کراچی میں ایس آئی یو کی کارروائی، منشیات فروشوں کے قبضے سے ڈیڑھ کروڑ کی منشیات برآمد
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
گرفتار ملزمان کا تعلق اسی منشیات فروش گروہ سے ہے، جو گزشتہ روز جمعے کو پولیس مقابلے میں گرفتار ہوئے تھے۔ اسلام ٹائمز۔ شہر قائد کے ناردرن بائی پاس پر اسپیشل انویسٹیگیشن یونٹ (ایس آئی یو) کی ٹیم اور منشیات فروشوں کے درمیان فائرنگ کا تبادلہ ہوا، جس کے نتیجے میں 2 ملزمان زخمی ہو گئے۔ پولیس نے 2 زخمی ملزمان سمیت 3 ملزمان کو گرفتار کر لیا، فائرنگ کے دوران پولیس کی بھاری نفری بھی موقع پر پہنچ گئی۔ ایس ایس پی ایس آئی یو شعیب میمن نے میڈیا کو بتایا کہ گرفتار ملزمان کا تعلق اسی منشیات فروش گروہ سے ہے، جو گزشتہ روز جمعے کو پولیس مقابلے میں گرفتار ہوئے تھے۔ ایس ایس پی شعیب میمن نے مزید بتایا کہ ملزمان کے قبضے سے تنزانیہ نامی منشیات برآمد ہوئی ہے، جس کی مارکیٹ میں قیمت تقریباً ڈیڑھ کروڑ روپے سے زائد ہے۔ پولیس ترجمان کے مطابق ملزمان کو گرفتاری کے بعد پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا ہے اور ان سے مزید تفتیش جاری ہے، تاکہ ان کے نیٹ ورک کو بے نقاب کیا جا سکے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
سٹی کورٹ: ڈاکٹر آکاش قتل کیس میں تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم
کراچی کی سٹی کورٹ میں ڈاکٹر آکاش قتل کیس کی سماعت کے دوران عدالت نے پولیس کو مقدمے کی تفتیش مکمل کر کے رپورٹ پیش کرنے کا حکم جاری کر دیا۔
پولیس کے مطابق ایس آئی یو ویسٹ نے ڈاکٹر آکاش کے قتل میں ملوث ملزمان کے خلاف مزید کارروائی کرتے ہوئے تین افراد، سریش عرف ساگر، انیل اور رام چند کے قتل کا مقدمہ اسلم پہنور اور اس کے ساتھیوں کے خلاف درج کر لیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ اسلم پہنور ایک ڈکیت گروہ کا سرغنہ ہے۔
پولیس کے مطابق ملزمان نے پولیس پارٹی پر فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں زیر حراست تین ملزمان اور ایک ہیڈ کانسٹیبل زخمی ہو گئے۔ بعد ازاں زیر حراست تینوں ملزمان اپنے ہی ساتھیوں کی فائرنگ سے ہلاک ہو گئے، جبکہ زخمی ہیڈ کانسٹیبل کو اسپتال منتقل کر دیا گیا جہاں اس کا علاج جاری ہے۔
واضح رہے کہ ڈاکٹر آکاش کو بینک سے رقم لے کر جاتے ہوئے قتل کیا گیا تھا۔ پولیس نے اس کیس میں تین ملزمان کو گرفتار کیا تھا، جو دوران حراست ہلاک ہو گئے۔