بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 6 سال مکمل، کشمیر یوم سیاہ منایا گیا
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
اسلام آباد(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔05 اگست ۔2025 )بھارت کے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے 6 سال مکمل ہوگئے،کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ملک بھر میں یوم استحصال کشمیر بھرپور انداز میں منایا گیا جبکہ کنٹرول لائن کے دونوں اطراف سمیت دنیا بھر میں مقیم کشمیریوں نے اس موقع پر یوم سیاہ منایا ،مقبوضہ کشمیر میں مکمل ہڑتال سے کاروبارزندگی مفلوج ہوکر رہ گیا مظلوم کشمیری بھائیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے پاکستان بھر میں ریلیوں، سیمینارز، تقریبات کا انعقاد کیا گیا.
(جاری ہے)
اسلام آباد میں دفتر خارجہ سے ڈی چوک تک یوم استحصال کشمیر ریلی نکالی گئی، جس میں سینئر حکام اور سول سوسائٹی کی کثیر تعداد نے شرکت کی، اس موقع پر تحریک آزادی کشمیر کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے ڈی چوک پر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی صدر مملکت ،وزیر اعظم اور وفاقی وزار اور دیگر سیاسی ، شخصیات اور عسکری قیادت کی جانب سے کشمیری عوام سے اظہار یکجہتی کے طورپر خصوصی پیغامات جاری کئے گئے . کل جماعتی حریت کانفرنس کی جانب سے یوم استحصال کویوم سیاہ کے طورپر منانے کی اپیل کی گئی تھی آزادکشمیر کے دارلحکومت مظفر آباد سمیت تمام چھوٹے بڑے شہروں میں جلسے، جلوس ریلیاں نکالی گئیں اور مظاہر ے کئے گئے اور 5 اگست 2019 کے بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدام کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا اور عالمی برادری سے اپیل کی گئی کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کےلئے اپنا کرداراداکرے اور بھارت پر دباﺅڈالا جائے کہ وہ مقبوضہ وادی میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بندکرے. مقبوضہ وادی میں بھی یوم سیاہ منایا گیا جبکہ حریت کانفرنس کی اپیل پر مکمل ہڑتال رہی ،کاروباری مراکز،تعلیمی ادارے بندرہے ،سڑکوں پر ٹریفک معطل رہی جس سے کاروبارزندگی مفلوج ہوکررہ گیا اس موقع پر ریاستی انتظامیہ کی جانب سے سیکورٹی کے سخت ترین اقدامات کئے گئے تھے اور فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی تھی اس کے باوجود مختلف مقامات پر احتجاجی مظاہر ے کئے گئے . شرکا نے بھارتی حکومت کے یکطرفہ اقدامات کے خلاف اور آزادی کے حق میں نعرے لگائے اور عالمی برادری کی توجہ مسئلہ کشمیر کے حل اور بھارتی کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کی جانب مبذول کرائی گئی بیرون ممالک میں مقیم کشمیریوں نے بھی اس دن کی مناسبت سے احتجاجی مظاہروں اور دیگر تقریبات و سیمینارز کا اہتمام کیا اور دنیا کی توجہ مسئلہ کشمیر کی جانب مبذول کراتے ہوئے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداوں کی روشنی میں کشمیری عوام کوحق خوارادیت دینے کا مطالبہ کیا گیا یاد رہے کہ بھارت نے کشمیر پر ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور 5 اگست 2019 کو اپنے ہی آئین میں ترمیم کر کے آرٹیکل 370 کو ختم کر دیا تھا. کشمیر میڈیا سروس کے مطابق 5 اگست 2019 سے اب تک 1100 سے زائد املاک نذر آتش اور 21000 سے زائد کشمیری جیل میں قید کردیے گئے، مودی سرکار نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی خود مختار حیثیت چھین کر عسکری محاصرہ سخت کر دیا تھا پانچ اگست کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کہلوانے والے بھارت کا مکروہ چہرے دنیا پر عیاں ہوگئی، مقبوضہ کشمیر کا 58 فیصد رقبہ لداخ، 26 فیصد جموں اور 16 فیصد وادی کشمیر پر مشتمل ہے. مبصرین کا کہنا ہے کہ مودی سرکار مقبوضہ کشمیر کے مسلم تشخص کو مسخ کرنے کیلئے ہر حربے کا استعمال کر رہی ہے، آرٹیکل 370 اور 35اے کی غیر آئینی تنسیخ جنیوا کنونشن 4 کے آرٹیکل 49 کی کھلی خلاف ورزی ہے خصوصی حیثیت ختم ہونے کے بعد مردم شماری کمیشن نے اکثریتی علاقوں کی نشستیں 83 سے بڑھا کر 90 کردیں جبکہ مسلم اکثریتی علاقوں کی نشستوں میں صرف ایک فیصد اضافہ کیا جبکہ مقبوضہ کشمیر میں 56 ہزار ایکڑ اراضی بھی فوج نے قبضے میں لے لی اس کے علاوہ نئے ڈومیسائل قوانین کے تحت 50 لاکھ سے زائد ہندوں کو کشمیر کا ڈومیسائل بھی دے دیا گیا ہے، مودی سرکار مقبوضہ کشمیر میں ہندو اکثریت پر مشتمل ایک نیا ڈویژن بنانے کا ارادہ رکھتی ہے جس میں کشتوار، انتناگ اور کلگم کے اضلاع شامل ہونگے. سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارت آزادی کے بعد سے خود کو سیکولر ملک کے طور پر پیش کرتا رہا ہے جبکہ سچ یہ ہے کہ انڈیا ہمیشہ سے ایک ہندو ملک رہا ہے، اس کے علاوہ عالمی ماہر قانون کا کہنا ہے کہ موجودہ صورتحال میں میں کشمیریوں کے حق خودارادیت کو ناصرف ختم کیا جا رہا ہے بلکہ ان کے انسانی حقوق اور خطے کے امن کے لیے بھی بڑا خطرہ ہے کانگریس کے ایم پی کا کہنا ہے کہ انڈیا کے آئینی تاریخ میں یہ ایک سیاہ دن ہوگا جس سے آنے والی نسلوں کو یہ احساس ہوگا کہ آج کتنی بڑی غلطی کی گئی ہے، یہ ہندوستان کے آئین، جمہوریت، سیکولرازم اور وفاق پر بہت بڑا حملہ ہے.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے خصوصی حیثیت ختم کا کہنا ہے کہ کی جانب سے یوم سیاہ کشمیر کی کشمیر کے کی گئی
پڑھیں:
بھارت امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ، پاکستان
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پاکستان کی جانب سے بھارت کو مؤثر جواب دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ بھارت خود امن دشمن ہے، جموں و کشمیر نہ اُس کا اٹوٹ انگ ہے اور نہ ہی داخلی معاملہ۔
قرارداد 2788 کے تناظر میں تنازعات کے پرامن حل پر مباحثے کے دوران پاکستان مشن کی قونصلر صائمہ سلیم نے حق جواب میں کہا کہ ایک وفد نے تنازعات کے پُرامن حل پر ہونے والی بحث کو حقائق مسخ کرنے، انکار اور بے بنیاد الزامات کے ذریعے متاثر کرنے کی کوشش کی۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کا امن کا درس دینا مضحکہ خیز ہے، جو خود بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی، ہمسایوں کے خلاف جارحیت اور خطے میں ریاستی سرپرستی میں دہشت گردی کا مرتکب ہے۔
پاکستانی مندوب برائے اقوام متحدہ کا کہنا تھا کہ جموں و کشمیر نہ بھارت کا نام نہاد اٹوٹ انگ ہے اور نہ داخلی معاملہ؛ بھارت کا انکار اس تنازع کی بین الاقوامی حیثیت کو تبدیل نہیں کر سکتا۔ بھارت خود جموں و کشمیر کا مسئلہ سلامتی کونسل میں لے کر آیا تھا، مگر آج اسی کونسل کی قراردادوں سے انحراف کر رہا ہے۔ قراردادوں کی کوئی میعاد ختم نہیں ہوتی۔
قونصلر صائمہ سلیم نے کہا کہ آزاد جموں و کشمیر اور بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں و کشمیر کے حالات میں واضح فرق ہے۔ ایک طرف سیاسی آزادی ہے، دوسری طرف جبر، گرفتاریوں اور انسانی حقوق کی پامالیوں کا سلسلہ جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ حقوق کا استعمال اور حقوق سے محرومی ایک جیسی چیزیں نہیں ہو سکتیں۔ کشمیری عوام کے ناقابل تنسیخ حقِ خودارادیت سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا بھارتی فیصلہ بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور سے بے اعتنائی کا مظہر ہے۔
پاکستانی مندوب نے حق جواب میں کہا کہ دریائے سندھ کا پانی پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی زندگی کا ذریعہ ہے، جنگ کا ہتھیار نہیں۔ ایسے غیر ذمہ دارانہ اقدامات علاقائی امن کو خطرے میں ڈال سکتے ہیں۔ پاکستان دہشت گردی کا سب سے بڑا متاثرہ ملک ہے؛ ہزاروں بے گناہ شہریوں کی قربانیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی جدوجہد حقیقی ہے۔
قونصلر صائمہ سلیم کا کہنا تھا کہ بھارت سے منسلک دہشت گردی کے نیٹ ورک علاقائی حدود سے نکل کر عالمی سطح تک پہنچ چکے ہیں۔ کلبھوشن یادیو کیس اس کا ایک واضح ثبوت ہے۔ بھارت میں ہندوتوا پر مبنی انتہا پسند نظریات نے اسلاموفوبیا کو ریاستی پالیسی کا رنگ دے دیا ہے، جبکہ اقلیتیں امتیازی سلوک اور جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان نے اشتعال انگیزی اور جارحیت کے باوجود تحمل کا مظاہرہ کیا، مذاکرات کا راستہ کھلا رکھا اور تنازعات کے پُرامن حل کو ترجیح دی۔ جنوبی ایشیا میں امن کا راستہ انکار یا ہٹ دھرمی نہیں بلکہ اقوام متحدہ کے منشور، بین الاقوامی قانون اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری سے ہو کر گزرتا ہے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ بھارت کو چاہیے کہ قرارداد 2788 پر اس کی روح اور متن کے مطابق عمل کرے، اپنے معاہداتی وعدے پورے کرے اور جموں و کشمیر تنازع کے پُرامن حل کے لیے سنجیدہ کردار ادا کرے۔