بابراعظم کی قومی ٹی 20 سکواڈ میں واپسی کی کرن روشن
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
پاکستان کرکٹ بورڈ نے فخر زمان کے فٹنس مسائل کی وجہ سے سابق پاکستانی کپتان بابراعظم کی ٹی 20 سکواڈ میں واپسی پر غور شروع کر دیا۔ذرائع کے مطابق بابراعظم کی واپسی آئندہ سہ فریقی سیریز اور ایشیا کپ 2025 کے لیے متوقع ہے، فخر زمان ویسٹ انڈیز کے خلاف ٹی 20 سیریز کے دوران ہیمسٹرنگ کا شکار ہو گئے تھے جس کے باعث وہ نہ صرف ٹی 20 بلکہ ون ڈے سیریز سے بھی باہر ہو چکے ہیں۔پی سی بی نے فخر زمان کو فوری طور پر نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور رپورٹ کرنے کی ہدایت کی ہے جہاں وہ ری ہیب کے عمل سے گزریں گے، ایشیا کپ میں ان کی دستیابی غیر یقینی ہے، بورڈ ان کی انجری اور بحالی کے عمل پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے تاہم متبادل منصوبے بھی تیار کیے جا رہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اگر فخر مکمل فٹ نہ ہو سکے تو بابراعظم مضبوط امیدوار کے طور پر سکواڈ میں شامل کیے جا سکتے ہیں تاہم بابر اعظم کی واپسی کا انحصار ویسٹ انڈیز کے خلاف ون ڈے سیریز میں ان کی کارکردگی پر ہے، اگر وہ سلیکٹرز کو متاثر کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں تو ان کی ٹیم میں واپسی کے امکانات روشن ہو جائیں گے۔حال ہی میں بابراعظم نے محمد رضوان اور نسیم شاہ کے ہمراہ چیئرمین پی سی بی محسن نقوی سے ویسٹ انڈیز کے خلاف دوسرے ٹی 20 میچ کے دوران ملاقات بھی کی تھی۔ایشیا کپ کے لیے حتمی سکواڈ کا اعلان اگست کے دوسرے ہفتے میں متوقع ہے، ایشیا کپ 2025 کا آغاز 9 ستمبر کو افغانستان اور ہانگ کانگ کے درمیان گروپ بی کے مقابلے سے ہو گا۔ٹورنامنٹ میں کل 8 ٹیمیں دو گروپس میں تقسیم کی گئی ہیں، پاکستان اور بھارت کو یو اے ای اور عمان کے ساتھ گروپ اے میں رکھا گیا ہے جبکہ گروپ بی میں بنگلا دیش، افغانستان، سری لنکا اور ہانگ کانگ شامل ہیں۔پاکستان اپنا پہلا میچ 12 ستمبر کو عمان کے خلاف کھیلے گا جبکہ روایتی حریف بھارت کے خلاف بڑا ٹاکرا 14 ستمبر کو ہو گا، پاکستان کا آخری گروپ میچ 17 ستمبر کو یو اے ای کے خلاف ہو گا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: ایشیا کپ ستمبر کو کے خلاف
پڑھیں:
مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی: پاکستان سمیت 8 ممالک کا شدید ردعمل، پورا حرم صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ قرار
پاکستان، سعودی عرب، مصر، ترکیہ، انڈونیشیا، اردن، قطر اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے وزرائے خارجہ نے مسجد اقصیٰ میں انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی مسلسل دراندازی، اسرائیلی فورسز کی سرپرستی میں ہونے والی کارروائیوں اور مسجد کے احاطے میں اسرائیلی پرچم لہرانے کی شدید مذمت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: فلسطینی قیدیوں کو سزائے موت سے متعلق اسرائیلی قانون سازی، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مذمتی بیان جاری
8 عرب و اسلامی ممالک کے وزرائے خارجہ نے مشترکہ بیان میں کہا کہ انتہا پسند اسرائیلی آبادکاروں کی یہ اشتعال انگیز اور ناقابل قبول کارروائیاں بین الاقوامی قانون، اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں اور مقبوضہ مشرقی یروشلم میں مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
بیان میں اسرائیل کی جانب سے مقبوضہ مشرقی یروشلم کی تاریخی، قانونی اور آبادیاتی حیثیت تبدیل کرنے اور اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کے تشخص کو نقصان پہنچانے کے لیے جاری منظم اقدامات اور خلاف ورزیوں کی بھی سخت مذمت کی گئی۔
وزرائے خارجہ نے یروشلم اور اس کے اسلامی و مسیحی مقدس مقامات کی تاریخی و قانونی حیثیت تبدیل کرنے کی ہر کوشش کو مسترد کرتے ہوئے اس کے تحفظ پر زور دیا جبکہ اس حوالے سے ہاشمی سرپرستی کے خصوصی کردار کو بھی تسلیم کیا۔
مشترکہ بیان میں کہا گیا کہ مسجد اقصیٰ/الحرم الشریف کا پورا 144 دونم (تقریباً 35.6 ایکڑ) پر مشتمل رقبہ صرف مسلمانوں کی عبادت گاہ ہے اور اردن کی وزارت اوقاف و اسلامی امور سے وابستہ یروشلم اوقاف و مسجد اقصیٰ امور ڈائریکٹوریٹ ہی اس مقدس مقام کے انتظام و انصرام اور داخلے کے امور کا واحد مجاز ادارہ ہے۔
مزید پڑھیے: پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک کا مشترکہ بیان، غزہ میں امن کے لیے ٹرمپ کی کوششوں کا خیرمقدم
وزرائے خارجہ نے اسرائیلی حکام کو ان اشتعال انگیز اقدامات کے فوری خاتمے کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ بار بار کی جانے والی ایسی خلاف ورزیاں خطے میں کشیدگی، عدم استحکام اور انتہا پسندی کو فروغ دیتی ہیں امن کی بین الاقوامی کوششوں کو نقصان پہنچاتی ہیں اور بین الاقوامی قانون کے تحت اسرائیل کی ذمہ داریوں کی صریح خلاف ورزی ہیں۔
انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسرائیل فوری طور پر ایسی تمام غیر قانونی اور اشتعال انگیز کارروائیاں بند کرے اور مسجد اقصیٰ کی تاریخی و قانونی حیثیت کا مکمل احترام یقینی بنائے۔
????PR No.1️⃣4️⃣0️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
Joint Statement by Foreign Ministers of the Group of Eight Arab-Islamic States
????⬇️ pic.twitter.com/qZTmgSZM0n
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 2, 2026
آٹھوں ممالک نے فلسطینی عوام کے ساتھ اپنی غیر متزلزل یکجہتی کا اعادہ کرتے ہوئے ان کے جائز اور ناقابل تنسیخ قومی حقوق، بالخصوص حقِ خودارادیت اور 1967 کی سرحدوں پر مشتمل ایک آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام کی حمایت کا اعادہ کیا، جس کا دارالحکومت مشرقی یروشلم ہو۔
مزید پڑھیں: غزہ جنگ بندی کی خلاف ورزیاں، پاکستان سمیت 8 اسلامی ممالک اسرائیلی جارحیت پر بول پڑے
بیان میں اسرائیلی قبضے کے خاتمے اور 2 ریاستی حل کی بنیاد پر منصفانہ، دیرپا اور جامع امن کے قیام کے لیے جاری تمام سفارتی کوششوں کی بھی مکمل حمایت کا اظہار کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
8 اسلامی ممالک اسرائیل کی جارحیت مسجد اقصیٰ میں اسرائیلی آبادکاروں کی دراندازی