data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

پشاور:عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کی سابق رہنما اور بلور خاندان کی معروف سیاسی شخصیت ثمر ہارون بلور نے کہا ہےکہ  مسلم لیگ ن خیبرپختونخوا کے صدر امیر مقام نے ایک سال قبل انہیں شمولیت کی دعوت دی تھی مگر ذاتی اور گھریلو ذمہ داریوں کے باعث فیصلہ مؤخر کیا تھا۔

مسلم لیگ (ن) میں باضابطہ شمولیت اختیار کرنے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئےثمر ہارون بلور نے کہا کہ اس بار جب امیر مقام نے دوبارہ رابطہ کیا تو فیصلہ لینا آسان تھا کیونکہ ان کے والدِ نسبتی غلام بلور اب عملی سیاست سے کنارہ کش ہو چکے ہیں،جب پارٹی میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تو یہ قدم میں نے چھپ کر نہیں بلکہ غلام بلور صاحب اور دیگر قریبی رفقا کو اعتماد میں لے کر اٹھایا۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا کے عوام کو جب وفاق یا پنجاب کے ترقی یافتہ علاقوں کا دورہ کرنے کا موقع ملتا ہے تو انہیں یہ محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کسی اور دنیا میں ہیں،مجھے لگتا ہے کہ وفاق اور خیبرپختونخوا کے درمیان ایک بڑا خلا ہے، جسے میں پُر کرنا چاہتی ہوں، میں صرف مسائل کی نشاندہی نہیں بلکہ ان کا حل بھی لانا چاہتی ہوں۔

انہوں نے واضح کیا کہ نہ تو مسلم لیگ ن کی قیادت نے ان سے کسی وعدے کا تقاضا کیا اور نہ ہی انہوں نے کوئی شرط رکھی، بلکہ صرف عوام اور پارٹی کے لیے مخلصانہ کام کرنے پر اتفاق ہوا۔

سابق ایم پی اے ثمر ہارون بلور نے تحریک انصاف ( پی ٹی آئی ) کے سیاسی ماحول کو اپنی سوچ سے مطابقت نہ رکھنے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں نہیں لگتا کہ وہ پی ٹی آئی میں رہ کر عوام کی خدمت کر سکتیں۔

 انہوں نے پیپلزپارٹی کی قیادت کو بھی قابلِ احترام قرار دیا، مگر ساتھ ہی کہا کہ ’’انسان کو وہاں جانا چاہیے جہاں اسے لگے کہ اس کی بات سنی جائے گی۔

ثمر ہارون نے اے این پی سے علیحدگی کی وجوہات بیان کرتے ہوئے کہا کہ جب وہ پارٹی میں کسی معاملے پر اپنی رائے دینا چاہتی تھیں تو وہ رائے بعض اوقات متنازعہ بن جاتی تھی، کیونکہ ان کی سوچ دوسروں سے مختلف ہوتی تھی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ

پڑھیں:

نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا

نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔
 

متعلقہ مضامین

  • گل پلازہ انکوائری رپورٹ منظرِ عام پر نہ لانے کا فیصلہ، شفافیت اور تفتیشی عمل پر نئی بحث
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • جرمنی کا بڑا فیصلہ، یکم اگست سے توسیع شدہ افغان پاسپورٹ تسلیم نہیں کیے جائیں گے
  • تحریک انصاف5 اگست کو کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • دفتری نظم و ضبط کی پابندی کی ہدایت ،نیاسرکلرجاری
  • 5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی