بھارت سرینگر میں دہلی سے حکومت چلانا چاہتا ہے، اسحاق ڈار
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
فائل فوٹو
وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیریوں کے زمین خریدنے کے لیے دروازے کھولے گئے، بھارت سرینگر میں دہلی سے حکومت چلانا چاہتا ہے۔
اسلام آباد میں تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت نے غیر قانونی اقدامات کے لیے کشمیری رہنماؤں کو جیل میں رکھا، بھارتی حکومت موجودہ حقائق سے کیسے نظریں چرا سکتی ہے، بھارت کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ کشمیری جبر کے ماحول میں ہیں، کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کی جارہی ہیں۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت سلامتی کونسل کی قراردادوں سے انکار کیسے کرسکتاہے، کشمیر میں انسداد دہشت گردی کے قوانین کو توڑا جارہا ہے، بھارتی حکومت موجودہ حقائق سے کیسے نظریں چرا سکتی ہے، بھارت کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نہیں کرسکتا۔ کشمیری جبر کے ماحول میں ہیں، کشمیریوں کی جائیدادیں ضبط کی جارہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستانی اور کشمیریوں کے رشتے صدیوں پرانے ہیں، بھارت غیر قانونی فیصلہ کمشیر پر لاگو نہیں کرسکتا، کشمیر پر پاکستان کی تمام سیاسی جماعتیں متفق ہیں، پاکستان سفارتی امداد تب تک جاری رکھے گاجب تک مسئلہ کشمیر حل نہیں ہوتا۔
مشعال ملک نے کہا کہ مودی کو ہر آزادی پسند کو دہشتگرد قرار دینے کا شوق ہے، 50 لاکھ بھارتیوں کو مقبوضہ کشمیر کا ڈومیسائل بنا کر دے رہے ہیں۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان نے اقوام متحدہ میں کشمیر و فلسطین کے لیے بار بار آواز اٹھائی، پلوامہ کی طرح پہلگام بھی بھارت کا پلان تھا، افواجِ پاکستان نے بھارتی جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان بھارت کی جارحیت کا بھرپور جواب دے گا، پاکستان پہلگام واقعے کی بین الاقوامی تحقیقات کرانے کو تیار ہے، پہلگام واقعہ دراصل بھارت کا فراڈ تھا، بھارت نے پہلگام پر جھوٹ بولا لیکن ان کی قسمت خراب تھی۔
اسحاق ڈار نے کہا کہ بھارت کے اپنے میڈیا نے کہا کہ بھارت کا بیانیہ پہلگام پر فیل ہوگیا، پاکستان پُرامن ملک ہے لیکن کوئی اسے کمزوری نہ سمجھے، پاکستان پڑوسیوں سے اچھے تعلقات کا خواہشمند ہے، ڈائیلاگ اور ڈپلومیسی ہی مسائل کا اصل حل ہے، پاکستان تنازعات اور تشدد کو ہوا نہیں دینا چاہتا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی موجودہ حکومت کو دنیا جانتی ہے اور وہ کشمیر کے ساتھ کھڑی ہے، آرٹیکل 370 بھارت کے اپنے آئین میں تھا جو انہوں نے ختم کردیا، بھارت کشمیر سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد پر عملدرآمد کا پابند ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
کلیدی لفظ: اسحاق ڈار نے کہا کہ نے کہا کہ پاکستان نے کہا کہ بھارت
پڑھیں:
کشمیر کا وہ گاوٴں جس کے باسی فون چارج کرنے کے لیے 45 کلومیٹر دور جاتے ہیں
لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے نہایت قریب انڈیا کے زیرانتظام کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں خوبصورت ہمالیائی پہاڑی سلسلے کے درمیان واقع ون دجی گاؤں کی 19 سالہ کلثومہ کے لیے جدید زمانہ صرف ایک محاورہ ہی ہے، کیونکہ ان کی زندگی قدیم انسانوں جیسی ہی ہے۔ون دجی گاؤں کی پانچ نسلوں نے آج تک بجلی کی روشنی نہیں دیکھی ہے اور نئی نسل بھی باورچی خانے میں چولہے کی آگ اور روشنی کے لیے مشعل کے دھویں میں پروان چڑھ رہی ہے۔اس گاؤں کو صدیوں سے بجلی کا انتظار ہے کیونکہ اسے ابھی تک بجلی کے گرڈ کے ساتھ نہیں جوڑا گیا ہے۔
ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں
ون دجی کی طرف جانے والے صرف راستے ہی دشوار نہیں ہیں، یہاں کی زندگی بھی مشکلات کے بیچ گھِری ہوئی ہے۔ دن بھر مشقت کے بعد جب شام ہوتی ہے، تو یہاں کے لوگ ایک نئی جدوجہد شروع کرتے ہیں۔کلثومہ کہتی ہیں کہ ’یہاں خواتین زیادہ پریشان ہیں، کیونکہ دن میں چولہے کا دھواں ہوتا ہے اور رات میں پڑھائی کے وقت مشعل کا دھواں انھیں بیمار کر دیتا ہے۔وہ کہتی ہیں کہ گاؤں سے باہر جاتے ہی انہیں احساس ہوتا ہے کہ وہ انسانی تہذیب کا حصہ نہیں ہیں۔جب ہم کپواڑہ مارکیٹ میں جاتے ہیں تو لوگوں کو سمارٹ فون پر مصروف پا کر ہمیں کمتری کا احساس ہوتا ہے، کسی رشتہ دار کے یہاں جاتے ہیں تو وہاں ہیٹر، بوائلر، گیزر وغیرہ دیکھ کر ہمیں لگتا ہے کہ ہمارے لیے وقت اُدھر ہی رُک گیا جب انسان آگ سے ہی کھانا پکاتا تھا اور آگ سے ہی رات میں روشنی کرتا تھا۔
’ہم جدید دور کے قدیم انسان ہیں۔‘