بھارت کیخلاف اوول ٹیسٹ میں جو روٹ اور ہیری بروک نے ریکارڈز کی بارش کردی
اشاعت کی تاریخ: 4th, August 2025 GMT
لندن:
انگلینڈ کے تجربہ کار بیٹر اور سابق کپتان جو روٹ اور ہیری بروک نے بھارت کے خلاف جاری پانچویں ٹیسٹ میں ریکارڈز کی بارش کردی۔
اوول میں کھیلے جا رہے پانچویں اور فیصلہ کن ٹیسٹ کی دوسری اننگز میں جو روٹ نے 105 رنز کی دلکش اننگز کھیل کر نہ صرف انگلینڈ کو مستحکم پوزیشن دلائی بلکہ ہوم گراؤنڈ پر سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریوں کا عالمی ریکارڈ بھی توڑ دیا۔
جو روٹ کی یہ انگلینڈ میں 24 ویں ٹیسٹ سنچری تھی جس کے ساتھ ہی انہوں نے آسٹریلیا کے سابق کپتان رکی پونٹنگ، جنوبی افریقہ کے جیک کیلس اور سری لنکا کے مہیلا جے وردھنے کو پیچھے چھوڑ دیا، جن کی ہوم گراؤنڈ پر 23، 23 سنچریاں ہیں۔
جو روٹ نے یہ سنگ میل چوتھے دن کے تیسرے سیشن میں بھارت کے بالر آکاش دیپ کی گیند پر دو رنز لے کر عبور کیا۔ 152 گیندوں پر 12 چوکوں کی مدد سے بنی اس اننگز کے ساتھ وہ ایک اور ریکارڈ کے مالک بن گئے۔
سابق انگلش لیجنڈ جیک ہوبز کا ایک ٹیم کے خلاف سب سے زیادہ ٹیسٹ سنچریوں کا ریکارڈ بھی اب جو روٹ کے نام ہے۔ ہوبز نے اپنے دور میں آسٹریلیا کے خلاف 12 سنچریاں بنائی تھیں جبکہ جو روٹ بھارت کے خلاف 13 سنچریاں مکمل کر چکے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ جو روٹ نے بھارت کے خلاف لگاتار تیسرے ٹیسٹ میچ میں سنچری اسکور کی ہے۔ اس سے قبل لارڈز ٹیسٹ کی پہلی اننگز میں انہوں نے 104 جبکہ مانچسٹر ٹیسٹ میں 150 رنز کی شان دار اننگز کھیلی تھی۔
جو روٹ نے چوتھی اننگز میں ایک اور نصف سنچری اسکور کرتے ہوئے چوتھی اننگز میں سب سے زیادہ ففٹی پلس اسکورز (13) کا ریکارڈ برابر کر دیا۔ وہ اب شیونارائن چندرپال، گریم اسمتھ اور کرس گیل کے ہم پلہ آ گئے ہیں۔
ہیری بروک
مزید برآں ہیری بروک نے صرف 50 اننگز میں اپنی دسویں ٹیسٹ سنچری مکمل کر کے گزشتہ 70 برسوں میں سب سے کم اننگز میں 10 سنچریاں بنانے کا کارنامہ انجام دیا۔ مجموعی طور پر ٹیسٹ تاریخ میں صرف آٹھ بیٹرز ایسے ہیں جنہوں نے اس سے کم اننگز میں یہ سنگ میل عبور کیا ہے۔
ہیری بروک نے پانچویں ٹیسٹ میں صرف 91 گیندوں پر سنچری مکمل کر کے چوتھی اننگز کی ساتویں تیز ترین سنچری بنائی۔ چوتھی اننگز کی تاریخ کی دو تیز ترین سنچریاں بھی انگلش کھلاڑیوں کے نام ہیں، گلبرٹ جیساپ (76 گیندوں پر، 1902) اور جونی بیئرسٹو (77 گیندوں پر، 2022)۔
سیریز میں بننے والے ریکارڈز:
سیریز میں مجموعی طور پر 21 انفرادی سنچریاں اسکور ہوئیں جو ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ سنچریوں کا مشترکہ ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل یہ ریکارڈ ویسٹ انڈیز اور آسٹریلیا (1955) کی سیریز میں قائم ہوا تھا۔
اس سیریز میں 9 بیٹرز نے 400 سے زائد رنز بنائے جو کہ کسی بھی ٹیسٹ سیریز میں سب سے زیادہ ہے۔ اس سے قبل یہ تعداد زیادہ سے زیادہ 8 رہی تھی۔
19 سنچری پارٹنرشپس بھی اس سیریز میں قائم ہوئیں جو ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ میں کسی سیریز میں سب سے زیادہ کا برابر ریکارڈ ہے۔ اس سے قبل 1957-58 میں ویسٹ انڈیز بمقابلہ پاکستان اور 1967-68 کی وزڈن ٹرافی میں بھی یہی تعداد دیکھی گئی تھی۔
اوول ٹیسٹ کے دوران انگلینڈ نے اپنے ٹیسٹ کرکٹ کی تاریخ کی 100ویں سنچری اس گراؤنڈ پر مکمل کی۔ اوول اب انگلینڈ کا دوسرا ایسا مقام ہے جہاں ٹیم نے 100 یا اس سے زیادہ سنچریاں اسکور کیں۔ اس سے پہلے لارڈز میں انگلینڈ کے بلے باز 141 سنچریاں بنا چکے ہیں۔
دلچسپ امر یہ ہے کہ آسٹریلیا کے تین میدان میلبورن (116)، ایڈیلیڈ (110)، اور سڈنی (108) ایسے ہیں جہاں ان کے بیٹرز نے یہ سنگ میل عبور کیا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: میں سب سے زیادہ ہیری بروک نے چوتھی اننگز ٹیسٹ سنچری گیندوں پر جو روٹ نے بھارت کے ٹیسٹ میں کے خلاف
پڑھیں:
بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
گزشتہ ماہ 15 مئی کو بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے ایک سماعت کے دوران جعلی ڈگریوں کے ذریعے مختلف پیشوں میں آ جانے والے لوگوں کو پیراسائٹس قرار دیا تو ان کے اِس بیان نے نہ صرف سوشل میڈیا پر ایک بحث کو جنم دیا بلکہ ایک سیاسی جماعت بھی قائم ہوگئی جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
گوکہ بعد میں بھارتی چیف جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کے الفاظ کو غلط انداز میں پیش کیا گیا اور ان کا ہدف تمام بے روزگار نوجوان نہیں تھے بلکہ مخصوص افراد تھے جنہوں نے جعلی اسناد کے ذریعے پیشہ ورانہ شعبوں میں جگہ بنائی لیکن بیان پر آنے والا عوامی ردعمل کم نہیں ہوا۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتا پارٹی: اکاؤنٹس ہیک، اہلخانہ کو ہراساں کیا جا رہا ہے، بانی بھارتی جین زی اکاؤنٹ
بھارتی حکومت کی جانب سے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے خلاف اٹھائے گئے اقدامات ’کاؤنٹر پروڈکٹو‘ ثابت ہو رہے ہیں۔
بھارتی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کو محدود کرنے کی کوششیں کی ہیں لیکن یہ اقدامات جین زی کو پارٹی سے زیادہ جوڑ رہے ہیں۔
کاکروچ جنتا پارٹی کیسے بنی؟بھارتی چیف جسٹس سوریا کانت کے ریمارکس کے ردعمل میں امریکا میں مقیم بھارتی طالب علم اور تعلقاتِ عامہ کے ماہر ابھیجیت دیپکے نے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ سیاسی پلیٹ فارم قائم کیا جس کا نام ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ رکھا گیا۔
ابتدائی طور پر یہ ایک مزاحیہ اور طنزیہ مہم تھی، لیکن چند ہی دنوں میں لاکھوں نوجوان اس میں شامل ہوگئے۔ پارٹی نے اپنے آپ کو بے روزگار، آن لائن رہنے والے اور نظام سے مایوس نوجوانوں کی آواز کے طور پر پیش کیا اور اس کا مقصد روایتی سیاست کا مذاق اڑانا تھا۔
نوجوان نسل میں بڑھتا ہوا غم و غصہ بی جے پی کے سوشل میڈیا پر غلبے کے لیے ایک بڑا چیلنج بن گیا ہے۔
بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت جس طرح اصل مسائل سے صرفِ نظر کرتے ہوئے تمام مسائل کو مذہب سے جوڑتی چلی آئی ہے اور جس طرح سے اس نے نوجوانوں کی بے روزگاری اور تعلیمی مسائل کو قالین کے نیچے چھپانے کی کوشش کی ہے ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کی مقبولیت نے تمام مفروضے غلط ثابت کر دیے ہیں۔
بھارتی سوشل میڈیا جو زیادہ تر وہاں دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے غلبے میں ہے اور جہاں بی جے پی پر تنقید کو ہندوؤں پر تنقید سے تعبیر کرکے ٹرولنگ اور نفرت کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ایسے ماحول کے اندر کاکروچ جنتا پارٹی کا بی جے پی کے سوشل میڈیا غلبے کو توڑنا ایک اہم پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اب تک کیا کچھ کر چُکی ہے؟’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کے قیام کے بعد محض 2 ہفتوں کے اندر یہ ایک سوشل میڈیا مذاق یا میم مہم سے بڑھ کر ایک قابلِ ذکر سیاسی و سماجی فِنامنا بن گئی ہے۔ لاکھوں نوجوانوں نے آن لائن اس کی رکنیت اختیار کی جبکہ انسٹاگرام، ایکس اور دیگر پلیٹ فارمز پر اس کے صفحات نے غیر معمولی مقبولیت حاصل کی۔
چند ہی دنوں میں اس کے انسٹاگرام فالوورز کی تعداد کروڑوں تک جا پہنچی ہے۔ کاکروچ جنتا پارٹی جو تاحال ایک غیر منظم تحریک کی شکل میں موجود ہے اس نے بے روزگاری، نوکریوں کے لیے مقابلے کے امتحانات میں مبینہ بے ضابطگیوں، پرچہ لیک اسکینڈلز، مہنگائی اور نوجوانوں کے معاشی مسائل کو اپنی مہم کا مرکزی موضوع بنایا۔
حکومت کی جانب سے اس کے ایکس اکاؤنٹ کو بھارت میں محدود یا معطل کیے جانے کے بعد معاملہ مزید توجہ کا مرکز بن گیا اور اس اقدام کو عدالت میں چیلنج کیا گیا، جس کے نتیجے میں آزادیِ اظہار اور سوشل میڈیا سنسرشپ پر نئی بحث چھڑ گئی۔
ادھر دہلی، ممبئی، پونے، بنگلورو اور دیگر شہروں میں نوجوانوں نے علامتی احتجاجی سرگرمیوں کا انعقاد کیا جہاں بعض شرکا نے کاکروچ کے ماسک اور ملبوسات پہن کر خود کو اس متنازع اصطلاح سے منسلک کیا جس نے اس تحریک کو جنم دیا تھا۔
تحریک کے بانی ابھجیت دیپکے نے خدشہ ظاہر کیا کہ بھارت واپسی کی صورت میں انہیں قانونی کارروائی یا گرفتاری کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
اس تمام عرصے میں کاکروچ جنتا پارٹی نے نوجوان نسل کے سوالات کو ایک منظم اور نمایاں ڈیجیٹل آواز فراہم کردی، جس کے باعث یہ معاملہ اب محض ایک طنزیہ مہم نہیں بلکہ بھارت کے سیاسی مباحثے کا اہم موضوع بن چکا ہے۔
کیا کاکروچ جنتا پارٹی واقعی سیاسی قوت بن سکتی ہے؟پارٹی کے بانی ابھیجیت دیپکے نے 6 جون کو بھارت واپسی اور جنتر منتر (دہلی میں احتجاجات کے لیے معروف مقام) پر احتجاجی دھرنے کا اعلان کیا ہے جو وزیرِ تعلیم کے استعفیٰ کے لیے دیا جائے گا۔
2011-12 میں بھارتی سماجی کارکن انا ہزارے نے بھی جنتر منتر پر دھرنا دیا تھا جس کا مقصد کرپشن کے خلاف لوک پال بِل (قانون سازی) کی منظوری تھا جس میں وہ کامیاب رہے لیکن انا ہزارے نے اپنی تحریک کو سیاسی تحریک نہیں بنایا تھا، تاہم ان کی جماعت کے ایک سرکردہ رہنما اروند کیجریوال نے بعدازاں ایک سیاسی جماعت عام آدمی پارٹی کی بنیاد رکھی جس نے پہلے دہلی اور اب بھارتی پنجاب میں حکومت بنا رکھی ہے۔
کاکروچ جنتا پارٹی اپنی مقبولیت کے باعث کوئی سیاسی جماعت قائم کر سکے گی یا نہیں اس پر بھارت کے سیاسی مبصرین منقسم ہیں۔
بعض تجزیہ کاروں کے مطابق کاکروچ جنتا پارٹی صرف ایک ’میم موومنٹ‘ ہے جو وقت کے ساتھ ختم ہو جائے گی۔ اس کے پاس نہ تنظیمی ڈھانچہ ہے، نہ مقامی قیادت اور نہ ہی کوئی واضح انتخابی حکمت عملی۔
مزید پڑھیں: کاکروچ جنتاپارٹی کا بھارتی وزیرِ تعلیم کیخلاف احتجاج کا اعلان
دوسری جانب کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ اس کی اصل اہمیت انتخابات میں نہیں بلکہ اس حقیقت میں ہے کہ اس نے نوجوانوں کی ناراضی کو منظم شکل دے دی ہے۔ یہ تحریک شاید خود سیاسی جماعت نہ بن سکے، لیکن اس نے بھارتی سیاست کو یہ پیغام ضرور دیا ہے کہ سوشل میڈیا کی نئی نسل روایتی نعروں سے مطمئن نہیں ہوتی۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews بھارت بھارتی چیف جسٹس حکومت کے لیے چیلنج سوشل میڈیا مہم کاکروچ جنتا پارٹی وی نیوز