کوہستان اسکینڈل: پشاور ہائیکورٹ نے نیب کو سید مہتاب شاہ کی گرفتاری سے روک دیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
—فائل فوٹو
پشاور ہائی کورٹ نے کوہستان اسکینڈل کیس میں نیب کو درخواست گزار سید مہتاب شاہ کی گرفتاری سے روک دیا۔
کوہستان اسکینڈل کیس میں ملزم مہتاب شاہ کی نیب نوٹس کے خلاف درخواست پر سماعت جسٹس سید ارشد علی اور جسٹس فرح جمشید نے کی۔
عدالت نے نیب کو نوٹس جاری کرتے ہوئے جواب طلب کر لیا۔
درخواست گزار کے وکیل نے کہا کہ درخواست گزار پراپرٹی ڈیلر ہے اور نیب نے نوٹس جاری کیا ہے۔
بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ایک روز قبل بیرسٹر سیف کی ہونے والی ملاقات کی اندرونی کہانی سامنے آگئی۔
جسٹس سید ارشد علی نے اسپیشل پراسیکیوٹر نیب سے استفسار کیا کہ نیب نے وارنٹ جاری کیا ہے؟
اسپیشل پراسیکیوٹر نیب نے عدالت کو بتایا کہ نیب نے نوٹس جاری کیا ہے، وارنٹ جاری نہیں کیا۔
وکیل نے کہا کہ درخواست گزار نیب کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے۔
پشاور ہائی کورٹ نے ملزم مہتاب شاہ سے کہا کہ نیب آپ کو بلائے تو تفتیش میں تعاون کریں، آپ کو گرفتار نہیں کریں گے۔
جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 20 اگست تک ملتوی کر دی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: کوہستان اسکینڈل درخواست گزار مہتاب شاہ
پڑھیں:
کوہستان کرپشن کیس، نیب نے 6 ارب کے ریکور اثاثے خیبر پختونخوا کے حوالے کردیے
فائل فوٹوکوہستان مالیاتی کرپشن کیس میں قومی احتساب بیورو (نیب) نے 6 ارب روپے کے اثاثے ریکور کرکے خیبر پختونخوا حکومت کے حوالے کردیے جبکہ مزید ریکوری کا عمل جاری ہے۔
چیئرمین نیب لیفٹیننٹ جنرل (ر) نذیر احمد نے پشاور میں اثاثے چیف سیکرٹری خیبر پختونخوا شہاب علی شاہ کے حوالے کیے۔
نیب حکام کے مطابق پہلے مرحلے میں 6 ارب روپے سے زائد مالیت کے اثاثے صوبائی حکومت کے حوالے کیے گئے ہیں، جن میں نقد رقم، سونا، قیمتی جائیدادیں اور لگژری گاڑیاں شامل ہیں، اثاثوں کی واپسی منظم اور جامع تحقیقات کے نتیجے میں عمل میں آئی۔
نیب حکام کے مطابق کوہستان مالیاتی کرپشن میں سرکاری فنڈز سے 37 ارب روپے سے زائد کا غبن ہوا ہے، پیچیدہ مالیاتی غبن کو مؤثر تحقیقات کے ذریعے بے نقاب کیا گیا۔
چیئرمین نیب نے کہا کہ ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) نیب خیبر پختونخوا فرمان اللہ اور تحقیقاتی ٹیم کی کارکردگی قابل ستائش ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کوہستان مالیاتی کرپشن میں مزید ریکوری کا عمل جاری ہے، قانونی کارروائی مکمل ہونے پر مزید اثاثے خیبر پختونخوا حکومت کو منتقل کیے جائیں گے، عوامی وسائل قومی امانت ہیں، ان کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔