جے یو آئی نے باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ کے پی علی امین گنڈاپور کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
اسلام آباد(نیوز ڈیسک)جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) نے باضابطہ طور پر وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کی تبدیلی کا مطالبہ کردیا۔
نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے جے یو آئی کے رہنما سینیٹر کامران مرتضیٰ کا کہنا تھاکہ ہم کسی حکومت کو گرانا نہیں چاہتے، علی امین گنڈاپور کے حوالے سے ہمارے تحفظات رہے ہیں، وہ نامناسب زبان استعمال کرتے ہیں اور ان کا رویہ بھی نامناسب ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھاکہ جے یو آئی میں علی امین گنڈاپورکےلیے اظہارپسندیدگی نہیں ہے، اگرپی ٹی آئی علی امین کوبطور وزیراعلیٰ ہٹاکرکسی اورکو لاتی ہے تو اس کا خیرمقدم کریں گے، مولانا فضل الرحمان کے پی ٹی آئی میں اندرونی تبدیلی سے متعلق آج کے بیان کا مطلب بھی یہی تھا۔
کامران مرتضیٰ کا کہنا تھاکہ علی امین کو ہٹانے یا نہ ہٹانے سے متعلق فیصلہ پی ٹی آئی کو کرنا ہےیہ اس کا استحقاق ہے، پی ٹی آئی کے ساتھ اکٹھے چلنا یا نہ چلنا یہ جے یوآئی کا استحقاق ہے، فیصل کریم کنڈی کا تعلق بھی ڈی آئی خان سے ہے، ہم ان کا احترام کرتے ہیں اور وہ ہمارا کرتے ہیں۔
الیکشن لڑنے یا ایک حلقے سے تعلق کی وجہ سے کوئی ایک شخص اچھا یا برا نہیں ہوتا، ایک دوسرے کو عزت دینی چاہیے باقی سیاسی معاملات توسب کے اپنے ہوتے ہیں۔
ایک سوال کے جواب میں جے یو آئی رہنما کہنا تھاکہ پی ٹی آئی کوہم کہہ چکے ہیں کہ کسی فرد کےلیے تحریک نہیں چلائی جاتی، تحریک ملک میں قانون کے نفاذ کےلیے ہوتی ہے، پی ٹی آئی کے مقاصد قومی ہوتے تو دیگرجماعتیں بھی شامل ہوجاتیں۔
خیال رہے کہ پشاور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمان نے کہا ہے کہ میری تجویز ہو گی صوبے میں تبدیلی آئے اور تبدیلی آئے تو پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے اندر سے ہی آئے۔
آج بروز اتوار13جولائی 2025موسم کی صورتحال جانئے
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Ausaf
کلیدی لفظ: کہنا تھاکہ پی ٹی ا ئی علی امین
پڑھیں:
کوئٹہ: سرکاری دستاویزات میں شہریوں کو غیرقانونی سہولت دینے والے 14 ایجنٹ گرفتار
فیڈرل انویسٹی گیشن ایجنسی (ایف آئی اے) بلوچستان نے کوئٹہ شہر میں مختلف وفاقی اداروں کے مبینہ ایجنٹس کے خلاف بڑے پیمانے پر کریک ڈاؤن کرتے ہوئے 14 افراد کو گرفتار کرلیا۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے بلوچستان بہرام مندوخیل کے مطابق کارروائی کے دوران نادرا، سوئی سدرن گیس کمپنی، پاسپورٹ آفس اور میٹروپولیٹن کارپوریشن سے متعلق مبینہ ایجنٹس کو حراست میں لیا گیا ہے، جو شہریوں کو مختلف سرکاری امور میں غیر قانونی سہولت کاری فراہم کرنے میں ملوث تھے۔
انہوں نے بتایا کہ گرفتار ملزمان مبینہ طور پر برتھ سرٹیفکیٹس، قومی شناختی کارڈز، پاسپورٹس اور دیگر سرکاری دستاویزات کے حصول کے لیے غیر قانونی طریقے سے سہولت فراہم کرتے اور شہریوں سے رقوم وصول کرتے تھے۔
ڈائریکٹر ایف آئی اے کا کہنا تھا کہ گرفتار ملزمان سے تفتیش جاری ہے اور ابتدائی تحقیقات کی روشنی میں ان کے نیٹ ورک میں شامل دیگر افراد کی نشاندہی کی جا رہی ہے۔ امید ہے کہ مزید گرفتاریاں بھی عمل میں آئیں گی۔
بہرام مندوخیل نے کہا کہ ایف آئی اے سرکاری اداروں میں بدعنوانی، جعلسازی اور غیر قانونی سہولت کاری کے خاتمے کے لیے کارروائیاں جاری رکھے گی اور قانون شکنی میں ملوث عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کی جائے گی۔