اسلحہ شراب برآمدگی کیس: وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا نے عدالت میں آج پیشی کیلئے مہلت مانگ لی
اشاعت کی تاریخ: 29th, July 2025 GMT
وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور —فائل فوٹو
اسلحہ شراب برآمدگی کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور نے عدالت میں آج پیشی کے لیے مہلت مانگ لی۔
ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ اسلام آباد میں علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ و شراب برآمدگی کیس کی سماعت ہوئی۔
وکیل صفائی ظہورالحسن عدالت میں پیش ہوئے اور کہا کہ آج آپ کے حکم کی تعمیل ہو گی، تھوڑا سا وقت دیں۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں وزیرِ اعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے خلاف اسلحہ اور شراب برآمدگی کیس پر جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے سماعت کی
جج مبشر حسن چشتی نے کہا کہ آپ لیں وقت، بس علی امین کو پیش کر دیں۔
وکیل نے بتایا کہ سیکیورٹی آچکی ہے جیسے ہی گرین سگنل دیں گے، علی امین گنڈاپور پہنچ جائیں گے۔
جس کے بعد عدالت نے علی امین گنڈاپور کے آنے تک سماعت میں وقفہ کر دیا۔
واضح رہے کہ گزشتہ سماعت میں اسلحہ و شراب برآمدگی کیس میں وزیر اعلیٰ خیبرپختونخوا علی امین گنڈاپور کا 342 کا بیان قلمبند نہیں ہو سکا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: علی امین گنڈاپور شراب برآمدگی کیس وزیر اعلی
پڑھیں:
اسلام آباد ہائیکورٹ: ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ
اسلام آباد:اسلام آباد ہائیکورٹ نے متنازع ٹویٹس کیس میں ایمان مزاری اور ہادی علی چٹھہ کی سزا معطلی کی درخواستوں کے قابلِ سماعت ہونے سے متعلق فیصلہ محفوظ کر لیا۔
جسٹس اعظم خان نے کیس کی سماعت کی، عدالت میں نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی اے) کے وکیل نے سزا معطلی کی درخواستوں پر اعتراض اٹھاتے ہوئے مؤقف اختیار کیا کہ یہ درخواستیں قبل از وقت دائر کی گئی ہیں، اس لیے انہیں قابلِ سماعت قرار نہ دیا جائے۔
این سی سی آئی اے کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ پہلے ان کی متفرق درخواست کو سنا جائے، اگر دوسری متفرق درخواست پہلے سنی گئی تو ہماری درخواست غیرموثر ہو جائے گی۔
دورانِ سماعت ایمان مزاری کے وکیل فیصل صدیقی نے عدالت کو بتایا کہ وہ اس متفرق درخواست پر دلائل دینے کے لیے تیار ہیں اور اگر عدالت مناسب سمجھے تو دونوں درخواستوں کو ایک ساتھ سنا جا سکتا ہے۔
جسٹس اعظم خان نے ریمارکس دیے کہ وکیل پہلے مکمل تیاری کر لیں، یہ ان کے مؤکل کے حقوق کے لیے بہتر ہوگا، جس پر فیصل صدیقی نے مؤقف اختیار کیا کہ وہ اپنے حقوق چھوڑتے ہوئے دلائل دینے کے لیے تیار ہیں۔
فریقین کے دلائل مکمل ہونے کے بعد عدالت نے فیصلہ محفوظ کر لیا۔