پی سی بی کی شاہین شاہ آفریدی اور سلمان علی آغا کے مبینہ جھگڑے کی افواہوں کی سختی سے تردید
اشاعت کی تاریخ: 31st, July 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے سوشل میڈیا پر قومی ٹیم کے کھلاڑی شاہین شاہ آفریدی، کپتان سلمان علی آغا اور کوچنگ اسٹاف کے رکن کے مابین مبینہ جھگڑے سے متعلق پھیلائی جانے والی خبروں کو سختی سے مسترد کر دیا ہے۔
پی سی بی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ ان الزامات میں کوئی صداقت نہیں یہ مکمل طور پر جھوٹ اور بدنیتی پر مبنی اور قابل مذمت ہیں۔ بورڈ نے واضح کیا ہے کہ قومی ٹیم کی کسی بھی ٹریننگ یا پریکٹس سیشن کے دوران ایسا کوئی واقعہ رونما نہیں ہوا۔
یہ بھی پڑھیے: پاکستان بمقابلہ بنگلہ دیش ٹی20 سیریز: قومی اسکواڈ کا اعلان، سلمان علی آغا کپتان برقرار
بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ ایسے جھوٹے اور بے بنیاد دعوے قومی ٹیم کے اتحاد، مورال اور ساکھ کو نقصان پہنچانے کی سوچی سمجھی سازش ہیں۔ یہ الزامات صرف اور صرف کھلاڑیوں کی پیشہ ورانہ ساکھ اور ٹیم کے ماحول کو نقصان پہنچانے کے لیے گھڑے گئے ہیں۔
The Pakistan Cricket Board (PCB) categorically denies the baseless, fabricated, and defamatory allegations currently being circulated on social media pertaining to an alleged incident involving Shaheen Afridi, team captain Salman Ali Agha, and a member of the coaching staff.
— PCB Media (@TheRealPCBMedia) July 31, 2025
پی سی بی نے اعلان کیا ہے کہ وہ اس معاملے میں ملوث افراد یا گروہوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کرے گا، جس میں ہتکِ عزت اور سائبر کرائم جیسے مقدمات شامل ہوں گے۔ جو بھی شخص اس من گھڑت مہم کو پھیلانے میں ملوث پایا گیا اس کے خلاف قانون کے مطابق مکمل کارروائی کی جائے گی۔
کرکٹ بورڈ نے عوام، میڈیا نمائندگان اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو سختی سے مشورہ دیا ہے کہ وہ ایسے غیر مصدقہ اور غیر ذمہ دارانہ مواد کو پھیلانے یا اس کی تائید کرنے سے گریز کریں۔
پی سی بی کا کہنا ہے کہ وہ اپنے کھلاڑیوں، کوچنگ اسٹاف اور قومی ٹیم کی حرمت کے تحفظ کے لیے ہر ممکن قدم اٹھائے گا اور ایسی افواہوں کے خلاف سختی سے نمٹے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سلمان علی آغا شاہین شاہ آفریدی
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سلمان علی آغا شاہین شاہ آفریدی سلمان علی آغا قومی ٹیم پی سی بی سختی سے
پڑھیں:
بلوچستان کی ترقی قومی ترجیح، وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے تاریخی فیصلے کیے، وزیراعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ بلوچستان پاکستان کا رقبے کے لحاظ سے سب سے بڑا اور انتہائی اہم صوبہ ہے، جس کے عوام نے قیامِ پاکستان سے لے کر آج تک ملک کی ترقی اور استحکام میں کلیدی کردار ادا کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکومت بلوچستان کی ترقی، خوشحالی اور عوام کی فلاح کو قومی ترجیح سمجھتی ہے اور وسائل کی منصفانہ تقسیم کے لیے ماضی میں بھی اہم فیصلے کیے گئے، جنہیں آئندہ بھی جاری رکھا جائے گا۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ 1947 میں بلوچستان کی مختلف ریاستوں نے منظم انداز میں پاکستان میں شمولیت اختیار کی، جبکہ 1948 میں بلوچ اور پشتون قبائلی و سیاسی قیادت نے قائداعظم محمد علی جناح کی قیادت پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کا حصہ بننے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی مخلص قیادت نے ذاتی مفادات پر قومی مفاد کو ترجیح دی، جس کے نتیجے میں صوبہ ملک کی تعمیر و ترقی کے سفر میں شریک ہوا۔
وزیراعظم نے کہا کہ اگرچہ آبادی کے لحاظ سے بلوچستان ملک کا سب سے چھوٹا صوبہ ہے، تاہم جغرافیائی اعتبار سے یہ سب سے بڑا صوبہ ہے، جہاں شہر، قصبے اور دیہات ایک دوسرے سے طویل فاصلے پر واقع ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہاں تعلیم، صحت، انفراسٹرکچر اور دیگر بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے لیے نسبتاً زیادہ وسائل درکار ہوتے ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ 2010 کے قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ میں بلوچستان کے مالی حقوق کو تسلیم کرتے ہوئے اس کے حصے میں نمایاں اضافہ کیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ دیگر صوبوں، خصوصاً پنجاب نے رضاکارانہ طور پر بلوچستان کے حق میں فیصلہ کیا، جبکہ پنجاب نے سالانہ 11 ارب روپے اضافی حصہ دینے کی ذمہ داری قبول کی۔
وزیراعظم نے کہا کہ یہ کسی قسم کا احسان یا رعایت نہیں تھی بلکہ ایک خاندان کی طرح بھائی چارے اور قومی یکجہتی کے جذبے کے تحت کیا گیا فیصلہ تھا۔ انہوں نے بتایا کہ پنجاب 2010 سے اب تک بلوچستان کے لیے تقریباً 150 ارب روپے کا اضافی حصہ فراہم کر چکا ہے، جو وفاق اور صوبوں کے درمیان تعاون اور یکجہتی کی بہترین مثال ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ بلوچستان کی پائیدار ترقی، عوام کی خوشحالی اور صوبے میں ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت ہر ممکن تعاون جاری رکھے گی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں