سائبرکرائمز، آن لائن فراڈ کو روکنے کے ذمہ دارنہیں ‘ پی ٹی اے
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
لاہور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 اگست2025ء)پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی نے واضح کیا ہے کہ وہ کال سینٹرز اور سافٹ ویئر ہائوسز کی رجسٹریشن یا ریگولیشن کا ذمہ دار ادارہ نہیں ہے اور نہ ہی سائبر کرائمز اور آن لائن فراڈ براہ راست اس کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں۔سرکاری دستاویز کے مطابق پی ٹی اے کا دائرہ کار صرف غیر قانونی آن لائن مواد کو بلاک کرنے یا ہٹانے تک محدود ہے اور یہ کارروائی الیکٹرانک جرائم کی روک تھام کے ایکٹ(پیکا)کے تحت کی جاتی ہے۔
تاہم پی ٹی اے نے اس دوران الیکٹرانک فراڈ سے متعلق 13ہزار 185لنکس کی بلاکنگ کے لیے پراسیس کیا جن میں سے 98.76فیصد لنکس بلاک کیے جا چکے ہیں۔رپورٹ کے مطابق فیس بک، انسٹاگرام، یوٹیوب، ایکس اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو رپورٹ کیے گئے ہزاروں مشتبہ لنکس میں سے بڑی تعداد بلاک ہو چکی ہے، خاص طور پر فیس بک نے 1ہزار 357میں سے 1ہزار 246لنکس، انسٹاگرام نے 39، یوٹیوب نے 99اور ایکس نے 5لنکس بلاک کیے ہیں۔
(جاری ہے)
یہ کارروائیاں ایس ای سی پی، این سی سی آئی اے اور اسٹیٹ بینک کی سفارشات پر کی گئیں۔پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ عوامی آگاہی مہم کے ذریعے آن لائن فراڈ سے بچا ئوکے لیے مسلسل کوششیں جاری ہیں، جبکہ فراڈ کی تحقیقات اور کارروائیاں ایف آئی اے اور متعلقہ ادارے انجام دیتے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے پی ٹی اے آن لائن
پڑھیں:
بھارت پاکستان میں دہشتگردی میں ملوث، افغانستان دہشتگردوں کو روکنے میں ناکام ہے: وزیرِ اعظم شہباز شریف
وزیراعظم شہباز شریف---فائل فوٹووزیرِ اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان میں ہونے والی دہشت گردی میں بھارت کا کردار واضح ہے، 2018ء میں ملک سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا تاہم ایک منظم سازش کے تحت دہشت گردی دوبارہ واپس لائی گئی۔
بلوچستان نیشنل ورکشاپ کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار پاکستانی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں جبکہ حال ہی میں مستونگ میں سیشن جج کا قتل بھی دہشت گردی کی سنگین مثال ہے، دہشت گردی کا مقابلہ پوری قوم نے مل کر کرنا ہے۔
انہوں نے افغانستان کی عبوری حکومت پر زور دیا کہ وہ اپنی سر زمین دہشت گردوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے تاہم افسوس کے ساتھ کہا کہ افغان حکومت دہشت گردوں کو روکنے میں ناکام رہی ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ خطے میں امن کے قیام کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کو دنیا قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے جبکہ پاکستان کی حالیہ کامیابیاں دشمن کو ہضم نہیں ہو رہیں۔
انہوں نے فیلڈ مارشل عاصم منیر اور نائب وزیرِ اعظم اسحاق ڈار کی سفارتی کاوشوں کو بھی سراہا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے جدید ٹیکنالوجی میں اہم کامیابیاں حاصل کیں، ڈرونز کی 60 فیصد سے زائد مقامی تیاری حاصل کر لی گئی ہے
وزیرِ اعظم کا کہنا ہے کہ بلوچستان رقبے کے لحاظ سے ملک کا سب سے بڑا جبکہ آبادی کے اعتبار سے سب سے چھوٹا صوبہ ہے اور بلوچستان کے عوام نے قیامِ پاکستان اور وفاق کے استحکام میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بلوچستان کے عوام کی قربانیاں کبھی رائیگاں نہیں جائیں گی۔
وزیرِ اعظم شہباز شریف نے بتایا کہ کراچی سے چمن تک دو رویہ شاہراہ کی تعمیر پر کام جاری ہے۔
این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پنجاب نے بلوچستان کے لیے بڑھ چڑھ کر حصہ ڈالا اور دیگر صوبوں نے بھی بھرپور تعاون کیا۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ماضی کی غلطیوں کا ازالہ کرتے ہوئے چاروں صوبوں کو ان کا جائز حق دیا جائے گا۔
ورکشاپ کے شرکاء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان کی ترقی چاروں صوبوں کی مشترکہ کاوشوں سے ممکن ہے اور اب ملک کو ترقی کی نئی راہ پر گامزن کرنے کا وقت آ گیا ہے۔