غیر قانونی تعمیرات مافیا کی سرکوبی ڈرامہ ثابت
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
ڈائریکٹر جنرل شاہ میر بھٹو کی پراسرار چشم پوشی، ناجائز تعمیری امور برقرار
ماڈل کالونی شیٹ5پلاٹ نمبر 38پر دکانیں و 3منزلہ کمرشل پورشن تعمیر
سندھ بلڈنگ سرپرستوں کی سرپرستی نہ تحقیقات نہ گرفتاری ماڈل میں بلیدی کی اجارہ داری زمینی حقائق موجود ہونے کے باوجود شاہ میر خان بھٹو کاروائی کرنے سے قاصر ماڈل کالونی شیٹ نمبر 5 پلاٹ نمبر 38 پر دکانیں اور کمرشل 3 منزلہ پورشن یونٹ تعمیر جرآت سروے ٹیم کی غیر قانونی دھندوں پر ڈی جی ہاس رابطے کی کوشش ناکام ۔سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کا مقصد شہر بھر میں تعمیر کی جانے والی عمارتوں کو بلڈنگ قوانین کے تحت تعمیر کروانا ہے مگر بدقسمتی سے سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی یہی شرمناک تاریخ رہی ہے کہ بلڈنگ افسران بذات خود غیر قانونی تعمیرات میں ملوث رہے ہیں ضلع کورنگی شاہ فیصل ٹان میں سرپرستوں کی سرپرستی میں بدعنوان اسسٹنٹ ڈائریکٹر ذوالفقار بلیدی کی ماڈل کالونی پر اجارہ داری قائم ہے جسے نہ ہی تحقیقات کی فکر ہے اور نہ گرفتاری کا خوفموصوف نے منظم نیٹ ورک قائم کرنے کے بعد رہائشی پلاٹوں پر کمرشل عمارتیں تعمیر کروانے کی چھوٹ دے کر ماڈل کالونی کو کمزور عمارتوں کے جنگل میں تبدیل کردیا ہے بلڈنگ قوانین کے بر خلاف تعمیر ہونے والی عمارتوں کے باعث علاقے میں سیوریج اور سڑکوں کا نظام تباہ حالی کا شکار ہے دلچسپ امر یہ بھی ہے کہ جرآت سروے ٹیم کی جانب سے کی جانے والی غیر قانونی عمارتوں کی نشاندھی اور زمینی حقائق اور شواہد کے باوجود ڈائریکٹر جنرل شاہ میر خان بھٹو بھی ذوالفقار بلیدی کے منظم نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں جرآت سروے کے دوران حاصل کی جانے والی زیر نظر تصویر میں واضح طور پر زمینی شواہد کو دیکھا جا سکتا ہے کہ ماڈل کالونی شیٹ نمبر 5 پلاٹ نمبر 38 پر دکانیں اور تین منزلہ کمرشل عمارت کی تعمیر تکمیل کے مراحل میں داخل ہو چکی ہیجرآت سروے ٹیم کی جانب سے موقف لینے کے لئے ڈی جی ہاس رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی مگر رابطہ ممکن نہ ہو سکا ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: ماڈل کالونی
پڑھیں:
وسیم اکرم، مصباح اور فخر عالم نے اپنی حج کی پوسٹس پر ہونے والی تنقید کا جواب دے دیا
پاکستانی کرکٹ کے لیجنڈ وسیم اکرم، سابق کپتان مصباح الحق، میزبان و اداکار فخر عالم، سابق کرکٹر سعید انور اور دیگر معروف شخصیات نے اس سال مشترکہ طور پر فریضۂ حج ادا کیا۔ تاہم دورانِ حج سوشل میڈیا پر ان کی بعض ویڈیوز اور تصاویر وائرل ہونے کے بعد انہیں تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑا۔
وسیم اکرم کی رمی الجمرات کے دوران شیئر کی گئی ایک ویڈیو، جس میں انہوں نے اپنے مخصوص سوئنگ اسٹائل میں شیطان کو کنکریاں مارنے کا انداز اپنایا، خاصی وائرل ہوئی۔ بعد ازاں ایک اور ویڈیو میں وہ مصباح الحق کے لیے کیلے اٹھائے ہوئے دکھائی دیے، جس پر بھی صارفین نے مختلف تبصرے کیے۔
دوسری جانب فخرِ عالم نے اپنے حج سفر کی متعدد جھلکیاں سوشل میڈیا پر شیئر کیں جن میں اداکار بلال عباس خان اور کامیڈین تابش ہاشمی سمیت دیگر شخصیات بھی نظر آئیں۔ ان سرگرمیوں کے باعث بعض سوشل میڈیا صارفین نے اس سفر کو ’’حج کے بجائے پکنک‘‘ قرار دیا۔
@timesofkarachiWhy didn’t Wasim Akram, Fakhar-e-Alam, and Misbah-ul-Haq shave their heads as part of the Hajj ritual? #TOKReports #Hajj #WasimAkram #FakhareAlam #MisbahulHaq
♬ original sound - Times of Karachiحالیہ گفتگو میں وسیم اکرم، فخرِ عالم اور مصباح الحق نے ان تنقیدی تبصروں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے لوگوں نے سوال اٹھایا کہ انہوں نے حج کے بعد سر منڈوانے کے بجائے صرف بال کیوں کٹوائے۔ ان کے مطابق حج پر روانگی سے قبل انہوں نے علماء کرام سے رہنمائی حاصل کی تھی جنہوں نے دو شرعی آپشنز بتائے تھے، یا تو مکمل سر منڈوایا جائے یا پھر قصر کروائی جائے، جس میں بالوں کا ایک حصہ کٹوایا جاتا ہے۔ انہوں نے دوسرا طریقہ اختیار کیا جو شرعی طور پر جائز ہے۔
انہوں نے ’’حج یا پکنک‘‘ سے متعلق تنقید پر بھی ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ حج ایک عظیم عبادت ہے، لیکن اس دوران انسان چوبیس گھنٹے صرف ایک ہی عمل میں مصروف نہیں رہتا۔ عبادت کے ساتھ دوستوں سے ملاقات، گفتگو، دعائیں، مسکراہٹیں اور خوشی کے لمحات بھی اس سفر کا حصہ ہوتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تنقید کرنے سے پہلے لوگوں کو ان معاملات کی مکمل معلومات حاصل کرنی چاہئیں۔
وسیم اکرم اور ان کے ساتھیوں نے بتایا کہ انہوں نے نوجوان نسل کے لیے بھی مختلف ویڈیوز بنائیں تاکہ حج کی ادائیگی سے متعلق رہنمائی فراہم کی جا سکے اور نوجوانوں میں اس مقدس سفر کا شوق پیدا ہو۔ ان کے مطابق ان ویڈیوز کا مقصد صرف معلومات دینا اور لوگوں کو حج کے لیے آمادہ کرنا تھا۔
مدینہ منورہ سے گفتگو کرتے ہوئے فخر عالم نے کہا کہ حج مکمل کرنے کے بعد سب سے زیادہ یہی سوال پوچھا جا رہا ہے کہ آخر انہیں حج پر جانے کی ترغیب کیسے ملی۔ اس سوال کے جواب میں وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے پہلے سے کوئی خاص منصوبہ بندی نہیں کی تھی، بلکہ وہ ہمیشہ یہی سوچتے تھے کہ جب دل سے تیاری محسوس ہوگی تو حج کریں گے۔ ان کے بقول جب انہیں معلوم ہوا کہ فخر عالم اور مصباح الحق بھی حج پر جا رہے ہیں تو انہوں نے بھی اس قافلے میں شامل ہونے کا فیصلہ کر لیا۔
View this post on Instagramوسیم اکرم نے مزید کہا کہ وہ جلد 60 برس کے ہونے والے ہیں اور انہیں محسوس ہوا کہ اب اس مقدس فریضے کی ادائیگی کا بہترین وقت آ گیا ہے۔ انہوں نے حج کے سفر کو جسمانی طور پر مشکل لیکن یادگار اور قابلِ برداشت قرار دیا۔
مصباح الحق نے بھی اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حج کا یہ سفر ان کی زندگی کے خاص ترین تجربات میں سے ایک ہے۔ ان کے مطابق دوستوں کے ساتھ اس روحانی سفر کو طے کرنے سے اس کی خوبصورتی اور یادیں مزید بڑھ گئیں، اور یہ تجربہ ہمیشہ ان کے دل میں محفوظ رہے گا۔