9 مئی کے واقعات کے 3 مقدمات کا تفصیلی فیصلہ جاری
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
فیصل آباد کی انسداددہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے واقعات کے 3 مقدمات کا تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا۔
تھانہ سول لائن کے 2 اور تھانہ غلام محمد آباد کے ایک مقدمے کا فیصلہ جاری کیا گیا ہے، تھانہ سول لائن میں درج حساس ادارے کے دفتر پر حملے کے مقدمے کا فیصلہ71 صفحات پر مشتمل ہے۔
تھانہ سول لائن میں درج پولیس وین جلانے کے مقدمے کا فیصلہ 34 صفحات پر جبکہ تھانہ غلام محمد آباد کے مقدمے کا 43 صفحات پر مشتمل تفصیلی فیصلہ جاری کیا گیا ہے۔
عدالت نے مقدمے میں گرفتار ملزم اسماعیل کو 25 سال قید کی سزا سنائی ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق تینوں مقدمات میں مجموعی طور پر 195 ملزمان کو سزائیں اور 88 کو بری کیا گیا ہے۔
شبلی فراز، عمر ایوب، زرتاج گل، کنول شوزب اور شیخ راشد شفیق کو تینوں مقدمات میں 10،10سال کی سزا سنائی گئی ہے۔
تفصیلی فیصلے کے مطابق ملزمان کو 10، 10 لاکھ روپے جرمانہ بھی ادا کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
زین قریشی، فواد چوہدری، خیال کاسترو کو تینوں مقدمات میں بری کر دیا گیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: فیصلہ جاری مقدمے کا کا فیصلہ گیا ہے
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔