سٹاف ہی چیف آف ڈیفنس فورسز کا منصب سنبھالیں گے۔