اسلام ٹائمز: یاد رکھو، دشمن اور اسکی دشمنی ختم نہیں ہوئی اور وہ ایک زخمی سانپ کی طرح باقی ہے، جو کسی بھی وقت ڈنک مارنے کے ارادے سے دوبارہ حرکت کرسکتا ہے۔ دشمن کے زہر سے محفوظ رہنے کا حل یہ ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی ان سات حکمت عملیوں پر توجہ دی جائے، جو حالیہ مسلط کردہ جنگ کے شہداء کی 40ویں برسی کے موقع پر آپ کے پیغام میں جاری کی گئی تھیں۔ تحریر: مہدی فاضلی
ایران پر صیہونی حکومت کے حملے اور دوسری مسلط کردہ جنگ کے آغاز کو تقریباً پچاس دن گزر چکے ہیں اور ہمیں اس جنگ اور اس کی چھپی اور ظاہر ہونے والی جہتوں کے بارے میں اب بھی بات کرنا اور لکھنا چاہیئے۔ ہمیں ہوشیار رہنا چاہیئے اور اس جنگ کے اسباق اور عبروتوں کو نہیں بھولنا چاہیئے۔ ان قیمتی کامیابیوں کو بھی مدنظر رکھنا چاہیئے، جو ایک ہزار سے زائد شہداء کے خون کی قیمت پر حاصل ہوئیں۔جن میں باقری، سلامی، رشید اور حاجی زادہ جیسے اعلیٰ کمانڈر اور تہرانچی، عباسی اور فقہی جیسے سائنسدان شامل ہیں۔ اس موقع پر میں چند نکات کی طرف اشارہ کرنا چاہتا ہوں؛ سب سے پہلے، کم از کم اس جنگ میں یہ تو واضح ہوگیا کہ امریکہ اور صیہونی حکومت یعنی ٹرمپ اور نیتن یاہو میں کوئی فرق نہیں ہے اور یہ دونوں تمام جرائم میں شریک ہیں۔ ٹرمپ اور نیتن یاہو کو الگ کرنے کی کوشش کم از کم ایک سادہ کوشش ہے، جس کا مقصد امریکہ کے خلاف ہتھیار ڈالنے اور قومی آزادی کو نظر انداز کرنے کے مساوی ہے۔
دوسرا؛ اس جنگ میں، کم از کم سکیورٹی کے حوالے سے، ہمیں "نیٹو سکیورٹی" کا سامنا تھا، موساد اور سی آئی اے کے علاوہ، کئی یورپی اور علاقائی سکیورٹی سروسز نے صیہونی قاتل گروہ کے ساتھ تعاون کیا۔ تیسرا؛ اشارے اور بعض بیانات کی بنیاد پر صیہونی حکومت تقریباً دس سال سے ایران پر حملہ کرنے کا بڑا منصوبہ بنا رہی تھی اور یہ منصوبہ حملے سے تقریباً 8 یا 9 ماہ قبل عمل درآمد کے لیے آپریشنل تفصیلات کے ساتھ تیار کر لیا گیا تھا۔ چوتھا، اس مقام پر صیہونی حکومت اور امریکہ کے اس حملے کی وجہ ایک بار پھر ان کا غلط اندازہ تھا۔ ایک غلطی جو ان دونوں ممالک کے حکام کے ذہنوں میں اس تجویز کی تشکیل کے نتیجے میں پیدا ہوئی کہ "ایران کمزور ہوگیا ہے اور اب دباؤ کو تیز کرنا چاہیئے" اور آخرکار یہ غلط اندازہ ان دو مکار فوجی طاقتوں کی رسوائی اور ناکامی کا باعث بنا۔
سب سے اہم سبق یہ ہے کہ دشمن جب بھی ایران کو کمزور سمجھتا ہے تو وہ نہ صرف اپنے دباؤ اور دھمکیوں کو کم نہیں کرتا بلکہ اپنی دھمکیوں کو بڑھانے اور ان پر زیادہ مناسب طریقے سے عمل درآمد کرنے کے مواقع کا بھی جائزہ لیتا ہے۔ لہذا وہ تمام لوگ جو دانستہ یا غفلت کے ساتھ دشمن کو ایران کے کمزور ہونے کا پیغام دیتے ہیں، جان لیں کہ وہ دشمن کو ایران پر حملہ کرنے اور دباؤ ڈالنے کی ترغیب دینے اور اکسانے والوں میں شریک ہیں۔ چوتھا; اس وحشیانہ اور بزدلانہ حملے میں دشمن کا ارادہ اور ہدف کوئی وقتی اور عارضی اقدام نہیں تھا بلکہ دشمن نے اپنے جھوٹے اور بھونڈے مفروضے کی بنیاد پر ایران کا کام تمام اور پھر مزاحمتی محاذ کو مکمل طور پر تباہ کرنے کے لیے حملہ کیا تھا۔ دشمن نے "فتح تہران" کا گانا تیار کر لیا تھا اور اس کی کمپوزنگ میں مصروف تھا اور اپنے بعض خفیہ اتحادیوں کو پیغام بھیجا تھا کہ ایران کا کام اگلے 24 یا 48 گھنٹوں میں ختم ہو جائے گا۔
لیکن یہ غلط ثابت ہوا۔ دشمن کو ایک بار پھر ایک ذہین قیادت، ایک مہذب اور قابل قوم، ایک بہادر اور تیار مسلح افواج کی فولادی رکاوٹ کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑی بات یہ کہ اس نظام اور عوام کو خداوند عالم کی مدد و نصرت نصیب ہوئی، جس نے دشمن کے ڈنگ کو بے اثر بنا دیا اور آخری بات، یاد رکھو، دشمن اور اس کی دشمنی ختم نہیں ہوئی اور وہ ایک زخمی سانپ کی طرح باقی ہے، جو کسی بھی وقت ڈنک مارنے کے ارادے سے دوبارہ حرکت کرسکتا ہے۔ دشمن کے زہر سے محفوظ رہنے کا حل یہ ہے کہ رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید علی خامنہ ای کی ان سات حکمت عملیوں پر توجہ دی جائے، جو حالیہ مسلط کردہ جنگ کے شہداء کی 40ویں برسی کے موقع پر آپ کے پیغام میں جاری کی گئی تھیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: صیہونی حکومت جنگ کے اور اس
پڑھیں:
امریکا کے ایران پر مسلسل 13ویں شب بھی حملے، ٹرمپ نے مزید بڑی کارروائی کا عندیہ دے دیا، تہران کا سخت ردعمل
امریکا نے ایران کے خلاف مسلسل تیرہویں رات بھی فضائی حملے کیے ہیں، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا ہے کہ وہ ایران کے خلاف ’بہت بڑے حملے‘ کا فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ دوسری جانب ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکی جارحیت میں مزید اضافہ ہوا تو اس کی قیمت واشنگٹن کو پہلے سے کہیں زیادہ چکانا پڑے گی۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) کے مطابق تازہ کارروائی 2 گھنٹے سے زائد جاری رہی، جس کے دوران ایران کے فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی فوج کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا مقصد ایران کی عسکری صلاحیت، بالخصوص ساحلی نگرانی، فضائی دفاع اور فوجی انفراسٹرکچر کو مزید کمزور کرنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:ایران امریکا کشیدگی پھر شدت اختیار کرگئی، کیا مشرق وسطیٰ ایک بڑی جنگ کے دہانے پر ہے؟
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ ایران نے ابھی تک ’کافی تکلیف نہیں دیکھی‘ اور وہ ایک بڑے پیمانے کے حملے کے بارے میں فیصلہ کرنے کے قریب ہیں۔ امریکی صدر کے اس بیان نے خطے میں کشیدگی مزید بڑھا دی ہے اور عالمی سطح پر خدشات میں اضافہ ہوا ہے کہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی دھمکیوں پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ’بے معنی جارحیت‘ کسی مسئلے کا حل نہیں بلکہ اس سے امریکا کو زیادہ بھاری قیمت ادا کرنا پڑے گی۔ ایرانی قیادت کا کہنا ہے کہ ملک اپنی خودمختاری اور دفاع پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
???? 13TH STRAIGHT NIGHT OF POUNDING IRAN.
U.S. forces just completed another round of strikes on Iranian military targets.
Command centers.
Drone storage.
Communication networks.
Coastal surveillance.
Maritime capabilities.
AMERICA KEEPS WINING ✌️???????????????? https://t.co/0y5aM7FeEr pic.twitter.com/0AWYpSnco6
— Xander Xand (@Xander24Xand) July 24, 2026
ایرانی ذرائع ابلاغ کے مطابق گزشتہ چند گھنٹوں کے دوران تہران، خنداب، خرم آباد، کنارک اور جاسک سمیت مختلف شہروں میں دھماکوں، میزائل حملوں اور فضائی دفاعی نظام کی سرگرمیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔ بعض علاقوں میں فضائی دفاعی نظام نے آنے والے اہداف کو روکنے کی کوشش کی، تاہم نقصانات کی مکمل تفصیلات فوری طور پر سامنے نہیں آسکیں۔
دوسری جانب برطانیہ نے اعلان کیا ہے کہ اگر اس کے مفادات یا سرزمین کو کسی بھی قسم کا خطرہ لاحق ہوا تو اس کی مسلح افواج دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔ یہ بیان ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی اس وارننگ کے بعد سامنے آیا، جس میں کہا گیا تھا کہ اگر امریکی بمبار طیارے برطانوی اڈوں سے ایران پر حملوں کے لیے استعمال ہوئے تو ان اڈوں کو بھی ممکنہ اہداف سمجھا جا سکتا ہے۔
???????? U.S. STRIKES IRAN FOR 13TH CONSECUTIVE NIGHT
The U.S. military has launched another round of strikes against Iran, marking the 13th consecutive night of attacks.
CENTCOM: “US forces started another night of strikes against Iranian military targets at 6:45 p.m. ET (2245 GMT)… pic.twitter.com/iDXtuU2CJE
— Mossad Commentary (@MOSSADil) July 24, 2026
بین الاقوامی ذرائع ابلاغ کے مطابق جنگ کے پھیلنے سے عالمی توانائی منڈی شدید دباؤ کا شکار ہے۔ بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں کشیدگی بڑھنے کے باعث خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کر گئی، جبکہ عالمی منڈیوں میں بھی غیر یقینی صورتحال دیکھی جا رہی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر تنازع مزید شدت اختیار کرتا ہے تو عالمی تجارت اور تیل کی سپلائی بری طرح متاثر ہو سکتی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی صورتحال پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں مزید عسکری کارروائیاں پورے خطے کو ایک بڑے بحران میں دھکیل سکتی ہیں۔ انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا ہے کہ کشیدگی کم کرنے اور سفارتی حل تلاش کرنے کی کوششیں تیز کی جائیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکا ایران خلیج صدر ٹرمپ مشرق وسطیٰ