دوریاں اتنی بڑھ گئیں، سیاستدان ملنے سے گریزاں ہیں، اعظم نذیر تارڑ
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ سیاست میں نفرت اتنی بڑھ گئی کہ ہم ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں، ہمیں اپنی، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا، ورنہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کے پاس زیرک لوگ ہیں، بیٹھ کر مسئلوں کا حل تلاش کریں۔ اسلام ٹائمز۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ دوریاں اتنی بڑھ گئیں، سیاستدان ایک دوسرے سے ملنے سے گریزاں ہیں۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ سیاست میں نفرت اتنی بڑھ گئی کہ ہم ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں، ہمیں اپنی، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ دستور ہے کہ ہم جانے والے کو اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں، میاں اظہر ہمیشہ سعادت کا پیکر بنے رہے، میاں اظہر ہمیشہ بہت پیار اور خلوص سے ملتے تھے۔ وفاقی وزیر قانون کا کہنا تھا کہ دوریاں اتنی بڑھ گئی ہیں کہ ہم ایک دوسرے سے ملنے سے گریزاں ہیں، سیاست دانوں نے ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھنا ختم کر دیا، اس حد تک نہ جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہو، دونوں طرف کی تکلیف کا احساس کیا جائے، اپوزیشن احتجاج کی بجائے مذاکرات کا راستہ اپنائے۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ شہباز شریف جب وزیراعظم بنے تو انہوں نے بات چیت پر زور دیا، سیاست میں نفرت اتنی بڑھ گئی کہ ہم ایک میز پر بیٹھنے کے لیے تیار نہیں، ہمیں اپنی، اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنا ہو گا، ورنہ مسائل حل نہیں ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ آپ کے پاس زیرک لوگ ہیں، بیٹھ کر مسئلوں کا حل تلاش کریں، استدعا ہے کہ چیزوں کو وہاں تک رکھیں جہاں سے واپسی ممکن ہو، جب تک بات کرنے کے بجائے گریبان پکڑیں گے تو جھگڑا چلتا رہے گا۔ اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا کہ شہباز شریف کی والدہ کی میت کی موجودگی میں عدالت میں گواہی ریکارڈ کی گئی۔
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ اتنی بڑھ گئی کہ ہم ایک
پڑھیں:
ایران جنگ طول پکڑنے پر ٹرمپ کو میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا
امریکی صدر کا کہنا تھا کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا۔ اسلام ٹائمز۔ ایران جنگ کے طول پکڑنے پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ میڈیا اور اپنی انتظامیہ کے دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔ الجزیرہ ٹی وی کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو میڈیا اور ممکنہ طور پر اپنی ہی انتظامیہ کی جانب سے بڑھتے ہوئے دباؤ کا سامنا ہے، خاص طور پر اس حوالے سے کہ وہ بارہا یہ پیش گوئی کرتے رہے ہیں کہ موجودہ تنازع جلد ہی حل ہو جائے گا۔ تنازع کے آغاز پر ٹرمپ نے دعویٰ کیا تھا کہ جنگ صرف چند دن جاری رہے گی، بعد ازاں انہوں نے کہا کہ معاملہ چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا، تاہم جنگ طویل عرصے سے جاری ہے اور اس کے خاتمے کے آثار تاحال واضح نہیں ہیں، اس کے باوجود ٹرمپ مسلسل اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ معاہدہ قریب ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں اور کوئی معاہدہ طے نہ پایا تو امریکہ ایران کے خلاف سخت کارروائی کرے گا، صدر ٹرمپ روزانہ کی بنیاد پر اس مؤقف کا اعادہ کر رہے ہیں کہ فریقین معاہدے کے قریب پہنچ چکے ہیں، لیکن اگر بات چیت کسی نتیجے تک نہ پہنچی تو امریکا اپنی فوجی طاقت استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔