شبیر شاہ کی غیر قانونی نظربندی، سیاسی انتقام اور ناانصافی کا ایک واضح کیس ہے، محمود ساغر
اشاعت کی تاریخ: 27th, July 2025 GMT
ذرائع کے مطابق انھوں نے آج اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں شبیر احمد شاہ کی نظربندی کے 39سال مکمل ہونے اور بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربندی کے آٹھ سال مکمل ہونے پر ان کے صبر و استقامت کو سلام پیش کیا۔ اسلام ٹائمز۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کی آزاد کشمیر شاخ کے سابق کنوینر اور ڈیموکریٹک فریڈم پارٹی کے قائم مقام چیئرمین محمود احمد ساغر نے غیر قانونی طور پر نظربند سینئر حریت رہنما شبیر احمد شاہ کی جدوجہد آزادی سے غیر متزلزل وابستگی، ثابت قدمی اور عزم و استقلال پر ان کی تعریف کی ہے۔ ذرائع کے مطابق محمود احمد ساغر نے آج اسلام آباد سے جاری ایک بیان میں شبیر احمد شاہ کی نظربندی کے 39سال مکمل ہونے اور بدنام زمانہ تہاڑ جیل میں نظربندی کے آٹھ سال مکمل ہونے پر ان کے صبر و استقامت کو سلام پیش کیا۔انہوں نے شبیر شاہ کو تحریک آزادی کشمیر کا ممتاز رہنما قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے سیاسی نظریے کی وجہ سے اپنی زندگی کے 39سال جیلوں اور تفتیشی مراکز میں گزارے۔ انہوں نے کہا کہ برسوں کی غیر قانونی نظربندی کے باوجود بھارتی حکام عدالت میں ان کے خلاف ایک بھی جرم ثابت نہیں کر سکے۔ انہوں نے کہا کہ شبیر شاہ کی غیر قانونی نظربندی، سیاسی انتقام اور ناانصافی کا ایک واضح کیس ہے۔ محمود ساغر نے کشمیریوں کے حق خودارادیت کے ایک مضبوط حامی کے طور پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق تنازعہ کشمیر کے پرامن حل کے لئے جدوجہد میں شبیر شاہ کے کردار کو اجاگر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مختلف عارضوں میں مبتلا ہونے کے باوجود شبیرشاہ اپنے موقف پر قائم اور ثابت قدم ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: نظربندی کے مکمل ہونے شبیر شاہ انہوں نے کہا کہ شاہ کی
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔