سوشل میڈیا کے خودساختہ مذہبی سکالرز اور نیم خواندہ مفتیوں سے محتاط رہیں، طاہرالقادری
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
تحریک منہاج القرآن کے سرپرست کا کہنا ہے کہ ایسے مفتیوں کا مطمع نظر دین نہیں ریٹنگ ہے، ادھورے علم والے مبلغین فکری انتشار پیدا کر رہے ہیں، کوئی شخص عطائی ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج کروانا پسند نہیں کرتا تو دین ایسے نیم حکیموں سے کیسے سیکھا جا سکتا ہے، دین اسلام کی تعبیر و تشریح کا کام صرف اْن اہل علم کا کام ہے جن کے پاس مستند علم اور کردار ہو۔ اسلام ٹائمز۔ بانی و سرپرست اعلیٰ تحریک منہاج القرآن ڈاکٹر محمد طاہرالقادری نے برطانیہ میں الہدایہ کیمپ 2025ء کے پہلے سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اْمت مسلمہ سوشل میڈیا کے ایسے خود ساختہ مذہبی سکالرز اور نیم خواندہ مفتیوں سے محتاط رہیں، جن کا مطمع نظر دین نہیں ریٹنگ ہے، ادھورے علم والے مبلغین فکری انتشار پیدا کر رہے ہیں، کوئی شخص عطائی ڈاکٹروں اور حکیموں سے علاج کروانا پسند نہیں کرتا تو دین ایسے نیم حکیموں سے کیسے سیکھا جا سکتا ہے، دین اسلام کی تعبیر و تشریح کا کام صرف اْن اہل علم کا کام ہے جن کے پاس مستند علم اور کردار ہو۔ انہوں نے کہا کہ دینی علم کیلئے گہرائی، نظم و ضبط اور علمی تسلسل درکار ہے۔ الہدایہ کیمپ 2025ء میں خواتین و حضرات اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک تھی۔
تربیتی سیشن میں منہاج القرآن انٹرنیشنل کی سپریم کونسل کے چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر حسن محی الدین قادری، ڈاکٹر غزالہ حسن قادری، شیخ حماد مصطفی المدنی القادری، شیخ احمد مصطفی العربی القادری، سید علی عباس بخاری، ڈاکٹر فیصل اقبال خان، ڈاکٹر حمزہ انصاری، خدیجہ قراۃالعین قادری، بسمہ حسن قادری، برطانیہ کی تنظیم کے ذمہ داران اور مختلف مکتبہ فکر کے سکالرز، سول سوسائٹی اور پاکستانی کمیونٹی کے نمائندہ افراد شریک تھے۔ الہدایہ 2025 کی 3روزہ تربیتی ورکشاپ واروک یونیورسٹی لندن حال میں انعقاد پذیر ہے اور امریکہ، یورپ، برطانیہ، کینڈا سے وفود موجود ہیں، پہلے سیشن میں 13 سو فیملیز شریک ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
پڑھیں:
آزاد کشمیر الیکشن کے حوالے سے میڈیا کیلیے ضابطہ اخلاق جاری
الیکشن کمیشن آزاد کشمیر نے انتخابات 2026 کے لیے نیا میڈیا ضابطہ اخلاق جاری کر دیا، پالیسی کا مقصد انتخابی عمل میں شفافیت، غیرجانبداری اور ذمہ دارانہ صحافتی روایات کو یقینی بنانا ہے۔
الیکشن کمیشن کے مطابق تمام میڈیا اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ انتخابی کوریج کے دوران مکمل غیرجانبداری کا مظاہرہ کریں اور ضابطہ اخلاق پر سختی سے عمل درآمد کریں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پولنگ اسٹیشن کے اندر صرف مجاز میڈیا نمائندوں کو کوریج کی اجازت ہوگی تاہم پولنگ بوتھ کے اندر ووٹنگ کی خفیہ کارروائی کی کسی بھی قسم کی ریکارڈنگ یا فوٹوگرافی سختی سے ممنوع ہوگی۔
الیکشن کمیشن نے پولنگ ختم ہونے سے قبل کسی بھی قسم کے ایگزٹ پول، نتائج یا رجحانات نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے۔ نفرت انگیز، اشتعال انگیز یا فرقہ وارانہ مواد نشر کرنے سے گریز کرنے کی تاکید کی ہے۔
اسی طرح غلط، غیر مصدقہ یا گمراہ کن معلومات نشر کرنا بھی ممنوع قرار دیا گیا۔تمام امیدواروں کو انتخابی کوریج میں مساوی اور منصفانہ نمائندگی دینے کی ہدایت کی گئی ہے۔
الیکشن کمیشن نے واضح کیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر متعلقہ میڈیا ادارے کی ایکریڈیٹیشن منسوخ کی جا سکتی ہے اور قانونی کارروائی بھی عمل میں لائی جائے گی۔
کمیشن نے تمام میڈیا اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ انتخابی ضابطہ اخلاق پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں تاکہ انتخابی عمل کے اعتماد اور شفافیت کو برقرار رکھا جا سکے۔