اگر عورتیں بھی غیرت کے نام پر قتل شروع کردیں تو ایک بھی مرد نہ بچے؛ ہانیہ عامر
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
بلوچستان کے علاقے ڈیگاری میں غیرت کے نام پر کیے گئے دل دہلا دینے والے قتل پر شوبز انڈسٹری کی معروف شخصیات بھی خاموش نہ رہ سکیں۔
اداکارہ ہانیہ عامر اور نعیمہ بٹ نے سوشل میڈیا پر اپنے ردعمل کے ذریعے نہ صرف واقعے کی مذمت کی بلکہ معاشرتی اقدار پر بھی سوالات اٹھا دیے۔
اداکارہ ہانیہ عامر نے انسٹاگرام پر ایک پوسٹ شیئر کی ہے جس میں صرف ایک جملہ لکھا ہوا لیکن اس ایک جملے نے معاشرے کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کردیا ہے۔
ہانیہ عامر نے جو تحریر شیئر کی اس میں لکھا تھا کہ ’’اگر عورتیں غیرت کے نام پر قتل شروع کر دیں تو معاشرے میں ایک بھی مرد زندہ نہ بچے‘‘۔
ہانیہ عامر نے اس عکسی پوسٹ پر کوئی کیپشن نہیں دیا لیکن پیغام بالکل واضح اور پُرتاثیر تھا۔ ان کا اشارہ بلوچستان واقعے کی جانب تھا۔
اداکارہ نعیمہ بٹ نے ڈیگاری واقعے کی تصویر کے ساتھ ایک معنی خیز کیپشن شیئر کیا۔ انھوں نے لکھا کہ ڈرپوک دیکھا ہے؟ وہ دیکھو ہاتھ میں بندوق ہے۔ بہادر دیکھنا ہے؟ وہ دیکھو ہاتھ میں قرآن ہے۔ بس اتنی سی کہانی ہے۔
A post common by NaeemaButt(naima) (@naeemabutt)
سوشل میڈیا صارفین نے ان دونوں کی پوسٹس کی حمایت کرتے ہوئے لکھا کہ معاشرے میں قانون کی عمل داری بے حد ضروری ہے۔
یاد رہے کہ بلوچستان میں پیش آنے والا یہ افسوسناک واقعہ عید الاضحیٰ سے چند روز قبل کا ہے تاہم اس کی ویڈیو اب وائرل ہوئی اور حکام نے ایکشن لیا ہے۔
وائرل ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ چند مسلح افراد خاتون اور مرد کو لاتے ہیں اور کچھ فاصلے پر کھڑا کرکے گولیاں مار دیتے ہیں۔
TagsShowbiz News Urdu.
ذریعہ
ذریعہ: Al Qamar Online
کلیدی لفظ: ہانیہ عامر
پڑھیں:
کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
محکمہ کالج ایجوکیشن سندھ واضح اعلان کے باوجود کراچی میں سرکاری کالجوں میں داخلہ شروع نہیں کرسکا ہے اور کم از کم سوا لاکھ طلبہ انٹر سال اول میں داخلوں کے منتظر ہیں۔
تفصیلات کے مطابق انٹر سال اول میں داخلہ یکم جون سے شروع ہونے تھے اس سلسلے میں 23 مئی کو قومی اخبارات میں اشتہارات جاری کیے گئے تھے جس کے مطابق تمام سرکاری کالجوں میں انٹر سال اول میں نویں جماعت کے نتائج کی بنیاد پر یکم جون سے داخلہ فارم کی رجسٹریشن شروع ہوجانی تھی جبکہ داخلہ فارم رجسٹریشن کی آخری تاریخ 15 جولائی مقرر کی گئی ہے۔
انٹر سال اول میں صرف کراچی کے سرکاری کالجوں میں سوا لاکھ کے قریب طلبہ داخلہ لیتے ہیں جن کے لیے سینٹرلائزڈ ایڈمیشن پالیسی کے تحت 6 مختلف فیکیلٹیز پری انجینئرنگ، پری میڈیکل، کمپیوٹر سائنس ، کامرس ، ہیومینیٹیز اور ہوم اکنامکس میں داخلے دیے جاتے ہیں۔
اس سلسلے میں جب میٹرک کا امتحان دینے والے داخلے کے خواہشمند طلبہ نے www.seccap.dgcs..gos.pk کے پورٹل پر داخلہ رجسٹریشن فارم تک پہنچنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ یہ پورٹل ہی بند ہے۔
ادھر "ایکسپریس" نے اس سلسلے میں ڈائریکٹر جنرل کالجز سندھ پروفیسر زاہد راجپر سے جب اس سلسلے میں رابطہ کیا تو ان کا کہنا تھا کہ تکنیکی وجوہات کی بنا پر پورٹل بند ہے ہماری ٹیکنیکل ٹیم کام کررہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری امید ہے کہ بدھ کی صبح تک پورٹل کھل جائے جس کے بعد طلبہ داخلے کے لیے اپلائی کرسکیں گے۔
ڈی جی کالجز کا یہ بھی کہنا تھا کہ اس بار ہم نے تمام سرکاری کالجوں میں "ڈیس ایبل" کوٹہ مختص کیا ہے تاکہ ایسے طلبہ اس کوٹے کی بنیاد پر اپنے قرب و جوار کے کالجوں میں بھی اپلائی کرسکتے ہیں۔