برطانیہ کے بادشاہ چارلس سوم نے شہزادی میگھن مارکل کی 44ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے بیٹے شہزادہ ہیری کی جانب محبت بھرا اور حوصلہ افزا اشارہ دیا جسے شاہی خاندان میں ممکنہ مفاہمت کی امیدوں سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: اپنے والد اور بھائی کو واپس چاہتا ہوں: شہزادہ ہیری

76 سالہ بادشاہ کو میگھن کی سالگرہ کے دن (4 اگست) خوشگوار موڈ میں عوامی تقریب Mey Highland Games میں شرکت کرتے ہوئے دیکھا گیا جہاں وہ خصوصی افراد کے ساتھ کھیلوں اور روایتی موسیقی سے لطف اندوز ہوتے رہے۔ ان کی یہ گرمجوش شرکت ماہرین کے مطابق شہزادہ ہیری کے لیے ایک نرم گوشے کا اظہار بھی ہو سکتی ہے۔

یہ تقریب ایسے وقت میں ہوئی جب رپورٹس کے مطابق، شہزادہ ہیری اور ان کے والد کے درمیان تعلقات میں بہتری کے آثار ظاہر ہو رہے ہیں۔ ہیری بھی اپنے والد کی صحت یابی کی خواہش کے ساتھ ممکنہ طور پر شاہی خاندان سے دوبارہ روابط بڑھانے کی کوششوں میں ہیں۔

شہزادہ ہیری، جو Invictus Games کے بانی ہیں، جلد ہی برطانہ واپس پہنچیں گے۔ یہ گیمز زخمی، بیمار اور معذور سابقہ فوجی اہلکاروں کے لیے ایک نئی زندگی، مقصد اور شناخت کی راہیں کھولنے کا ذریعہ سمجھی جاتے ہیں۔

مزید پڑھیے: برطانوی شاہی خاندان کی باہمی رنجشیں برقرار: پرنس ہیری بڑے بھائی شہزادہ ولیم کو منانے میں ناکام رہے

بادشاہ چارلس کی حکومت نے حال ہی میں سنہ 2027 میں برطانیہ میں ان کھیلوں کی میزبانی جیت لی ہے جو شہزادہ ہیری کی کوششوں کو خراج تحسین کے مترادف ہے۔

مزید پڑھیں: اپنی شادی پر بادشاہ چارلس اور لیڈی ڈیانا کے چپکے چپکے آنسو بہانے کا عقدہ کھل گیا

دلچسپ بات یہ ہے کہ میگھن کی سالگرہ اسی دن آتی ہے جس دن ملکہ الزبتھ دوم کی والدہ آنجہانی ملکہ الزبتھ، کوئین مدر کی سالگرہ ہوتی ہے (4 اگست 1900) اور یہی Mey Games کی روایت کا نقطۂ آغاز بھی بنا۔

ملکہ الزبتھ (کوئین مدر)

شاہی خاندان کے قریبی ذرائع امید ظاہر کر رہے ہیں کہ محبت بھرے یہ چھوٹے اشارے، وقت کے ساتھ فاصلے مٹا سکتے ہیں — اور شاید جلد ہی شاہی گھر کی رونقیں پھر سے پوری ہو جائیں۔

سال 1950 کی یادگار تصویر: بادشاہ چارلس کی والدہ ملکہ الزبتھ دوم (دائیں) اپنی والدہ کوئین مدر کے ہمراہ۔

شہزادہ ہیری اور ان کی اہلیہ میگھن مارکل کی شاہی خاندان سے دوری کی بنیاد سنہ 2020 میں اس وقت پڑی جب دونوں نے ’سینیئر رائلز‘ کی حیثیت سے دستبرداری کا اعلان کردیا تھا جسے میڈیا میں ’میگزیٹ کا نام دیا گیا۔ اس فیصلے کے بعد دونوں امریکا منتقل ہو گئے جہاں انہوں نے آزادی اور نجی زندگی کو ترجیح دی۔ اس وقت ہیری اور میگھن نے دعویٰ کیا تھا کہ شاہی ادارہ ان کی حمایت میں مؤثر نہیں تھا۔

یہ بھی پڑھیے: بادشاہ چارلس کی فراخدلی، کیا ناراض بہو تاجپوشی میں شرکت کریں گی؟

بائیں سے دائیں: شہزادی کیتھرین، شہزادہ ولیم، شہزادہ ہیری اور شہزداری میگھن

سنہ2021  میں اوپرا ونفری کو دیے گئے انٹرویو نے تعلقات کو مزید کشیدہ کر دیا جس میں میگھن نے شاہی خاندان پر نسل پرستانہ رویے کا الزام لگایا اور شہزادہ ہیری نے یہ بھی کہا کہ ان کے والد (تب کے پرنس چارلس) نے ایک وقت پر ان کی کالز لینا بند کر دی تھیں۔

ان واقعات کے بعد شاہی خاندان اور ہیری کے تعلقات میں سرد مہری قائم رہی اگرچہ وقتاً فوقتاً مصالحت کی کوششیں اور اشارے سامنے آتے رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: یونانی جزیرے پر تاروں بھرے آسمان تلے شادی کی پیشکش، شہزادی ڈیانا کی بھانجی الائزا نے ’ہاں‘ کہہ دی

ماہرین کا کہنا ہے کہ شہزادہ ولیم ان کی اہلیہ کیٹ اور (سوتیلی والدہ) ملکہ کمیلا اس مفاہمت کے شدید خلاف ہیں۔ بادشاہ چارلس بھی نہیں چاہیں گے کہ ان تینوں کے خلاف جائیں۔ اس لیے فی الحال مکمل مصالحت عملی طور پر ممکن دکھائی نہیں دے رہی۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بادشاہ چارلس شہزادہ ہیری کوئین مدر میگھن مارکل.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: بادشاہ چارلس شہزادہ ہیری کوئین مدر بادشاہ چارلس شہزادہ ہیری شاہی خاندان کی سالگرہ کوئین مدر ہیری اور

پڑھیں:

مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ

ایک نئی سائنسی تحقیق میں یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں تیزی سے آنے والی کمی سے تعلق رکھ سکتا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ یہ اجزا چینی کے متبادل کے طور پر استعمال کیے جاتے ہیں، تاہم ان کے طویل المدتی اثرات دماغی صحت کے لیے تشویش کا باعث بن سکتے ہیں۔

یہ تحقیق امریکن اکیڈمی آف نیورولوجی کے جریدے نیورولوجی میں شائع ہوئی، جس میں تقریباً 13 ہزار بالغ افراد کی آٹھ برس تک نگرانی کی گئی۔ تحقیق کے دوران کم یا بغیر کیلوریز والی مٹھاس کے سات عام اجزا کا جائزہ لیا گیا، جن میں ایسپارٹیم، سیکرین، ایسی سلفیم کے، اریتھریٹول، زائیلیٹول، سوربیٹول اور ٹیگاٹوز شامل تھے۔

تحقیقی نتائج کے مطابق وہ افراد جو روزانہ اوسطاً 191 ملی گرام مصنوعی مٹھاس استعمال کرتے تھے، جو تقریباً ایک کین ڈائٹ سوڈا میں موجود ایسپارٹیم کے برابر مقدار ہے، ان میں کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں یادداشت اور ذہنی کارکردگی میں کمی کی رفتار 62 فیصد زیادہ دیکھی گئی۔

اسی طرح درمیانی مقدار میں مصنوعی مٹھاس استعمال کرنے والے افراد میں بھی ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا خطرہ نمایاں رہا، جہاں یہ شرح کم استعمال کرنے والوں کے مقابلے میں 35 فیصد زیادہ ریکارڈ کی گئی۔

محققین کے مطابق یہ تعلق 60 سال سے کم عمر افراد اور ذیابیطس کے مریضوں میں زیادہ نمایاں دیکھا گیا، کیونکہ یہ افراد عام چینی کے بجائے مصنوعی مٹھاس کا زیادہ استعمال کرتے ہیں۔

تحقیق میں شامل سات میٹھے اجزا میں سے صرف ٹیگاٹوز ایسا جز تھا جس کا ذہنی صلاحیتوں میں تیز رفتار کمی سے واضح تعلق سامنے نہیں آیا، جبکہ باقی چھ اجزا اس خطرے سے منسلک پائے گئے۔

تحقیق کی مرکزی مصنفہ، یونیورسٹی آف ساؤ پالو سے وابستہ ڈاکٹر کلاڈیا کیمی سوئیموتو نے کہا کہ مصنوعی مٹھاس کو عموماً صحت مند متبادل سمجھا جاتا ہے، لیکن تحقیق کے نتائج اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بعض مصنوعی میٹھے اجزا طویل عرصے تک استعمال کیے جانے کی صورت میں دماغی صحت پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

یہ مصنوعی مٹھاس عام طور پر ڈائٹ سوڈا، فلیورڈ واٹر، انرجی ڈرنکس، دہی اور دیگر کم کیلوریز والی پراسیسڈ غذاؤں میں استعمال کی جاتی ہے۔

تاہم محققین نے اس بات پر بھی زور دیا کہ یہ ایک مشاہداتی تحقیق ہے، اس لیے اس سے یہ حتمی نتیجہ اخذ نہیں کیا جا سکتا کہ مصنوعی مٹھاس ہی براہِ راست یادداشت میں کمی کی وجہ بنتی ہے۔ ان کے مطابق ان نتائج کی مزید تصدیق اور مختلف متبادل میٹھے اجزا کے اثرات جانچنے کے لیے مزید سائنسی تحقیق کی ضرورت ہے۔


 

متعلقہ مضامین

  • سابق گورنر چودھری سرور کے بیٹے انس برطانیہ کے وزیر تجارت نامزد
  • گھوٹکی: سابق ایم پی اے شہریار شر کے بیٹے کو بازیاب کروالیا: ایس ایس پی
  • ’سب کچھ تیار ہے‘ ٹرمپ نے ایران پر تاریخ کے سب سے بڑے حملے کا اشارہ دیدیا
  • امریکا کی 250 ویں سالگرہ 5 روزہ نمائش، آزادی کے تصور پر پاکستانی آرٹسٹس کے فن پارے توجہ کا مرکز
  • مصنوعی مٹھاس دماغی صحت کے لیے خطرہ؟ نئی تحقیق میں یادداشت متاثر ہونے کا اشارہ