دیامر: سیلاب میں لاپتہ ہونے والی نجی ٹی وی اینکر کی گاڑی مل گئی
اشاعت کی تاریخ: 28th, July 2025 GMT
گلگت بلتستان کے ضلع دیامر میں سیلاب میں لاپتہ ہونے والی نجی ٹی وی اینکر کی گاڑی ملبے سے مل گئی۔
ترجمان گلگت بلتستان حکومت فیض اللّٰہ فراق نے کہا ہے کہ شاہراہ بابوسر پر سرچ آپریشن میں تیزی لائی گئی ہے، شاہراہ بابوسر پر پندرہ کے قریب سیاح ریلوں میں بہہ گئے تھے۔
دیامر: سیلاب میں نجی ٹی وی کی خاتون اینکر فیملی سمیت لاپتہ ہوگئی، تلاش جاریبابو سر تھک نالے میں آنے والے سیلاب میں ایک اور فیملی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ہے، لاپتہ ہونے والوں میں لیاقت، اہلیہ شبانہ اور ان کے 4 بچے شامل ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سرچ آپریشن کے دوران نجی ٹی وی کی اینکر کی گاڑی ملبے سے نکال لی گئی ہے، گاڑی میں کوئی موجود نہیں تھا، لاپتا فیملی سمیت دیگر سیاحوں کی تلاش جاری ہے۔
ترجمان جی بی حکومت کا مزید کہنا ہے کہ سیلاب سے متاثرہ بابوسر ناران شاہراہ ایک ہفتے بعد بحال کر دی گئی ہے، شاہراہ بابوسر کو یکطرفہ ٹریفک کیلئے کھول دیا گیا ہے، مسافر محتاط انداز اختیار کریں اور غیر ضروری سفر سے اجتناب کریں، چلاس تھک نالے میں سیلاب سے 10 افراد جاں بحق ہوگئے تھے۔
پیر کو تھک نالے میں آنے والے سیلاب کی تباہی کے مناظر دکھانے کے لیے جیو نیوز کی ٹیم ناران کاغان کے راستے سے ہوتی ہوئی دیامر پہنچی، لوش لال پڑی اور تھک کے مقام پر 8/9کلومیٹر کا سفر کبھی پیدل اور کہیں موٹر سائیکل پر طے کیا۔
خیال رہے کہ بابو سر تھک نالے میں آنے والے سیلاب میں ایک اور فیملی کے لاپتہ ہونے کی اطلاع ملی، لاپتہ ہونے والوں میں لیاقت، اہلیہ شبانہ اور ان کے 4 بچے شامل ہیں۔
ترجمان گلگت بلتستان حکومت کا کہنا تھا کہ شبانہ لیاقت نجی ٹی وی چینل میں اینکر ہیں، چینل انتظامیہ نے لاپتہ ہونے کا کہہ کر رابطہ کیا، شاہراہ بابو سر پر نجی ٹی وی چینل کی اینکر پرسن کا پرس مل گیا، پرس تھک بابوسر کے مقامی رضا کار کو ملا ہے۔
پرس میں خاتون کا شناختی کارڈ موجود ہے، لاپتہ سیاحوں کی تلاش جاری ہے، سراغ رساں کتوں اور ڈرونز کی مدد بھی حاصل ہے، پولیس، انتظامیہ، ڈیزاسٹر منیجمنٹ، ریسکیو سرچ آپریشن میں شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: لاپتہ ہونے سیلاب میں نجی ٹی
پڑھیں:
دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلا ب آ گیا
لاہور: دریائے چناب میں ہیڈ مرالہ اور خانکی کے بعد ہیڈ قادرآباد پر بھی اونچے درجے کا سیلاب آ گیا ۔ فلڈ فور کاسٹنگ ڈویژن لاہور کے مطابق ہیڈ قادر آباد پر پانی کی آمد 2 لاکھ 36 ہزار کیو سک تک پہنچ گئی ہے۔دریائے راوی میں ہیڈ بلوکی پر درمیانےدرجے کا سیلاب ہے ۔پانی کا بہاؤ بڑھ کر 73 ہزار 635 کیو سک تک پہنچ گیا ۔اس کے علاوہ دریائے کابل میں نوشہرہ میں بدستور نچلے درجے کا سیلاب برقرار ہے جبکہ دریائے سندھ میں کالا باغ اور چشمہ بیراج پر نچلے درجے کے سیلاب ہیں۔بلوچستان میں سبی ڈویژن کے دریائے لہڑی میں ہیڈگوگی کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے اور پانی کا بہاؤ 95 ہزار 913 کیو سک ریکارڈ کیا گیا ہے۔دوسر ی جانب سیالکوٹ میں دریائے چناب میں پھنسے تمام 5 افراد کو ریسکیوکرلیا گیا ہے۔ ریسکیو حکام کے مطابق پانچوں افراد کام کے لیے گئے تھے واپسی پر کشتی خراب ہوگئی تھیواضح رہے کہ مقبوضہ کشمیر میں تیز بارشوں کے بعد بھارت نے پانی کا بڑا ریلہ پاکستان کی جانب چھوڑ دیا ہے۔بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے کے بعد پاکستان میں بڑے سیلاب کا خدشہ ہے اور اس حوالے سے سیالکوٹ اور وزیرآباد کے علاقوں میں سیلابی صورتحال پر ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔