حج سکیم کے تحت رجسٹریشن، ملک بھر سے 4لاکھ 55ہزار سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروا لی
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
حج سکیم کے تحت رجسٹریشن، ملک بھر سے 4لاکھ 55ہزار سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروا لی WhatsAppFacebookTwitter 0 4 August, 2025 سب نیوز
لاہور(سب نیوز)وزارت مذہبی امور کی جانب سے شروع کئے گئے حج رجسٹریشن کے عمل میں ملک بھر سے 4 لاکھ 55 ہزار سے زائد افراد نے رجسٹریشن کروا لی۔
سرکاری اعلامیے کے مطابق اس سال بھی حکومت نے دو حج پیکجز کا اعلان کیا ہے جن میں ایک طویل مدتی اور دوسرا مختصر مدتی حج پیکج شامل ہے، طویل مدتی حج پیکیج 38 سے 42 دنوں پر مشتمل ہو گا جبکہ مختصر یا شارٹ حج پیکج 20 سے 25 دن کے قیام پر مبنی ہو گا۔
حج اخراجات کی ادائیگی دو اقساط میں وصول کی جائے گی، طویل مدتی حج کے خواہشمند افراد کو درخواست کے ساتھ ابتدائی طور پر 5 لاکھ روپے جبکہ شارٹ پیکج کے لیے 5 لاکھ 50 ہزار روپے جمع کرانا ہوں گے، پیکج کی دوسری قسط نومبر 2025 میں وصول کی جائے گی۔
اس سال سرکاری حج سکیم کے تحت ایک لاکھ 19 ہزار عازمین کا کوٹہ مختص کیا گیا ہے جبکہ نجی حج سکیم کے لیے 60 ہزار افراد کو کوٹہ فراہم کیا جائے گا۔وزارت مذہبی امور کا کہنا ہے کہ درخواست دہندگان کی قرعہ اندازی مقررہ وقت پر کی جائے گی اور منتخب افراد کو بروقت اطلاع دی جائے گی۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookTwitter پچھلی خبرنومئی کیا ہے بھگتنا تو پڑیگا،پی ٹی آئی والے شور نہ مچائیں ،عدالت جائیں،وفاقی وزیر عطا تارڑ نومئی کیا ہے بھگتنا تو پڑیگا،پی ٹی آئی والے شور نہ مچائیں ،عدالت جائیں،وفاقی وزیر عطا تارڑ حکومت کا نیشنل آرٹیفیشل انٹیلی جنس فنڈ کے قیام،سالانہ 2لاکھ افراد کو اے آئی ٹریننگ دینے کا فیصلہ پی ٹی آئی کی 5اگست کو ایف نائن پارک میں جلسے کی درخواست مسترد، مختلف شاہراہوں پر ڈھائی ہزار پولیس اہلکار تعینات کرنے کا... کشمیر یوں سے اظہار یکجہتی کیلئے 5اگست کو 1منٹ کی خاموشی اختیار کرنے کا فیصلہ،پی ٹی آئی احتجاج کیلئے کوئی اور دن رکھتی تو... پی ٹی آئی احتجاج کے پیش نظرراولپنڈی میں دفعہ 144نافذ، ڈبل سواری اور سیاسی اجتماعات پر پابندی عائد پی ٹی آئی نے 5اگست احتجاجی پلان کو حتمی شکل دیدی، اڈیالہ کے باہر احتجاج کا فیصلہ، ارکان قومی اسمبلی اور سینیٹرز اسلام آباد...
Copyright © 2025, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہمارے بارے ہماری ٹیم
ذریعہ
ذریعہ: Daily Sub News
کلیدی لفظ: حج سکیم کے
پڑھیں:
آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے آزاد جموں و کشمیر میں ترقیاتی، تعلیمی، صحت، توانائی، مواصلات اور بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے 54 ارب 17 کروڑ 37 لاکھ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 43 ارب 10 کروڑ 54 لاکھ روپے جبکہ نئے منصوبوں کے لیے 3 ارب 94 کروڑ 45 لاکھ روپے سے زائد فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ آزاد کشمیر بلاک ایلوکیشن کے لیے 33 ارب روپے اور وزیراعظم کے خصوصی ترقیاتی پیکج کے لیے 5 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں تعلیمی شعبے کو خصوصی اہمیت دی گئی ہے۔ آزاد کشمیر کے چار اضلاع میں دانش سکولوں کے قیام اور توسیع کے منصوبوں کے لیے 6 ارب 27 کروڑ روپے سے زائد فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔ ضلع باغ کے ہاڑی گہل میں دانش سکول کے لیے 2 ارب 14 کروڑ روپے، بھمبر میں 60 کروڑ روپے، وادی نیلم کے شاردا میں ایک ارب 55 کروڑ روپے جبکہ حویلی کہوٹہ میں دانش سکول کے قیام کے لیے 2 ارب 9 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔
توانائی کے شعبے میں جگراں-II ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے ایک ارب 14 کروڑ 94 لاکھ روپے، شاردا-II منصوبے کے لیے 10 کروڑ روپے اور نگدر ہائیڈرو پاور منصوبے کے لیے 30 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔ دواریاں ہائیڈرو پاور منصوبہ بھی ترقیاتی پروگرام میں شامل ہے۔
بنیادی ڈھانچے کی بہتری کے لیے آزاد کشمیر قانون ساز اسمبلی کمپلیکس، رٹھوعہ ہریام پل اور نوسیری لیسوا بائی پاس روڈ سمیت متعدد منصوبوں کے لیے فنڈز رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
صحت کے شعبے میں میرپور، مظفرآباد اور راولاکوٹ کے میڈیکل کالجوں کے انفراسٹرکچر اور سہولیات کی بہتری کے لیے کروڑوں روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ اس کے علاوہ میرپور واٹر سپلائی و سیوریج اسکیم، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اور ایل او سی متاثرین کی بحالی کے منصوبوں کو بھی شامل کیا گیا ہے۔
دستاویزات کے مطابق آزاد کشمیر میں لینڈ ریکارڈ کمپیوٹرائزیشن، آسان خدمت مرکز مظفرآباد، کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کی استعداد کار میں اضافے اور گورنمنٹ کالجز آف ٹیکنالوجی کے قیام کے منصوبوں کے لیے بھی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔
حکومت نے آئندہ مالی سال کے ترقیاتی پروگرام میں تعلیم، صحت، توانائی، سڑکوں کے انفراسٹرکچر اور شہری سہولیات کے منصوبوں کو خصوصی ترجیح دی ہے۔