Islam Times:
2026-06-03@07:23:56 GMT

پیواڑ میں تحریک حسینی کے زیر اہتمام قائد شہید کی 37ویں برسی کا انعقاد

اشاعت کی تاریخ: 5th, August 2025 GMT

‍‍‍‍‍‍

اسلام ٹائمز: مقررین نے قائد شہید کی سیرت و کردار اور انکی زندگی کے الگ الگ پہلووں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے حکومت سے کرم کے طویل مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ علامہ عابد الحسینی نے حکومت کی جانب سے اسرائیل کے حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اسلام، مسلمان اور اپنی عوام کے امنگوں کے مطابق اپنی پالیسی وضع کریں تو لوگ خود بخود انہیں زندہ باد کہیں گے۔ اگر ایسا نہ ہو تو وہ خود کو مردہ باد ہی کے مستحق ٹھہرائے گی۔ متعلقہ فائیلیںرپورٹ: استاد حسینی

آج منگل 5 اگست 2025ء کو علامہ سید عابد الحسینی کی سرپرستی میں تحریک حسینی کے زیراہتمام مزار قائد پیواڑ میں قائد شہید کی 37ویں برسی نہایت احترام اور مذہبی جوش و جذبے کے ساتھ منائی گئی۔ جس میں کرم بھر کے جید علماء، ذاکرین، مذہبی، سیاسی اور سماجی تنظیموں کے علاوہ قائد شہید کے ہزاروں متوالوں نے بھرپور شرکت کی۔ اس موقع پر پیواڑ کے مقامی جوانوں، تحریک حسینی کے یونٹ ممبران کے علاوہ پولیس نے سخت حفاظتی انتظامات کئے تھے۔ برسی کے اجتماع سے تحریک حسینی کے سپریم لیڈر علامہ سید عابد الحسینی، تحریک حسینی کے صدر ماسٹر یونس علی، نائب صدر علامہ سید امین شاہ الحسینی، انجمن حسینیہ کے ڈپٹی سیکرٹری علامہ سید تجمل الحسینی، ایم ڈبلیو ایم کے ضلعی صدر علامہ سید معین الحسینی، مجلس علمائے اہلبیت کے صدر علامہ ڈاکٹر سید احمد الحسینی، انجمن حسینیہ کے رکن علامہ الطاف حسین،کیپٹن علی اکبر اور ذاکر و شاعر اہلبیت استاد مرتضیٰ بنگش نے خطاب کیا۔

مقررین نے قائد شہید کی سیرت و کردار اور ان کی زندگی کے الگ الگ پہلووں پر روشنی ڈالی۔ مقررین نے حکومت سے کرم کے طویل مسئلے کو جلد از جلد حل کرنے کا مطالبہ کیا۔ علامہ عابد الحسینی نے حکومت کی جانب سے اسرائیل کے حوالے سے واضح اور دوٹوک موقف کی تائید کی۔ انہوں نے کہا کہ اسلام، مسلمانوں اور اپنی عوام کے امنگوں کے مطابق اگر کوئی حکومت اپنی پالیسی وضع کرے تو لوگ خود بخود اسے زندہ باد کہیں گے۔ ورنہ وہ خود بخود ہی مردہ باد ٹھہرے گی۔ جلسے کے آخر میں علامہ سید تجمل الحسینی نے مصائب پڑھے۔ جس کے بعد مندرجہ ذیل قرارداد پیش کرکے پروگرام اختتام کو پہنچ گیا۔ پروگرام کے بعد تمام شرکاء کی تواضع ظہرانے سے کرائی گئی۔

برسئ قائد شہید 2025ء میں تحریک حسینی کیجانب سے پیش کی جانیوالی قومی قراردادیں
برسئ قائد شہید کا یہ عظیم قومی اجتماع حکومت پاکستان کے تمام متعلقہ اداروں کو اپنے مطالبات مندرجہ ذیل قراردوں کی شکل میں پیش کرتا ہے۔
1۔ یہ اجتماع کرم کے عظیم ہیرو قائد شہید کو ان کی لازوال قیادت اور قوم کی بہترین رہنمائی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتا ہے۔
2۔ حکومت پاکستان فلسطینی مسلمانوں کی حمایت کا واضح اعلان کرے اور مسئلہ فلسطین کو عالمی سطح پر اٹھانے کی قیادت کرتے ہوئے اسرائیل کو ان پر ظلم و ستم سے روکنے کی ہر ممکن توانائی اور قوت استعمال کرے۔
3۔ ملکی سطح پر لاپتہ تمام افراد خصوصاً مشہود علی، بابر بھائی کو قانون اور انسانیت کی بنیاد پر فوراً رہا کیا جائے، اگر ان پر کسی جرم کا الزام ہے تو انہیں عدالتوں میں پیش کرکے باقاعدہ کیس چلایا جائے۔

علاقائی مطالبات
4۔ دیگر اضلاع کی نسبت کرم افغانستان کے لئے نہایت آسان اور پرامن گزرگاہ ہے۔ چنانچہ وزیرستان اور دیگر اضلاع کی طرح کرم میں خرلاچی بارڈر کو توسیع دیکر اسے ہر طرح کی بین الاقوامی اور دوطرفہ تجارت کے لئے فوراً کھولا جائے، تاکہ علاقے کو بھی اس سے برابر فائدہ حاصل ہو۔
5۔ شبلان سے بالش خیل تک ایک بڑا علاقہ محروم اور نہایت پسماندہ علاقہ ہے، چنانچہ اس علاقے کو الگ (لوئر مڈل کرم) تحصیل کا درجہ دیا جائے، یہاں طالبات کیلئے سیکنڈری لیول کا کوئی ادارہ موجود نہیں، لہذا اس علاقے میں گرلز ہائی سکولز نیز ایک گرلز کالج کی منظوری دیکر تعلیم نسواں کو یقینی بنایا جائے۔ 
6۔ کرم میں فساد کی اصل وجہ زمینی تنازعات ہیں۔ گیدو، بالش خیل، کنج علی زئی، نری میلہ، لنڈیوان نیز پیواڑ گاوں سے لیکر شابک تک تمام زمینی اور پہاڑوں کے مسائل کو ریونیو ریکارڈ کے مطابق فوراً حل کرایا جائے۔

7۔ منشیات خصوصا آئس کے فروخت اور سمگلنگ وغیرہ کا راستہ روکا جائے۔ نیز اس دھندے میں ملوث سمگلرز اور ان کے سرپرست عناصر کے خلاف فوری کارروائی کرکے انہیں قرار واقعی سزا دی جائے۔ 
8۔ گذشتہ کئی سالوں سے سرکاری فنڈز غیر منصفانہ طریقے سے تقسیم کئے جا رہے ہیں۔ سرکاری فنڈز آبادی کے تناسب اور قانونی اور منصفانہ طریقے سے تقسیم کرائے جائیں۔
9۔ پاراچنار ضلعی ہیڈ کوارٹر ہے، تاہم ہر محکمے کے لئے لوئرکرم میں مساوی آفس کا قیام غیر آئینی ہے، جس کی مثال کسی بھی ضلع میں نہیں ملتی۔ چنانچہ ہر محکمے کا ہیڈ آفس پاراچنار میں ہونا چاہیئے، جبکہ لوئر نیز سنٹرل کرم میں ذیلی اور سب آفس  کے قیام پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں۔
10۔ پاراچنار DHQ ہسپتال اور اس میں موجود ٹراما سنٹر اور دیہات میں موجود BHUز نیز محکمہ صحت میں سینکڑوں خالی اسامیوں کو پر کرکے سٹاف کی کمی کو فوری طور پر پورا کیا جائے۔ ہسپتال کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہوئے اسے جدید اور حسب ضرورت تمام مشینری نیز ادویات فراہم کی جائیں۔

11۔ سنٹرل اور لوئر کرم میں نادرا کے متعدد دفاتر فعال ہیں جبکہ اپر کرم میں صرف ایک ہی آفس ہے۔ دفتر پر لوڈ ہونے کی وجہ سے عوام نیز نادرا سٹاف کو نہایت مشکل کا سامنا ہے۔ ان کی مشکلات کو پیش نظرر کھتے ہوئے اپر اور لوئر کرم میں شلوزان، نستی کوٹ، کڑمان اور سمیرتا عمل کوٹ میں نادرا کے مزید دفاتر کھولے جائیں۔
12۔ محکمہ ایجوکیشن کی سطح پر موجود تمام کمیوں کو پورا کیا جائے۔ کتابوں اور فرنیچر کی بروقت فراہمی کو یقینی بنائی جائے۔
13۔ یہ اجتماع کل کراچی میں ہونے والے دہشتگرانہ حملے کی پرزور مذمت کرتے ہوئے دہشتگردوں کی فوری گرفتاری اور انہیں قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کرتا ہے۔ قارئین و ناظرین محترم آپ اس ویڈیو سمیت بہت سی دیگر اہم ویڈیوز کو اسلام ٹائمز کے یوٹیوب چینل کے درج ذیل لنک پر بھی دیکھ اور سن سکتے ہیں۔ (ادارہ)
https://www.

youtube.com/@ITNEWSUrduOfficial

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: تحریک حسینی کے عابد الحسینی قائد شہید کی علامہ سید نے حکومت اور ان

پڑھیں:

200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا

انہدامی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی، یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جسکو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹادیا گیا۔ اسلام ٹائمز۔ بھارتی ریاست اترپردیش کے شہر وارانسی میں گزشتہ شب مودی حکومت نے 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مسمار کر دیا اور ساتھ ہی وہاں موجود مزار اور قبرستان کے کچھ حصہ کو بھی منہدم کر دیا گیا۔ میڈیا رپورٹس میں بتایا جا رہا ہے کہ مسجد کو منہدم کرنے کی کارروائی محض 22 منٹ میں 5 بلڈوزرز کے ذریعہ انجام دی گئی۔ یہ مسجد تقریباً 42 فیٹ اونچی تھی، جس کو مسمار کئے جانے کے بعد ملبہ راتوں رات ٹرکوں میں بھر کر وہاں سے ہٹا دیا گیا۔ یعنی بدھ کی صبح جب لوگ اس جگہ سے گزرے تو مسجد اور مزار کا نام و نشان مٹ چکا تھا۔

ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ کل دیر شب تقریباً 12 بجے انتظامیہ کے اعلیٰ افسران 1000 سے زائد جوانوں کے ساتھ "از غیب شہید مسجد" کے پاس پہنچے اور علاقہ کا معائنہ کیا۔ ڈی سی پی کاشی گورو بنسوال اور اے ڈی سی پی ویبھو بانگر نے مسجد کے چاروں طرف بیریکیڈنگ کروائی اور لوگوں کی آمد و رفت پر روک لگا دی گئی۔ حتیٰ کہ میڈیا اہلکاروں کو بھی اس جگہ پر داخل ہونے کی اجازت نہیں دی گئی۔ رات کی تاریکی میں خاموشی کے ساتھ یہ کام ہوا اور جب تک مسجد منہدم ہونے کی خبر لوگوں تک پہنچی، ملبہ بھی وہاں سے ہٹایا جا چکا تھا۔

انتظامیہ نے مسجد منہدم کرنے کے لئے رات کی تاریکی کا انتخاب کرنے کی کوئی آفیشیل وجہ نہیں بتائی۔ پولیس اہلکاروں نے یہ ضرور کہا کہ ٹریفک سے بچنے کے لئے رات میں کارروائی کی گئی۔ راج گھاٹ واقع کاشی ریلوے اسٹیشن کے احاطہ میں موجود اس مسجد کو منہدم کرنے سے پہلے اے سی پی شیوہری مینا نے افسروں کے ساتھ پہنچ کر جائزہ لیا تھا۔ بعد ازاں سخت سیکورٹی میں مزار اور اس کے قریب بنی مسجد کو مسمار کر دیا گیا۔ موصولہ اطلاع کے مطابق بھدؤ چنگی واقع قلعہ کوہنا علاقہ میں "از غیب شہید کی مسجد اور قبرستان کئی سالوں سے تنازعہ کا شکار رہا۔

مسلمانوں کا دعویٰ ہے کہ مسجد 200 سال قدیم تھی۔ مسجد کے متولی شمیم استاد تھے، جن کا 2 ماہ قبل انتقال ہو چکا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ ریلوے کی پرانی زمین ہے، جس پر کچھ لوگوں نے ناجائز قبضہ کر پہلے مزار بنائی، اور بعد میں مسجد و قبرستان کی تعمیر کی گئی۔ 2024ء میں کاشی ماڈل ریلوے اسٹیشن کا منصوبہ سامنے آیا، جس کے بعد زمین کی پیمائش کرائی گئی اور مسجد کی تعمیر ناجائز قبضہ والی زمین پر ہونے کا پتہ چلا۔ از غیب شہید مسجد کی انہدامی کارروائی سے متعلق رپورٹ "این ڈی ٹی وی" پر بھی شائع ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ اس جگہ ایک ہنومان مندر بھی تھا، اسے بھی ہٹا دیا گیا ہے۔

متعلقہ مضامین

  • 200 سال قدیم "از غیب شہید مسجد" کو مودی حکومت نے رات کی تاریکی میں مسمار کردیا
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • اسکردو: معرکہ حق دوسری سرفرنگا نیشنل میراتھن 2026 کا کامیاب انعقاد
  • چوہدری شوکت منظور چیمہ کی چھٹی برسی، سعودی عرب میں یادگاری تقریب کا انعقاد
  • ٹرمپ پر قاتلانہ حملے کے بعد منسوخ ہونے والے وائٹ ہاؤس پریس ڈنر کے دوبارہ انعقاد کا فیصلہ
  • پی ٹی آئی کے علاوہ سب کو انتخابی مہم کی اجازت ہے، شفیع جان
  • گلگت بلتستان انتخابات کو متنازع بنانے کی ہر کوشش جمہوریت کے خلاف ہے، حلیم عادل شیخ
  • تحریک انصاف میں اختلافات شدید، دو گروپ آمنے سامنے آگئے
  • علامہ ساجد علی نقوی سے علامہ جواد نقوی کی ملاقات، شہید امت کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی