نیویارک: مسلم پولیس افسر کی تدفین میں حجاب پہننے پر سیاسی ہنگامہ
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
نیویارک کی گورنرکیتھی ہوکل نے مسلم پولیس افسر کے جنازے میں حجاب پہننے پرسینیٹر ٹیڈ کروز کی تنقید کو مسترد کردیا ہے۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوکل نے ایک مسلم پولیس افسر کے جنازے میں شرکت کے دوران حجاب پہننے پر تنقید کرنے والے ریپبلکن سینیٹر ٹیڈ کروز کو شدید جواب دیا ہے۔
کیتھی ہوکل نے سماجی رابطے کے پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ میں نے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے ایک شہید مسلم افسر کے جنازے میں شرکت کے دوران ان کی عزت میں حجاب پہنا۔ ’سوگوار خاندان کے عقیدے کا احترام کرنا وہی کام ہے جو کسی بھی رہنما یا مہذب شخص کو کرنا چاہیے۔‘
یہ بھی پڑھیں: نیویارک کے آفس ٹاور میں فائرنگ، پولیس افسر سمیت 5 افراد ہلاک
یہ بیان سینیٹر ٹیڈ کروز کی ایک پوسٹ کے جواب میں آیا، جنہوں نے جمعے کو گورنر ہوکل کی جنازے میں حجاب پہنے ایک تصویر کو شیئر کرتے ہوئے استعجابیہ طنز کے ساتھ لکھا کہ ارے، یہ کیا، جس پرسوشل میڈیا صارفین نے انہیں آڑے ہاتھوں لے لیا۔
سوشل میڈیا صارفین نے کروزکی منافقت کی نشاندہی کرتے ہوئے 2016 کی ایک تصویر سامنے لائی، جس میں وہ نیویارک کے برائٹن بیچ کے یہودی مرکزمیں انتخابی مہم کے دوران یہودیوں کی مذہبی ٹوپی یارمُلکے میں نظر آ رہے ہیں۔
کیتھی ہوکل کے جواب کے بعد، سینیٹر کروز نے دوبارہ ایک طنزیہ تبصرہ کیا کہ وہ متفق ہیں۔ ’آپ کو روزانہ حجاب پہننا چاہیے کیونکہ آپ واقعی بہت مہذب ہیں، نیویارک میں خواتین کے حقوق کی فکر چھوڑ دیں… وہ تو آپ کی ترجیح ہی نہیں۔‘
مزید پڑھیں: سینیٹر ٹیڈ کروز نے 9 دسمبرکو امریکی سیاست کا بدنام لمحہ کیوں قرار دیا؟
یہ واضح نہیں ہو سکا کہ سینیٹر ٹیڈ کروز کا ’خواتین کے حقوق‘ سے کیا مطلب تھا، اور ان کے دفتر نے اس پرکوئی وضاحت بھی فراہم نہیں کی، اسی طرح گورنر کیتھی ہوکل کے دفتر نے بھی فوری طور پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا۔
کیتھی ہوکل نے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ کے مسلمان افسر دیدارالاسلام کے جنازے میں شرکت کی تھی، جو پچھلے ہفتے مین ہٹن میں ایک فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہو گئے تھے، حملہ آور نے مین ہیٹن میں واقع ایک فلک بوس عمارت میں، جہاں نیشنل فٹبال لیگ ہیڈکوارٹرزبھی قائم ہے، 4 افراد کو گولی مار کر ہلاک کرنے کے بعد خودکشی کر لی تھی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
امریکی سینیٹر برائٹن بیچ ٹیڈ کروز حجاب دیدارالاسلام ریپبلکن کیتھی ہوکل گورنر نیویارک نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ یہودی مرکز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: امریکی سینیٹر برائٹن بیچ ٹیڈ کروز دیدارالاسلام ریپبلکن گورنر نیویارک یہودی مرکز کے جنازے میں پولیس افسر
پڑھیں:
جانتی ہوں، عثمان ہادی کو کس نے قتل کروایا؟، ممتا بنر جی کے مودی سرکار سے متعلق سنسی خیز انکشافات
بھارتی ریاست مغربی بنگال کی سابق وزیراعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ‘ممتا بنرجی’ نے بنگلہ دیش کی انقلابی تحریک کے مرکزی رہنما عثمان ہادی کے قتل کے حوالے سے انتہائی چونکا دینے والے انکشافات کیے ہیں۔
منگل کو ممتا بنر جی نے دعویٰ کیا ہے کہ وہ اس ہائی پروفائل قتل میں ملوث اصل چہروں سے واقف ہیں، تاہم قومی اور سفارتی اثرات کے باعث وہ فی الحال نام ظاہر نہیں کر رہیں۔
بی جے پی حکومت پر سنگین الزاماتمنگل کو وسطی کولکتہ میں ایک بڑے احتجاجی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے ممتا بنرجی نے بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کی وفاقی حکومت پر پہلی بار کھل کر الزامات کی بوچھاڑ کی۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی مودی حکومت عثمان ہادی کے قتل کیس سے متعلق انتہائی حساس معلومات اور شواہد کو عوام سے چھپا رہی ہے۔
میگھالیہ سرحد سے داخلہ اور اسپیشل ٹاسک فورس کی کارروائیسابق وزیراعلیٰ نے سنسنی خیز تفصیلات بتاتے ہوئے مزید دعویٰ کیا کہ بنگلہ دیش کی تنظیم ’انقلاب منچ‘ کے مرکزی کردار عثمان ہادی کے قتل میں ملوث ملزمان بھارتی ریاست میگھالیہ کی سرحد کے راستے مغربی بنگال میں داخل ہوئے تھے۔ ان کی آمد کی اطلاع ملتے ہی مغربی بنگال کی ’اسپیشل ٹاسک فورس‘ (ایس ٹی ایف) نے فوری کارروائی کرتے ہوئے ملزمان کو گرفتار کر لیا تھا۔
امیت شاہ کا فون اور خاموش رہنے کی درخواستممتا بنرجی نے یہ بھی انکشاف کیا کہ ملزمان کی گرفتاری کے فوراً بعد انہیں بھارتی وزیر داخلہ ’امیت شاہ‘ کا فون موصول ہوا تھا۔
یہ بھی پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس کے مرکزی ملزمان کا عدالت میں الزامات سے انکار
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ’امیت شاہ‘ نے مجھ سے درخواست کی کہ اس کیس کی تفصیلات اور ملزمان کی شناخت کو عوام کے سامنے نہ لایا جائے کیونکہ یہ معاملہ براہِ راست ’قومی مفاد‘ سے جڑا ہوا ہے‘۔
ممتا بنرجی کا کہنا تھا کہ وہ طویل عرصے سے ملک اور خطے کے مفاد میں خاموش تھیں، لیکن وفاقی حکومت کی جانب سے حالیہ دنوں میں مبینہ سیاسی دباؤ اور انتقامی کارروائیوں کے بعد اب وہ سچ بولنے پر مجبور ہو گئی ہیں۔
دوسری جانب نئی دہلی میں وفاقی حکومت کی طرف سے ممتا بنرجی کے ان سنگین الزامات پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔
مجھے سب کچھ معلوم ہےاپنے خطاب کے دوران ممتا بنرجی نے سوال اٹھایا کہ عثمان ہادی کے قتل کا حتمی حکم کس نے دیا تھا؟ انہوں نے واضح اشارہ دیا کہ وہ سازش کاروں کے ناموں سے اچھی طرح واقف ہیں۔
نام نہ بتانے کی وجہ بتاتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’میں جانتی ہوں کہ قتل کس نے کروایا اور کن لوگوں کے نام سامنے آئے تھے۔ حکومتیں بدل سکتی ہیں، لیکن مجھے سب کچھ معلوم ہے۔ اگر میں نے ابھی نام ظاہر کر دیے تو بنگلہ دیش میں شدید سیاسی اثرات اور بھونچال آ سکتا ہے‘۔
مزید پڑھیں:عثمان ہادی قتل کیس: مرکزی ملزم فیصل کے معاون کو بھارت میں گرفتار کر لیا گیا
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ مغربی بنگال میں حالیہ اسمبلی انتخابات کے بعد پیدا ہونے والی شدید سیاسی کشیدگی کے دوران ممتا بنرجی کے اس بیان نے نہ صرف بھارتی سیاست کو گرما دیا ہے، بلکہ بھارت اور بنگلہ دیش کے مابین حساس سفارتی تعلقات پر بھی سوالیہ نشانات کھڑے کر دیے ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
الزامات امیت شاہ بنگلہ دیش ترنمول کانگریس سنگین سیاسی عثمان ہادی۔ مغربی بنگال ممتا بنر جی مودی سرکار