2025 ایس سی او سولائزیشن ڈائیلاگ کا افتتاح
اشاعت کی تاریخ: 23rd, July 2025 GMT
2025 ایس سی او سولائزیشن ڈائیلاگ کا افتتاح
بیجنگ :شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کا 2025 سولائزیشن ڈائیلاگ چین کے شہر تھیان جن میں شروع ہوا ۔بدھ کے روز چینی میڈ یا کے مطا بق اس ڈائیلاگ کا اہتمام چین کی ریاستی کونسل کے دفتر اطلاعات، چائنا فارن لینگویجز پبلشنگ ایڈمنسریشن اور ایس سی او سیکریٹریٹ نے مشترکہ طور پر کیا۔ شنگھائی تعاون تنظیم کے ممالک کے 300 سے زائد مہمانوں نے فورمز اور سیمینارز کے ذریعے ایس سی او ممالک کے درمیان تہذیبوں کو باہمی طور پر جاننے اور عوام کے درمیان رابطوں کو فروغ دیا۔ اسی روز “شیرڈ ڈیجیٹل سولائزیشن کمیونٹی: چین کا اینشی ایٹو اور شنگھائی تعاون تنظیم کا مستقبل” نامی رپورٹ بھی جاری کی گئی۔ رپورٹ میں ڈیجیٹل تہذیب اور چینی طرز کی جدیدکاری پر توجہ مرکوز کی گئی ہے، اور زیادہ منصفانہ، جامع اور پائیدار عالمی ڈیجیٹل ترقی کے لئے چین کا فارمولہ اور “ایس سی او دانش” فراہم کیا گیا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ایس سی او
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔