اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔

نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھاکہ ہم کسی حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، علی امین گنڈاپور کے حوالے سے ہمارے تحفظات رہے ہیں، وہ نامناسب زبان استعمال کرتے ہیں اور ان کا رویہ بھی نامناسب ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھاکہ جے یو آئی میں علی امین گنڈاپورکےلیے اظہارپسندیدگی نہیں ہے، اگرپی ٹی آئی علی امین کوبطور وزیراعلیٰ ہٹاکرکسی اورکو لاتی ہے تو اس کا خیرمقدم کریں گے، مولانا فضل الرحمان کے پی ٹی آئی میں اندرونی تبدیلی سے متعلق آج کے بیان کا مطلب بھی یہی تھا۔

کامران مرتضیٰ کا کہنا تھاکہ علی امین کو ہٹانے یا نہ ہٹانے سے متعلق فیصلہ پی ٹی آئی کو کرنا ہےیہ اس کا استحقاق ہے، پی ٹی آئی کے ساتھ اکٹھے چلنا یا نہ چلنا یہ جے یوآئی کا استحقاق ہے، فیصل کریم کنڈی کا تعلق بھی ڈی آئی خان سے ہے، ہم ان کا احترام کرتے ہیں اور وہ ہمارا کرتے ہیں۔

الیکشن لڑنے یا ایک حلقے سے تعلق کی وجہ سے کوئی ایک شخص اچھا یا برا نہیں ہوتا، ایک دوسرے کو عزت دینی چاہیے باقی سیاسی معاملات توسب کے اپنے ہوتے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں جے یو آئی رہنما کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کوہم کہہ چکے ہیں کہ کسی فرد کےلیے تحریک نہیں چلائی جاتی، تحریک ملک میں قانون کے نفاذ کےلیے ہوتی ہے، پی ٹی آئی کے مقاصد قومی ہوتے تو دیگرجماعتیں بھی شامل ہوجاتیں۔

خیال رہے کہ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میری تجویز ہو گی صوبے میں تبدیلی آئے اور تبدیلی آئے تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سے ہی آئے۔

آج بروز اتوار13جولائی 2025موسم کی صورتحال جانئے

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Ausaf

کلیدی لفظ: کہنا تھاکہ پی ٹی ا ئی علی امین

پڑھیں:

امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا

کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی ابھیجیت دپکے نے بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی میں 6 جون کو احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق ابھیجیت دپکے نے کہا ہے کہ وہ 6 جون کو بھارت واپس آ کر دہلی کے جنتر منتر پر پرامن احتجاج کا آغاز کریں گے۔ ان کا مؤقف ہے کہ ملک میں مختلف امتحانی تنازعات کے باعث طلبہ کا مستقبل متاثر ہو رہا ہے، جس پر فوری طور پر ذمے داری طے کی جانی چاہیے۔

دپکے نے مطالبہ کیا ہے کہ نیٹ یو جی پیپر لیک، سی بی ایس ای، سی یو ای ٹی اور ایس ایس سی جی ڈی سمیت مختلف امتحانی بے ضابطگیوں کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے مرکزی وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان اپنے عہدے سے استعفیٰ دیں۔

ان کا دعویٰ ہے کہ امتحانی نظام میں ہونے والی مبینہ بے ضابطگیوں سے ایک کروڑ سے زائد طلبا متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے ایک ویڈیو پیغام میں طلبا، نوجوانوں اور اپنے حامیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ 6 جون کو دہلی میں ان کے احتجاج میں شریک ہوں۔

دپکے کے مطابق پیپر لیک اور دیگر تنازعات کے باعث طلبا شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوئے، کئی نوجوانوں کی محنت ضائع ہوئی اور بعض افسوسناک واقعات میں خودکشی جیسے سنگین نتائج بھی سامنے آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں ذمے داروں کا تعین ناگزیر ہو چکا ہے۔

انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ وزیر تعلیم کے استعفے کے مطالبے پر اب تک 8 لاکھ سے زائد افراد دستخط کر چکے ہیں جبکہ لکھنؤ، جے پور، دہلی اور مہاراشٹر سمیت مختلف شہروں میں پہلے ہی احتجاجی مظاہرے کیے جا چکے ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ مسلسل ناکامیوں کے باوجود اگر احتساب نہ کیا گیا تو عوامی اعتماد مزید متاثر ہوگا اور طلبا بار بار نقصان اٹھاتے رہیں گے، جبکہ متعلقہ ادارے کسی مؤثر کارروائی سے گریز کر رہے ہیں۔

انہوں نے اعلان کیا کہ وہ دہلی پہنچ کر جنتر منتر پر احتجاج کی اجازت کے لیے حکام سے رابطہ کریں گے اور یہ احتجاج مکمل طور پر پرامن اور آئینی دائرے میں ہوگا۔

دپکے نے یہ بھی کہا کہ انہیں امریکا میں ملازمت کی پیشکش ہوئی تھی، تاہم انہوں نے بیرون ملک جانے کے بجائے بھارت واپس آ کر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سرینڈر کا امریکی مطالبہ مسترد، ایران کا حملے کی صورت میں نئے محاذ کھولنے کا اعلان
  • دوسرا ون ڈے:آسٹریلیا کیخلاف پاکستانی ٹیم 190رنز پر آل آئوٹ
  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بی جے پی کو پیپر لیک سے نہیں بلکہ اس ایشو پر بات کرنے سے مسئلہ ہے، اروند کیجریوال
  • تیزگام ایکسپریس کی پاور وین میں آگ لگ گئی
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • دوسرا ون ڈے: پاکستان کا ٹاس جیت کر بولنگ کرنے کا فیصلہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • میئر ظہران ممدانی نے نیویارک میں بچوں کا بیڈ ٹائم کیوں معطل کردیا؟