عازمین حج سے واجبات کی وصولی کا آغاز آج ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
ویب دیسک:عازمین حج سے واجبات کی وصولی کا آغاز آج سے ہوگا، وزارت مذہبی امور کے مطابق خواہشمند نامزد بینکوں اور آن لائن پورٹل کے ذریعے حج درخواستیں جمع کرواسکتے ہیں۔
وزارت مذہبی امور کے مطابق پہلے آئیے پہلے پائیے کی بنیاد پر رجسٹرڈ افراد سے پہلی قسط آج سے 9 اگست تک وصول کی جائے گی، نشستیں دستیاب ہونے پر 11 سے 16 اگست تک نئے عازمین حج بھی اپلائی کرسکیں گے۔
نشستیں مکمل ہوتے ہی حج واجبات کی وصولی روک دی جائے گی، حج پیکج 2026 ساڑھے 11 سے ساڑھے 12 لاکھ کے درمیان ہوگا۔
روس میں 6.
وزارت مذہبی امور کے مطابق دوسری قسط یکم نومبر سے وصول کی جائے گی، دوبارہ حج کرنے اور عمر کی بالائی حد کی پابندی ختم کر دی گئی ہے۔
وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ یکم مارچ 2014 کے بعد پیدا ہونے والے بچے اپلائی نہیں کرسکتے۔
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
پاکستان سمیت آٹھ مسلم ممالک کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں اور انتہا پسند عناصر کی حالیہ کارروائیوں کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف مذہبی تقدس کی پامالی ہیں بلکہ پورے خطے میں کشیدگی کو خطرناک حد تک بڑھا رہے ہیں۔
مشترکہ اعلامیے پر پاکستان، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، مصر، اردن، ترکیہ اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ نے اتفاق کیا۔ اعلامیے میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی اشتعال انگیز کارروائیاں اور اسرائیلی انتہا پسند وزرا و گروہوں کی سرگرمیاں ناقابلِ قبول ہیں اور ان سے خطے میں امن و استحکام کو شدید خطرات لاحق ہو رہے ہیں۔
وزرائے خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ مسجد اقصیٰ کی تاریخی، قانونی اور مذہبی حیثیت کا ہر صورت احترام کیا جانا چاہیے اور اس میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی ناقابلِ قبول ہے۔
مشترکہ اعلامیے میں مسجد اقصیٰ کے انتظامی اور مذہبی امور پر اردن کے محکمہ اوقاف کے خصوصی اختیار کا اعادہ کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا گیا کہ اس حیثیت کو برقرار رکھنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
اعلامیے میں اسرائیل سے مطالبہ کیا گیا کہ مسلمانوں کو مسجدِ اقصیٰ میں عبادت سے روکنے کا سلسلہ فوری طور پر بند کیا جائے، مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے اور ایسے تمام اقدامات سے گریز کیا جائے جو مزید کشیدگی اور تصادم کا سبب بن سکتے ہیں۔