حکومت پنجاب کشمیریوں کے ساتھ ہے، وہ قوم کبھی نہیں جھکی: عظمیٰ بخاری
اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT
ویب ڈیسک :وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری نے کہا ہے کہ حکومت پنجاب کی جانب سے کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں، کشمیری وہ قوم ہے جو نہ کبھی ڈری اور نہ کبھی جھکی ہے۔
یومِ استحصالِ کشمیر پر تقریب سے خطاب میں وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری کا کہنا تھا کہ آج پورے پاکستان میں یوم استحصال کشمیر منایا جا رہا ہے، ڈونلڈ ٹرمپ بھی اب کشمیر کی بات کر رہے ہیں، کشمیر کو جیل بنا دیا گیا ہے، اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں کہ کشمیر کو حق ملنا چاہئے۔
ٹی ٹونٹی سیریز ؛پاکستان ویمنز کرکٹ ٹیم کی ڈبلن میں بھرپور پریکٹس
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ وزیراعلیٰ مریم نواز اور حکومت پنجاب کی جانب سے کشمیریوں سے یکجہتی کا اظہار کرتی ہوں، کشمیری وہ قوم ہے جو نہ کبھی ڈری اور نہ کبھی جھکی ہے، برہان وانی کسی کو نہیں بھولا اور نہ کبھی بھولے گا، کشمیریوں کی دعائیں قبول ہونے کا وقت قریب ہے۔
وزیر اطلاعات پنجاب نے مزید کہا کہ بھارت نے 7 مئی کو پاکستان کے خلاف جارحیت کرنے کی ناکام کوشش کی، پاکستان نے بھارت کو چند گھنٹے میں شکست دی، آج بھارت سفارتی تنہائی کا شکار ہے، ایک پارٹی کی جانب سے آج پھر ایک فتنے کی کال دی گئی ہے، والدین خدارا اپنے بچوں کو کسی بھی شرپسندی اور فتنے کی سیاست سے دور رکھیں۔
تحریک انصاف نے اسلام آباد میں احتجاج اور جلسہ منسوخ کردیا
.
ذریعہ
ذریعہ: City 42
پڑھیں:
آزاد کشمیر مہاجرین نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نرم
ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ اسلام ٹائمز۔ آزاد جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں مہاجرین کی مخصوص نشستوں کے معاملے پر وفاقی حکومت نے اہم پیش رفت کرتے ہوئے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بڑے مطالبے کو تسلیم کرنے پر آمادگی ظاہر کر دی ہے۔ ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت مہاجرین کی نشستیں مکمل طور پر ختم کرنے کے بجائے ان کی تعداد کم کرنے کی تجویز پر غور کر رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حکومت نے مہاجرین کی نشستوں میں کمی سے متعلق اپنا مؤقف آزاد کشمیر حکومت تک پہنچا دیا ہے، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر جلد جوائنٹ ایکشن کمیٹی سے رابطہ کر کے وفاقی حکومت کے پیغام سے آگاہ کریں گے۔ حکومتی ذرائع کے مطابق وفاق کی جانب سے ویلی کی نشستوں میں اضافے اور مہاجرین کی نشستوں میں کمی کی تجویز زیر غور ہے، جس کا مقصد نمائندگی کے موجودہ تناسب میں توازن پیدا کرنا ہے۔
دوسری جانب اس معاملے پر سیاسی سرگرمیاں بھی تیز ہو گئی ہیں اور کل ہونے والی کل جماعتی کانفرنس کے اجلاس میں اہم فیصلوں اور مشترکہ لائحہ عمل کے اعلان کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔ سیاسی مبصرین کے مطابق مہاجرین اور ویلی نشستوں کے تناسب سے متعلق کسی بھی فیصلے کے آزاد کشمیر کی سیاسی ساخت اور انتخابی نظام پر دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں، جس کے باعث تمام متعلقہ حلقے صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔