چینی کی قیمتیں کم نہ ہوسکیں جب کہ پشاور میں  پچاس کلو چینی بوری کی قیمت 8900 روپے میں فروخت ہونے لگی۔

ہول سیل چینی فی کلو 178 اور پرچون میں 2 سو روپے نرخ مقرر جب کہ  مارکیٹ میں چینی کی ترسیل کم ہونے سے نرخ بڑھنے کا امکان  ہے۔

ڈیلرز نے کہا کہ  چینی کی ترسیل رک گئی تو پچاس کلو کی بوری 9 ہزار روپے تک پہنچنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب وفاقی حکومت کی جانب سے شوگرملوں کے خلاف کارروائی اور ذخیرہ اندوزی کے خلاف کریک ڈاؤن کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں،  تادیبی کارروائی سے بچنے کے لیے ذخیرہ اندوزوں نے165روپے فی کلو ایکس مل قیمت پر مارکیٹ میں سپلائی شروع کردی ہے۔

روف ابراہیم چئیرمین ہول سیل گروسرز ایسوسی ایشن  نے کہا کہ تھوک مارکیٹ میں فی کلوگرام چینی کی تھوک قیمت 170روپے ہوگئی ہے،  فی کلو چینی کی ریٹیل قیمت 180روپے ہوگئی ہے، مقررہ ایکس مل قیمت پر سپلائی بڑھنے سے فی چینی کی ریٹیل قیمت جلد 175روپے کی سطح پر آجائے گی۔ 


ادھر اوپن مارکیٹ میں چینی کا بحران تاحال برقرار ہے جب کہ چینی کی دو روز میں 1800 تھیلے شہر میں سپلائی کئے گئے، ابھی تک شوگر ملز اور ڈیلرز ہمیں 165 روپے کلو چینی سپلائی نہیں کر رہے۔

پیشتر کریانہ مرچنٹ کے پاس چینی کا اسٹاک ختم ہوگیا، جن دکانداروں پاس چینی اسٹاک موجود ہے وہ صرف جاننے والوں کو فروخت کرنے لگے، اوپن مارکیٹ میں چینی اندرون شہر 190 سے 200 روپے فروخت ہورہی ہے۔

نواحی ایریاز میں چینی 210 روپے کلو تک بھی فروخت ہوتی ہے، کریانہ مرچنٹس نے کہا کہ 
سپلائی ہونے والی چینی کریانہ شاپس میں نہیں سویٹس، بیکرز میں دی جارہی ہے۔

مرچنٹ ایسوسی ایشن  نے کہا کہ راولپنڈی ڈویژن میں 18 ہزار چھوٹی بڑی کریانہ شاپس ہیں،  چینی کی سپلائی سویٹس بیکرز اور چینی کاروباریوں بجائے کریانہ شاپس کو دی جائے،  چینی کی گلی گلی سپلائی یقینی بنانے کیلئے آٹا ڈیلرز کی فوری خدمات حاصل کر لی جائیں۔

چینی کے مقرر کردہ نرخوں پر عملدرآمد نہ کرنیوالوں کیخلاف کریک ڈاؤن جاری ہے، ترجمان پرائس کنٹرول نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 480 دکانداروں کیخلاف چینی کی قیمتوں میں ناجائز منافع خوری پر کارروائیاں کی گئیں، پنجاب بھر میں 43 افراد گرفتار، 16 کیخلاف مقدمات درج، 437 افراد کو جرمانے عائد کیے گئے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: چینی کی قیمت مارکیٹ میں نے کہا کہ کلو چینی میں چینی فی کلو

پڑھیں:

پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی

پاکستان میں مختلف اقسام کے ایندھن کی فروخت کا ماہانہ ڈیٹا جاری(mothly data) کردیا گیا۔ ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ بنیادوں پر 23 اور ماہانہ 14 فیصد کمی آئی۔

اعداد وشمار کے مطابق مئی 2026 میں11لاکھ 72ہزارٹن پیٹرولیم مصنوعات فروخت کی گئیں، مئی میں پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت میں سالانہ 23اورماہانہ14فیصد کمی آئی۔

مئی میں آئل ریفائنریز کی پیداوارمیں بھی 7فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، سب سےبڑی کمی فرنس آئل کی فروخت میں سالانہ 64اورماہانہ 79فیصد آئی، فرنس آئل کی فروخت سالانہ بنیادپر80ہزارٹن سےگرکر29ہزارٹن پرآگئی۔

مئی میں سالانہ بنیاد پرڈیزل کی فروخت 32 فیصد کم ہوکر4لاکھ 55 ہزار ٹن جبکہ سالانہ بنیاد پرپیٹرول کی فروخت 12فیصد کم ہوکر6لاکھ 17ہزار ٹن رہی۔

مزید پڑھیں:حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟

مئی میں پاکستان اسٹیٹ آئل کی فروخت میں 19اوراٹک پیٹرولیم میں 30فیصد کمی دیکھی گئی جبکہ وافی انرجی کی فروخت 16فیصداورحیسکول پیٹرولیم کی فروخت میں37 فیصد کمی آئی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان میں پٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں 23 فیصد کمی
  • بجلی کی قیمت میں ایک روپے 72 پیسے اضافے کا امکان
  • فراہمی آب کا ’کے فور منصوبہ‘ مزید تاخیر کا شکار، 2029ء تک مکمل ہونے کا امکان
  • بٹ کوائن کی تاریخی گراوٹ، سرمایہ کاروں کے کروڑوں ڈالر ڈوب گئے
  • ایران-امریکا مجوزہ معاہدہ، عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں کمی
  • اراکین پارلیمنٹ کیلئے اضافی فیملی سوٹس کی تعمیر کی تجویز، بجٹ میں ڈیڑھ ارب روپے مختص ہونے کا امکان
  • پاکستان میں سونے کی قیمت میں پھر بڑا اضافہ
  • سونے کی فی تولہ قیمت میں پھر سے ہزاروں روپے کا اضافہ
  • شوگر ملز ایسوسی ایشن کا چینی برآمد کرنے کا مطالبہ، ماضی میں اس فیصلے سے کیا نقصان ہوا؟
  • چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا