لبنانی حکومت پر اپنی تجویز مسلط کرنیکی امریکی کوششوں کے جواب میں ایرانی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ، جعلی صیہونی رژیم کے گھناؤنے عزائم کی تکمیل کیلئے انکی راہ میں موجود سب سے بڑی رکاوٹ یعنی خطے بھر کی مزاحمت کو غیر مسلح کرنیکی کوشش میں ہے! اسلام ٹائمز۔ "اسرائیل و امریکہ اپنے مذموم سیاسی، عسکری و جیو پولیٹیکل منصوبوں کو بآسانی آگے بڑھانے کی خاطر خطے بھر کی مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کی کوشش میں ہیں"، یہ الفاظ، ایرانی وزارت خارجہ کے سابق ترجمان ناصر کنعانی نے لبنانی مزاحمتی تحریک کے سربراہ شیخ نعیم قاسم کے بیانات کی تائید میں جاری شدہ اپنے بیان میں لکھے ہیں۔ اپنے سوشل میڈیا بیان میں ناصر کنعانی نے اسرائیلی جارحیت کے مقابلے میں "مزاحمت کے ہتھیاروں" کو اقوام عالم سمیت پورے خطے کی "دفاعی ڈھال" قرار دیا اور سربراہ حزب اللہ لبنان کے موقف کو مکمل طور پر قومی، منطقی، اصلاح پسند، ہمدردانہ و جرات مندانہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ امریکہ، جعلی صیہونی رژیم کے گھناؤنے عزائم کی تکمیل کیلئے ان کی راہ میں موجود سب سے بڑی رکاوٹ یعنی خطے بھر کی مزاحمت کو غیر مسلح کرنیکی کوشش میں ہے۔

واضح رہے کہ ترکی میں امریکی سفیر ہونے کے ساتھ ساتھ شام کے لئے امریکہ کے خصوصی ایلچی اور لبنان میں امریکی مشن کے سربراہ ٹام باراک نے حال ہی میں حزب اللہ لبنان سمیت لبنانی مزاحمت کو بتدریج غیر مسلح کرنے اور اس کے بدلے میں لبنانی سرزمین سے صیہونی فوج کے انخلاء کی تجویز پیش کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ لبنانی حکومت اس تجویز پر غور کرے گی۔ ادھر لبنانی مزاحمتی تحریک حزب اللہ کے سربراہ شیخ نعیم قاسم نے بھی اس بات پر زور دیتے ہوئے کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اسرائیل کے خلاف لبنانی فوج کے پاس کسی بھی قسم کا کوئی ہتھیار موجود نہ ہو، واضح طور پر اعلان کیا ہے کہ یہ منصوبہ کسی صورت قابل قبول نہیں۔ شیخ نعیم قاسم نے تاکید کرتے ہوئے مزید کہا کہ وہ پہلے "پرانے معاہدے" پر عملدرآمد کریں جبکہ ہم کسی بھی قسم کے نظام الاوقات کو قبول نہ کریں گے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: خطے بھر کی مزاحمت کو غیر مسلح

پڑھیں:

واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع

اسرائیل کی جانب سے لبنان پر خون ریز حملوں کے بعد دونوں ممالک کے درمیان واشنگٹن میں مذاکرات شروع ہوگئے ہیں۔

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق لبنان اور اسرائیل کے درمیان واشنگٹن میں شروع ہونے والے مذاکرات جنگ بندی مذاکرات کا تسلسل اور چوتھا دور ہے۔

لبنان کی سرکاری خبرایجنسی نے بتایا کہ لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات کا چوتھا دور واشنگٹن میں امریکی اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کے ہیڈکوارٹرز میں شروع ہوگئے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ مذاکرات کے لیے دونوں فریق کے نمائندے واشنگٹن پہنچے، جس کے بعد مذاکرات شروع ہوئے ہیں۔

قبل ازیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیراعظم کو لبنان پر حملوں کے حوالے سے ٹیلی فون پر سخت الفاظ کا استعمال کیا تھا۔

رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ٹرمپ نے نیتن یاہو کو پاگل قرار دیا اور کہا کہ ہر کوئی تم سے نفرت کرتا ہے، اسی وجہ سے لوگ اسرائیل سے بھی نفرت کرتے ہیں۔

دوسری جانب لبنان پر اسرائیل کے حملے جاری ہیں جہاں جنوبی لبنان کے بڑے شہروں میں سے ایک نباطیہ پر شدید بم باری کی گئی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ایران-امریکہ جنگ کے درمیان "ریزرو بینک آف انڈیا" نے 12 ارب روپیے کا سونا فروخت کیا، رپورٹ میں دعویٰ
  • جنگ کا قیدی، اسرائیل امریکہ کو کہاں لے آیا؟
  • سیاستدان امیر دوستوں کو مراعات دینا، غریبوں کی مدد ختم کرنا چاہتے ہیں: بلاول
  • قابلِ فخر سعد ایدھی
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • وسائل پر قبضے کی جنگ: افغان طالبان میں اختلافات کھل کر سامنے آگئے
  • لبنان میں اسرائیلی حملے پر بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خاموش کیوں ہیں، جے رام رمیش
  • واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے درمیان مذاکرات شروع
  • بعض حکمران عناصر بینظر انکم سپورٹ پروگرام کو ختم کرنا چاہتے ہیں، تاہم پیپلز پارٹی ایسا نہیں ہونے دے دی، بلاول بھٹو
  • اتحاد مذاہب کیلئے سعودی فتویٰ، مولانا زاہدالراشدی اور مولانا فضل الرحمان خلیل کی تائید