کیپٹن محمد سرور شہید کا 77 واں یومِ شہادت آج منایا جارہا ہے
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
آئی ایس پی آر نے مسلح افواج کا کیپٹن سرور شہید کو ان کی عظیم قربانی پر خراج عقیدت پیش کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن محمد سرور شہید نشانِ حیدر پانے والے پہلے ہیرو تھے۔
کیپٹن محمد سرور نے 27 جولائی 1948 کو پہلی کشمیر جنگ کے دوران تلپترہ کے مقام پر مادرِ وطن کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔
کیپٹن محمد سرور شہید نے بے مثال جرات، عسکری حکمتِ عملی اور بے لوث فرض شناسی کے ساتھ اپنی قیادت کا مظاہرہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن محمد سرور شہید کی یہ عظیم قربانی جرات و حب الوطنی کی ایک دائمی علامت بن چکی ہے۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج کیپٹن محمد سرور شہید کی لازوال میراث کو سلام پیش کرتی ہیں۔
آئی ایس پی آر کے مطابق کیپٹن محمد سرور شہید کا جذبۂ شجاعت آج بھی نوجوان افسروں اور سپاہیوں کے لیے مشعلِ راہ ہے۔
کیپٹن محمد سرور شہید کی زندگی فرض، عزت اور حتمی قربانی جیسے بنیادی عسکری اقدار کی عملی تصویر تھی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اس پُرعقیدت موقع پر پوری قوم اس بہادر سپوت کو خراجِ تحسین پیش کرتی ہے۔
کیپٹن محمد سرور شہید کی بے مثال قربانی پاکستان کی مسلح افواج کے جذبۂ شہادت اور عسکری اقدار کی بنیاد بنی۔
آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ مسلح افواج وطنِ عزیز کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کے تحفظ کے لیے ہر قیمت پر تیار رہیں گی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق مسلح افواج شہدائے وطن کی عظیم میراث سے طاقت حاصل کرتی رہیں گی جن میں کیپٹن محمد سرور شہید سرِفہرست ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کیپٹن محمد سرور شہید کی ا ئی ایس پی ا ر کے مطابق مسلح افواج
پڑھیں:
اڈیالہ جیل، بانی پی ٹی آئی اور بشریٰ بی بی کی 40 منٹ طویل ملاقات
راولپنڈی: اڈیالہ جیل میں بانی پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور ان کی اہلیہ بشریٰ بی بی(bushra bibi) کے درمیان ہفتہ وار ملاقات کرائی گئی، جو تقریباً 40 منٹ تک جاری رہی۔
جیل ذرائع کے مطابق ملاقات جیل کے کانفرنس روم میں ہوئی جہاں دونوں نے ایک دوسرے کی خیریت دریافت کی اور مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ ملاقات جیل حکام کی نگرانی میں مقررہ ضابطوں کے مطابق کرائی گئی۔
دوسری جانب ملاقات کے دن کے باوجود بانی پی ٹی آئی سے کسی وکیل یا خاندان کے دیگر افراد کی ملاقات نہ ہو سکی۔ جیل ذرائع کے مطابق معمول کی ملاقاتوں کے حوالے سے سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات برقرار رہے۔
ادھر وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی کی جانب سے نامزد نمائندے اور صوبائی حکومت کے بعض عہدیدار بھی اظہارِ یکجہتی کے لیے اڈیالہ جیل پہنچے، تاہم انہیں بھی بانی پی ٹی آئی سے ملاقات کی اجازت نہ مل سکی۔
مزید پڑھیں:فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک، آئی ایس پی آر
اسی دوران بانی پی ٹی آئی کی بہنیں علیمہ خان، نورین نیازی اور عظمیٰ خان بھی اڈیالہ جیل پہنچیں، تاہم پولیس نے انہیں فیکٹری ناکے سے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ ذرائع کے مطابق سیکیورٹی وجوہات کی بنا پر انہیں جیل تک رسائی نہیں دی گئی۔