اقوام متحدہ میں اسحاق ڈار کی قیادت میں عالمی تنازعات سے متعلق پرامن حل کی قرارداد منظور
اشاعت کی تاریخ: 22nd, July 2025 GMT
اقوام متحدہ میں اسحاق ڈار کی قیادت میں عالمی تنازعات سے متعلق پرامن حل کی قرارداد منظور WhatsAppFacebookTwitter 0 22 July, 2025 سب نیوز
نیویارک (سب نیوز)اقوام متحدہ میں کثیرالجہتی تنازعات کے پرامن حل کے لیے اہم مذاکرہ ہوا جس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کی، اس موقع پر تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو موثر بنانے والی قرارداد منظور کی گئی، قرارداد نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے پیش کی۔
نیویارک میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کثیرالجہتی اور پیچیدہ عالمی تنازعات کے پرامن حل کے لیے ایک اہم مباحثہ منعقد ہوا، جس کی صدارت پاکستان کے نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کی۔ اس موقع پر پاکستان کی جانب سے پیش کی گئی قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کیا گیا، جس میں تنازعات کے پرامن حل کے طریقہ کار کو موثر بنانے پر زور دیا گیا ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے پاکستان کے کردار کو قابل ستائش قرار دیا اور کہا کہ عالمی تنازعات کا پرامن حل وقت کی اہم ضرورت ہے۔انہوں نے خاص طور پر غزہ اور یوکرین کے معاملات کے جلد از جلد حل کی ضرورت پر زور دیا اور غزہ میں جاری انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور وہاں کے متاثرین کی بھوک و افلاس کی حالت پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔گوتریس نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر شامل تنازعات کی نوعیت بہت پیچیدہ اور جیوپولیٹیکل ہے، لہذا ان پر گہری نظر رکھنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی امن کے لیے بات چیت کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے اور تمام ممبر ممالک کو اس میں فعال کردار ادا کرنا ہوگا۔
نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے اپنے خطاب میں کہا کہ پاکستان اقوام متحدہ کے چارٹر پر مکمل عمل درآمد کے لیے پرعزم ہے اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے عالمی تعاون کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے قرارداد کی منظوری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ عالمی امن سے متعلق آج کا مباحثہ نہایت اہمیت کا حامل ہے۔نائب وزیراعظم اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب کی جانب سے اقوامِ متحدہ کے منتخب سفیروں اور اعلی حکام کے اعزاز میں دیئے گئے استقبالیے میں بھی شرکت کریں گے۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرغیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا، چیئرمین سی ڈی اے کا اعلان غیر قانونی ہاوسنگ اسکیموں کو کسی صورت برداشت نہیں کیا جائیگا، چیئرمین سی ڈی اے کا اعلان پنجاب حکومت کا منشیات کے سدباب کیلئے اہم اقدام، کاونٹر نارکوٹکس فورس قائم عمران خان کے بیٹے کب پاکستان آئیں گے، علیمہ خان نے بتادیا چیف جسٹس یحییٰ آفریدی کا مقدمات کی درجہ بندی میں تاخیر پر تشویش کا اظہار تحریک انصاف کا 5اگست کو مینار پاکستان پر جلسے کا اعلان، اجازت کیلئے درخواست دیدی ضرورت پڑی تو واشنگٹن دوبارہ حملہ کرے گا، ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کو پھر دھمکیCopyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: عالمی تنازعات اقوام متحدہ اسحاق ڈار
پڑھیں:
توشہ خانہ ریکارڈ، وزیراعظم اور اسحاق ڈار کے تحائف کی تفصیلات سامنے آگئیں
اسلام آباد(رضوان عباسی ): توشہ خانہ ریکارڈ میں وزیراعظم شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو اپریل سے جون 2026 کے دوران مختلف غیر ملکی شخصیات اور وفود کی جانب سے ملنے والے سرکاری تحائف کی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
کابینہ ڈویژن کی دستاویزات کے مطابق اس عرصے میں موصول ہونے والے تمام سرکاری تحائف توشہ خانہ قواعد کے تحت کابینہ ڈویژن میں جمع کرا دیے گئے ہیں، جبکہ ان کی مالیت کے تعین (ویلیوایشن) کا عمل تاحال جاری ہے۔
دستاویزات کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف کو مختلف ممالک کے سربراہان، اعلیٰ حکام اور سرکاری وفود کی جانب سے متعدد یادگاری تحائف پیش کیے گئے۔ ان میں شوگر باؤل، گاڑی کا فریم شدہ ماڈل، شیلڈز، قیمتی قلم، کف لنکس، ٹائی، کافی کپ اور واٹر گلاس سیٹ، چائے کے کپ اور ساسرز، آرائشی واز، ایرانی فیروزہ اِنلے دستکاری پر مشتمل پانچ پیس سیٹ، روایتی چینی اسکرول پینٹنگ، چائنا اسپیس اسٹیشن کا ماڈل اور دیگر سووینئرز شامل ہیں۔
اسی طرح نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار کو بھی مختلف ممالک کی جانب سے متعدد سرکاری تحائف دیے گئے، جن میں مصری طرز کا مجسمہ، مسجد نبوی ﷺ کا ماڈل، کف لنکس اور دیگر یادگاری اشیا شامل ہیں۔
دستاویزات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی چیف آف پروٹوکول محمد ارسلان میر کو ایک قیمتی ڈائمنڈ کلیکشن رسٹ واچ بطور سرکاری تحفہ موصول ہوئی، جس کی مالیت کا تعین بھی جاری ہے۔
کابینہ ڈویژن کے مطابق توشہ خانہ ریکارڈ میں شامل تمام تحائف متعلقہ قوانین اور قواعد کے مطابق وصول کیے گئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ویلیوایشن مکمل ہونے کے بعد توشہ خانہ رولز کے مطابق آئندہ کارروائی کی جائے گی۔
سرکاری ذرائع کے مطابق تحائف کی مالیت کا تعین مکمل ہونے کے بعد قواعد کے مطابق یہ فیصلہ کیا جائے گا کہ متعلقہ حکام ان تحائف کو اپنے پاس رکھ سکتے ہیں یا انہیں سرکاری تحویل میں برقرار رکھا جائے گا۔