گریٹر ڈائیلاگ ضرورت، جب بھی آئین سے تجاوز ہوا مسائل بڑھے: حافظ نعیم
اشاعت کی تاریخ: 25th, July 2025 GMT
لاہور+سرگودھا (خصوصی نامہ نگار+نمائندہ خصوصی +نامہ نگار) جماعت اسلامی پاکستان کے امیر حافظ انجینئر حافظ نعیم الرحمن نے کہا ہے کہ ملکی مسائل کے حل کے لیے گریٹر ڈائیلاگ وقت کی ضرورت ہے۔ آئینی حدود سے جب بھی تجاوز کیا گیا، ملک میں بے چینی بڑھی اور مسائل میں اضافہ ہوا۔ لاہور میں تحریک انصاف کے رہنماء میاں محمد اظہر کے انتقال پر تعزیت کے بعد لیاقت بلوچ کی موجودگی میں سابق وفاقی وزیر حماد اظہر کے ہمراہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ اصولوں کو سامنے رکھنا ہوگا، آئین میں ہر پارٹی، جماعت اور ادارے کے لیے فریم ورک موجود ہے اور سب کو اسی حدود میں رہ کر کام کرنا ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ سب کو سوچنا چاہیے کہ ملک کو اسی طرح چلنے دینا چاہیے یا مسائل کے حل کے لیے مل بیٹھیں۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ میاں اظہر سیاسی تعلق میں وضع داری کے حامل شخصیت تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ میاں اظہر ہمارے بزرگ تھے۔ جماعت کے وفد نے حماد اظہر سے تعزیت کی اور ان کے والد کے انتقال پر دُکھ کا اظہار کیا اور مغفرت کے لیے دعا کی۔دریں اثنا جماعت اسلامی کے امیر حافظ نعیم الرحمن نے سرگودھا آمد پر مرکز جماعت اسلامی میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں مک مکا کی سیاست جاری ہے اور عوام کا استحصال کیا جا رہا ہے۔ ریزرو سیٹوں کو ناجائز طریقے سے ن لیگ، پیپلز پارٹی اور جے یو آئی نے اپنے حق میں استعمال کیا جو کہ آئین اور جمہوریت کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ پی ٹی آئی قیادت نے احتجاج کی بجائے مک مکا کی راہ اختیار کی۔ جماعت اسلامی نے عوام کے درپش مسائل پر مبنی "چارٹر آف ایشوز" مرتب کرنے اور ایک بھرپور عوامی تحریک شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو پورے ملک میں جاری تحریک کا حصہ ہوگی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: حافظ نعیم الرحمن نے کہا جماعت اسلامی کے لیے کہا کہ
پڑھیں:
عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
امریکا ایران جنگ، آبنائے ہرمز کی بندش، مشرقِ وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہازوں پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت نے سابقہ ریکارڈ توڑ دیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ مئی کے بعد پہلی مرتبہ ہے کہ برینٹ خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل کی نفسیاتی حد بھی عبور کر کی گئی جس سے عالمی معیشت، مہنگائی اور توانائی کی فراہمی کے حوالے سے نئے خدشات جنم لے رہے ہیں۔
عالمی معیار کے خام تیل برینٹ کروڈ کی قیمت میں جمعرات کو چھ فیصد سے زیادہ اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے بعد یہ 100 ڈالر فی بیرل سے اوپر چلی گئی کیوں کہ سرمایہ کاروں نے اس خدشے سے خریداری بڑھا دی کہ اگر خطے میں جنگ مزید پھیلی تو عالمی تیل کی سپلائی شدید متاثر ہو سکتی ہے۔
قیمتوں میں اس غیرمعمولی اضافے کی بڑی وجہ یمن کے ایران نواز حوثی گروپ کی جانب سے بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی پر حملے ہیں۔ حوثیوں نے حالیہ دنوں میں سعودی آئل ٹینکروں اور دیگر تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔
بحیرہ احمر اور باب المندب عالمی تجارت کے اہم ترین بحری راستوں میں شمار ہوتے ہیں جہاں سے یورپ، ایشیا اور مشرقِ وسطیٰ کے درمیان بڑی مقدار میں تیل اور تجارتی سامان کی ترسیل ہوتی ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے حملوں کے بعد سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکا حوثیوں کے ساتھ ساتھ ایران کو بھی ان حملوں کا ذمہ دار سمجھتا ہے کیونکہ ان کے بقول حوثی تہران کے حمایت یافتہ گروہ ہیں۔
صدر ٹرمپ نے اپنے بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر بحیرہ احمر میں جہاز رانی پر حملے جاری رہے تو امریکا جواب میں حوثیوں اور ایران دونوں کے خلاف بڑی فوجی سزا دینے سے گریز نہیں کرے گا۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے اوپر برقرار رہتی ہیں تو دنیا بھر میں ایندھن، بجلی اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات میں نمایاں اضافہ ہو سکتا ہے جس سے مہنگائی کی نئی لہر پیدا ہونے کا خدشہ ہے۔
اگر کشیدگی بحیرہ احمر سے بڑھ کر آبنائے ہرمز تک پھیل گئی جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ خام تیل کی ترسیل ہوتی ہے تو عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں مزید بلند ہو سکتی ہیں۔