مودی سرکار کا آپریشن سندور کا ناکام دفاع، ہندوتوا حامیوں کو متحرک کرنے کی کوشش
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
بھارت میں مودی سرکار نے آپریشن سندور سے متعلق لوک سبھا میں ہونے والی طویل بحث میں سنجیدہ سوالات کے جواب دینے کے بجائے سیاسی تماشا رچایا۔
بی جے پی نے قومی سلامتی جیسے حساس معاملات کو نظر انداز کرتے ہوئے حزبِ اختلاف پر تنقید اور ہندوتوا بیانیے کو فروغ دینے کو ترجیح دی۔
لوک سبھا میں 16 گھنٹے طویل بحث کے بعد بھی مودی حکومت آپریشن سندور اور پاکستان کی دفاعی برتری پر تسلی بخش جواب نہ دے سکی۔ پہلگام حملے پر بھی حکومتی مؤقف غیر واضح رہا۔ حکومت نے حملے کے وقت سیکیورٹی اور طبی سہولتوں کی کمی اور انٹیلیجنس ناکامی پر بھی کوئی وضاحت نہیں دی کہ دہشت گرد کیسے آئے، حملہ کیا اور فرار ہو گئے۔
بھارتی وزیر داخلہ امت شاہ نے مخالفین کو پاکستان اور اسلام کا حامی قرار دینے جیسے جارحانہ بیانات دیے، جسے بھارتی اخبار ’’دی وائر‘‘ نے ہندوتوا حامیوں کو متحرک کرنے کی منظم حکمتِ عملی قرار دیا۔ حکومت نے آپریشن سندور کے صرف دو پہلو واضح کیے، جبکہ دیگر اہم سوالات کو نظر انداز کیا۔
بی جے پی اور گودی میڈیا نے جنگی جنون کو ہوا دی، مگر خود حکومت نے بھارتی افواج کے پاکستان کے شہروں پر قبضے کے دعوے کو غلط ثابت کر دیا۔ دی وائر کے مطابق حکومت نے 6 مئی کو اہداف کے حصول کے بعد آپریشن ختم کرنے کا اعلان کیا، مگر ٹرمپ کی بار بار ثالثی کا دعویٰ مودی حکومت کی خودمختاری کے بیانیے پر سوالیہ نشان بن گیا۔
مودی حکومت نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کی امریکی دعوتوں، چین کی پاکستان کو مدد، اور پاکستان کی مذمت نہ کرنے پر عالمی برادری کی خاموشی پر بھی کچھ نہ کہا۔ آپریشن کے دوران بھارتی طیاروں کی تباہی پر بھی کوئی وضاحت سامنے نہ آئی۔
حکومتی بیانات میں صرف ہندوتوا، جارحیت اور جذبات کو ابھارنے کی کوشش کی گئی، جس کے ذریعے حزبِ اختلاف کی تنقید کو دبایا گیا۔ ’’دی وائر‘‘ کے مطابق بی جے پی اب پارلیمنٹ کو قومی سلامتی پر بحث کا فورم بنانے کے بجائے پروپیگنڈے کا ذریعہ بنا چکی ہے۔
آخر میں، مودی حکومت کا خود یہ اعتراف کہ آپریشن سندور سے متوقع نتائج حاصل نہیں ہوسکے، دراصل اُس شکست کی گواہی ہے جس کا اعتراف بی جے پی کے مبہم ردعمل سے بھی جھلکتا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مودی حکومت حکومت نے بی جے پی پر بھی
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش مسترد، 8 اسلامی ممالک کا اسرائیل کو فوری انتباہ
پاکستان سمیت 8 عرب اور اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ اور الحرم الشریف میں اسرائیلی اشتعال انگیز اقدامات کی شدید مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔ مشترکہ اعلامیے میں اسرائیل سے فوری طور پر ان اقدامات کو روکنے اور عالمی برادری سے مؤثر کردار ادا کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
پاکستان، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ (الحرم الشریف) میں اسرائیل کی حالیہ اشتعال انگیزی اور کشیدگی میں اضافے کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
پاکستان کے دفتر خارجہ کی جانب سے جاری مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں انتہا پسند اسرائیلی وزراء کی قیادت میں یہودی آبادکاروں کی مسلسل اجتماعی دراندازی، مسجد اقصیٰ کے صحن میں اسرائیلی پرچم لہرانا، اسرائیلی پولیس کی جانب سے دو خیمے نصب کرنا اور دیگر اشتعال انگیز اقدامات نہایت خطرناک اور ناقابل قبول ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی انتہا پسند وزراء اور گروہوں کی جانب سے اشتعال انگیزی، مسجد اقصیٰ میں دراندازی پر اکسانے اور تشدد پر مبنی بیانات کی بھی شدید مذمت کی۔ اعلامیے میں خبردار کیا گیا کہ ایسے اقدامات نفرت اور انتہا پسندی کو فروغ دیتے ہیں اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ اور پائیدار امن کی کوششوں کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ یروشلم کے قدیم شہر اور اس کے مذہبی مقامات تک رسائی پر پابندیاں، خصوصاً مسلمانوں اور دیگر عبادت گزاروں کے ساتھ امتیازی سلوک، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی انسانی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدامات مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت کو تبدیل کرنے کی ایک غیرقانونی کوشش ہیں۔
وزرائے خارجہ نے واضح کیا کہ اسرائیل کو مقبوضہ یروشلم یا وہاں موجود اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات پر کسی قسم کی خودمختاری حاصل نہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا کہ اسرائیل بطور قابض طاقت مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے کے لیے منظم اقدامات کر رہا ہے، جو اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے تقدس اور حیثیت کو نقصان پہنچانے کے مترادف ہیں۔
آٹھوں ممالک نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی اور قانونی حیثیت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کی کوشش کو دوٹوک انداز میں مسترد کرتے ہوئے اس حیثیت کے تحفظ پر زور دیا۔ اعلامیے میں مقدس مقامات کی نگرانی کے حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا گیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35 ایکڑ) رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے۔ مزید کہا گیا کہ اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور کے ماتحت یروشلم اوقاف اور مسجد اقصیٰ امور کا محکمہ ہی وہ واحد قانونی ادارہ ہے جو مسجد اقصیٰ کے انتظام و انصرام اور وہاں داخلے کے معاملات کا مجاز ہے۔
وزرائے خارجہ نے اسرائیل سے مطالبہ کیا کہ وہ بطور قابض طاقت فوری طور پر یروشلم کے قدیم شہر میں عائد تمام پابندیاں ختم کرے، مسجد اقصیٰ میں مسلمانوں کی عبادت میں رکاوٹ ڈالنے سے باز آئے اور مقدس مقامات کے تقدس کا احترام کرے۔
مشترکہ اعلامیے میں عالمی برادری سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ اسرائیل کو یروشلم میں اسلامی اور مسیحی مقدس مقامات کے خلاف جاری غیرقانونی اقدامات اور خلاف ورزیوں سے باز رکھنے کے لیے واضح، مضبوط اور مؤثر موقف اختیار کرے، تاکہ مقدس مقامات کی حرمت اور تاریخی حیثیت کا تحفظ یقینی بنایا جا سکے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں