بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے بات چیت فیصلہ سازوں سے ہوگی: علی امین گنڈاپور
اشاعت کی تاریخ: 13th, July 2025 GMT
تصویر،جیو نیوز اسکرین گریب
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے کہا ہے کہ بانی پی ٹی آئی نے کہا ہے بات چیت فیصلہ سازوں سے ہوگی جن کے پاس اختیار ہے۔
لاہور میں علی امین گنڈاپور نے پی ٹی آئی کے رہنماؤں کے ساتھ پریس کانفرنس میں کہا کہ ہم نے کوئی غلطی کی ہے تو اس کی سزا بھگتنے کو تیار ہیں لیکن غلطی کرنے والے تمام لوگوں کو سزا ملنی چاہیے۔
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہماری گزارش کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ہم پورے ملک میں اپنی تحریک کا آغاز کر رہے ہیں، ہم 90 روز میں آر یا پار کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ مولانا فضل الرحمان کہتے ہیں ہمارا جعلی مینڈیٹ ہے، وہ خود فارم 47 سے جیت کر آئے، وہ اندر سے ابھی بھی ملے ہوئے ہیں۔
حافظ حمداللّٰہ کا کہنا ہے کہ آج بھی آپ کی حکومت دولت اور طاقت کے بل بوتے پر کھڑی ہے، آپ کی اپنی پارٹی میں آپ کی حکومت کے خلاف آوازیں اٹھ رہی ہیں
علی امین گنڈاپور نے کہا کہ ہمیں لاہور میں جلسہ کرنے کی اجازت دی جائے، دیکھیں گے آئندہ ہمیں کیا لائحہ عمل طے کرنا ہے، ان کی ٹائم لائن پر چلنا ہمیں قبول نہیں۔
وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا نے کہا کہ ہم پاکستانی عوام کی جنگ لڑ رہے ہیں، ہمارے خلاف دوبارہ فسطائی مہم چلائی جارہی ہے، ہم سے احتجاج کا آئینی حق بھی چھینا جارہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے خلاف ابھی بھی کارروائیاں جاری ہیں، کسی سیاسی جماعت کے ساتھ اتنا ظلم نہیں ہوا جتنا ہمارے ساتھ ہوا، ہمارے خلاف مقدمات میں انہیں کچھ نہیں ملا، بانی پی ٹی آئی کے خلاف کوئی کیس ہے ہی نہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور نے نے کہا کہ ہم پی ٹی آئی
پڑھیں:
سپریم کورٹ: 5 سالہ بچی سے زیادتی و قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار، فیصلہ سنا دیا گیا
فائل فوٹو
سپریم کورٹ نے 5 سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے مجرم کی اپیل مسترد کرتے ہوئے فیصلے میں کہا کہ رضا کارانہ نشہ جرم کا دفاع نہیں بن سکتا۔
سپریم کورٹ کے جسٹس ہاشم خان کاکڑ نے فیصلہ تحریر کیا اور اپیل خارج کر دی گئی، تین رکنی بینچ میں جسٹس صلاح الدین پنہور اور جسٹس اشتیاق ابراہیم شامل تھے۔
عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ طور پر نشہ کرنے والا شخص جرم سے استثنیٰ کا دعویٰ نہیں کر سکتا، اپنی مرضی سے شراب یا نشہ آور چیز استعمال کرنے والا مجرمانہ ذمہ داری سے بچنے کا حق نہیں رکھتا، جرم سے استثنیٰ صرف اس صورت میں ممکن ہے جب کسی شخص کو اس کی مرضی کے خلاف یا لاعلمی میں نشہ دیا گیا ہو۔
سپریم کورٹ نے ٹرائل کورٹ اور ہائیکورٹ کی جانب سے دی گئی سزائے موت برقرار رکھی، مجرم کے وکیل نے نشے کی حالت کو بنیاد بنا کر سزائے موت عمر قید میں تبدیل کرنے کی استدعا کی، مجرم نے خود تسلیم کیا کہ اس نے اپنی مرضی سے شراب پی تھی۔
فیصلے میں کہا گیا کہ رضاکارانہ نشہ مجرمانہ عمل کے دفاع کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا، مجرم نے بے دردی سے کمسن بچی کو زیادتی کے بعد قتل کیا، جرم انتہائی سنگین نوعیت کا ہے۔