امریکا نے پاکستانی برآمدات پر 19 فیصد، بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کردیا
اشاعت کی تاریخ: 1st, August 2025 GMT
گزشتہ روز پاکستان اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پایا تھا، اس معاہدے کا اعلان امریکی صدر نے ٹرتھ سوشل پر اپنی پوسٹ کے ذریعے کیا تھا، معاہدے کا مقصد دو طرفہ تجارت کا فروغ، منڈی تک رسائی کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا نے پاکستانی برآمدات پر 19 فیصد ٹیرف عائد کردیا جبکہ بھارت پر 25 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے مختلف ممالک پر ٹیرف سے متعلق ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کردیئے، امریکا نے کینیڈا پرٹیرف 25 فیصد سے بڑھا کر 35 فیصد کردیا، بھارت پر 25 فیصد، بنگلہ دیش پر 20، ترکیہ اور اسرائیل پر 15 فیصد ٹیرف لگایا گیا۔ ترجمان وائٹ ہاؤس کے مطابق جنوبی افریقہ پر 30، ویتنام پر 20، وینزویلا پر 15 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا، سوئٹرز لینڈ پر 39، عراق پر 35، جاپان پر 15 فیصد ٹیرف لگایا گیا، لیبیا پر 30 فیصد، میانمار پر 40 فیصد ٹیرف عائد کیا گیا، نئے ٹیرف کا اطلاق آج سے ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ تجارتی مذاکرات، باہمی مشاورت و سفارشات اور معلومات کی بنیاد پر ٹیرف لگایا۔
سینئر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ ٹیرف سے متعلق چین کے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں ہوا، بھارت کے ساتھ اختلافات راتوں رات حل نہیں ہوسکتے، بھارت کے ساتھ برکس اور روس پر جغرافیائی سیاسی اختلافات شامل ہیں۔ یاد رہے کہ گزشتہ روز پاکستان اور امریکا کے مابین تجارتی معاہدہ کامیابی سے طے پایا تھا، اس معاہدے کا اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹرتھ سوشل پر اپنی پوسٹ کے ذریعے کیا تھا، معاہدے کا مقصد دو طرفہ تجارت کا فروغ، منڈی تک رسائی کو بڑھانا، سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور باہمی دلچسپی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دینا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: فیصد ٹیرف عائد امریکی صدر معاہدے کا
پڑھیں:
سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل
نیتن یاہو - فوٹو: فائلاسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سعودی عرب پر سول جوہری معاہدے کےلیے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی شرط سے متعلق ردِ عمل دے دیا۔
برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق ایکس (سابقہ ٹوئٹر) پر جاری ایک بیان میں اسرائیلی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ سعودی عرب کا ’ابراہیمی معاہدے‘ میں شامل ہونا مشرقِ وسطیٰ میں امن و سلامتی کے لیے تاریخی اور عظیم پیش رفت ہوگی۔
خیال رہے کہ نیتن یاہو کی جانب سے یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے سول جوہری معاہدے کا ذکر کیا تھا۔
اپنے بیان میں امریکی صدر کا کہنا تھا کہ امریکی محکمہ توانائی اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری معاہدہ منظور کرلیا جائے گا۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر یہ شرط رکھی تھی کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان یہ سول جوہری معاہدہ اسی صورت ممکن ہوگا جب سعودی عرب باضابطہ طور پر ’ابراہیمی معاہدے‘ کا حصہ بنے گا۔
تاہم یہ علم میں رہے کہ اپنے بیان میں اسرائیلی وزیراعظم نے امریکہ اور سعودی عرب کے اس سول جوہری معاہدے کا براہِ راست کوئی تذکرہ نہیں کیا۔