ویب ڈیسک:وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈا پور نے کہا ہے کہ بانی تبدیلی کے لیے ہمیشہ 90دن کا کہا کرتے تھے، آج سے وہ 90دن شروع ہوگئے ہیں بانی کی رہائی کے لیے تحریک شروع کی جا رہی ہے، پورے پاکستان میں ہر گلی، کوچے، قصبے اور شہر سے لوگوں کو اکٹھا کریں گے اور پھر فیصلہ کریں گے کہ ہم نے مقامی سطح پر احتجاج کرنا ہے یا ایک جگہ جمع ہونا ہے۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے علی امین گنڈاپور نے کہا  کہ آج قوم میں شعور آگیا ہے، 8فروری کو ثابت ہو اکہ قوم جاگ گئی ہے، بانی پی ٹی آئی کے کیسز میں کچھ ہے ہی نہیں، بانی کے کیسز نہیں چلائے جارہے کیونکہ ان میں کچھ ہے ہی نہیں، دنیا کی سیاسی تاریخ میں اتنا ظلم وجبر نہیں ہوا جتنا پی ٹی آئی کے ساتھ ہوا، ہمارے خلاف مقدمات میں انہیں کچھ نہیں ملا، ریاستی ادارے اس کام پر لگ گئے ہیں جو ان کا کام نہیں، آپ اس ملک کو کہاں لے کر جانا چاہتے ہیں؟

 مزید بارشیں،مون سون سے متعلق بڑی پیشگوئی  

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ میں خود ایک فوجی کا بیٹا اوربھائی ہوں، ہم نے اپنے ادارے خود ٹھیک کرنے ہیں، آئیں مل کر بیٹھیں اپنی غلطی کو مانیں اورسب ٹھیک کریں، آج بانی پی ٹی آئی کی بیوی کو بھی جیل میں ڈالا ہوا ہے، بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے پاکستان کی خاطر مذاکرات کرنے کے لیے تیار ہوں۔

علی امین نے کہا کہ یہ سیاسی پارٹیاں دوسروں کے کندھوں پر بیٹھ کر آئی ہوئی ہیں، عوام ان سیاسی پارٹیوں کو مسترد کرچکے ہیں، یہ سیاسی پارٹیاں عوام میں نکل کر تو دیکھیں، اس ملک کا قانون سب کے لیے برابر ہونا چاہئے، آپ کو جوابدہ ہونا پڑے گا۔

لائن آف کنٹرول کے دونوں جانب کشمیری آج یومِ شہدائے کشمیر منا رہے ہیں

 کے پی کے وزیراعلیٰ نے یہ بھی کہا کہ بانی پی ٹی آئی کے وقت دہشت گردی کیوں نہیں تھی؟ پی ڈی ایم ون آئی وہی حالات بن گئے، پی ڈی ایم ٹو آئی تو پہلے سے بھی بدتر حالات ہوگئے، مجھ پر 26نومبر کی 56ایف آئی آرز درج ہوئی ہیں، آپ دلائل سے بات کریں ،ثابت کریں کہ میں نے ملک سے غداری کی ہے تو چوک پر لٹکادیں۔

انہوں نے کہا کہ اپنی ذات اورانا سے نکلیں اور قوم کیلئے سوچیں، بانی نے پہلے بھی کہا آئیں بیٹھیں میرٹ اوردلائل پر بات کریں، ہماری گزارش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، بانی نے ہمیں ایک چیز سکھائی تھی کہ سیاست کیلئے نہیں جنریشن کیلئے کام کرنا ہے۔

اسرائیل میں یرغمالیوں کی رہائی کیلئے بہت بڑااحتجاج

وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ڈیڈ لاک کہیں بھی نہیں ہوسکتا، وقت ضائع کرکے مقاصد حاصل کیے جارہے ہیں، ہماری مخصوص نشستیں بھی لے لی گئیں، ان کی ٹائم لائن پر چلنا ہمیں سوٹ نہیں کررہا، میری یہ تربیت ہے کہ بانی پی ٹی اورپاکستان کے لیے کھڑا ہوں گا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ کہتے ہیں میں کسی سے ملا ہوں، میں پاکستان کے لیے سب سے ملا ہوا ہوں، میرا لیڈر اور اس کی بیوی جیل میں ہے، بانی پی ٹی آئی کی رہائی نہایت ضروری ہے، بانی ہی پاکستان کے مسائل حل کرا سکتے ہیں۔  

لاہور سےتحریک شروع ، اب اپنے علاقوں میں پمفلٹ بانٹو، علی امین گنڈاپور

 انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ہم کل لاہور میں جلسہ کرنے کیلئے اجازت مانگیں گے، اجازت دی جائے، ہم پرامن آئے ہیں اورپرامن انداز سے ہی واپس جارہے ہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: City 42

کلیدی لفظ: بانی پی ٹی ا ئی علی امین کی رہائی کہا کہ نے کہا کے لیے

پڑھیں:

سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان

پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔

دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا  اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔

متعلقہ مضامین

  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • ستاروں کی روشنی میں آپ کا آج (جمعے) کا دن کیسا رہے گا ؟
  • ضم اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کریں: گورنر خیبر پی کے کا وزیراعظم کو خط
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • نواز شریف کل میرپور میں انتخابی جلسے سے خطاب کریں گے
  • اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ اجلاس کیلئے کرغزستان پہنچ گئے
  • گل فیروزہ، سدرہ امین اور نشرہ سندھو کی شاندار کارکردگی، پاکستان نے سری لنکا کیخلاف پہلا پہلے ون ڈے جیت لیا
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان