وفاقی حکومت کی 26ویں ترمیم پر مذاکرات کیلیے اپوزیشن کو دعوت
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد:
وفاقی حکومت نے 26 ویں ترمیم پر بہتری کے لیے اپوزیشن کو مذاکرات کے لیے دعوت دے دی۔
قومی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے وفاقی وزیر اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 26 ویں ترمیم جس شکل میں ہوئی، کیا گناہ کیا ہے؟ ایوان نے دو تہائی اکثریت سے منظور کی ہے لیکن آپ سمجھتے ہیں کہ اس میں مزید بہتری لائی جا سکتی ہے تو آئیں بیٹھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ساری دنیا میں ججز کی تعیناتی اس طرح ہوتی ہے، دس دس سال فوجداری مقدمات کے فیصلے نہیں ہوتے۔
وزیر قانون نے کہا کہ 108 ترامیم کا مسودہ قانون و انصاف کی کمیٹی میں پڑا ہوا ہے، آئیں اس کا جائزہ لیں، آئیں وہاں سے شروع کرتے ہیں، ہم پہلے بھی تیار تھے اور آج بھی تیار ہیں، مسودے پھاڑنے سے مسئلے حل نہیں ہوتے، آئیں ڈائیلاگ کے لیے بیٹھیں۔
اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ آج آپ کہہ رہے ہیں حکومت ٹھیک نہیں، اپریل 2022 میں ایک قرارداد آئی تھی اور ڈیڑھ منٹ میں وہ قرارداد مسترد کی گئی پھر اسمبلی توڑ دی گئی، آپ کو تحریک عدم اعتماد سے جان چھڑانا تھی۔
وفاق وزیر نے کہا کہ یہ نہ کہیں کہ آپ کا کتا ٹامی ہے اور ہمارے کتا کتا ہے، کسی سیاسی مصلحت کے تحت اسمبلیاں تحلیل کر دی گئیں اور سیاستدانوں کو پہلی دفعہ سزا نہیں ہوئی۔ ہمیں بات چیت کے لیے کسی بند کمرے میں بیٹھنا پڑے گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
نیب کیسز سے متعلق سپریم کورٹ نے فیصلہ سیا دیا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ نیب کیسز سننے کا سپریم کورٹ کو اختیار نہیں ہے، نیب قانون کی شق 32 اور 32 اے کے تحت سپریم کورٹ کو اس سماعت کا اختیار ہی نہیں، نیب کیسز میں مرکزی اپیلوں اور ضمانت کی درخواستوں کی سماعت وفاقی آئینی عدالت کرے گی۔بانی پی ٹی آئی نے بھی ہائیکورٹ کے ضمانت کیس کےخلاف سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا، رجسٹرار سپریم کورٹ نے درخواست اعتراضات عائد کرکے واپس کر دی تھی۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد بانی پی ٹی آئی کی ضمانت کا کیس وفاقی آئینی عدالت سنے گی، نیب کیسز آرٹیکل 175 اے اور ایف کے تحت تمام کیسز وفاقی آئینی عدالت کو ٹرانسفر تصور سمجھےجائیں گے۔خیال رہے کہ سپریم کورٹ میں نیب کے ایک زیر سماعت کیس کے دوران اختیار سماعت کا سوال اٹھا تھا۔نیب قانون میں 5 مارچ 2026 کو ترمیم کی گئی تھی، نیب قانون کی شق 32 اے کے تحت اپیلیں سننے کا اختیار سماعت وفاقی آئینی عدالت کو سونپا گیا تھا۔جسٹس محمد علی مظہر کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کیس پر سماعتیں کیں، بنچ میں جسٹس مسرت ہلالی اور جسٹس شاہد بلال حسن شامل تھے۔درخواستگزار کے وکیل عباد الرحمان لودھی نے ضمانت کیس سپریم کورٹ میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، وکیل نے دلائل میں نیب ترمیم کے بعد 18 مارچ 2026 کو سپریم کورٹ میں کیس میں ضمانت دینے کا حوالہ دیا تھا۔اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان نے نیب اپیلیں اور ضمانت کیسز وفاقی آئینی عدالت میں چلانے کے حق میں دلائل دیے، اٹارنی جنرل کا مؤقف تھا کیس کا ایک حصہ سپریم کورٹ دوسرا حصہ وفاقی آئینی عدالت میں نہیں چلایا جاسکتا۔نیب وکیل نے بھی وفاقی حکومت کے موقف کی تائید کی تھی، سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ 16 جولائی کو فیصلہ محفوظ کیا تھا۔