لبنان کا رواں برس ہی حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کا منصوبہ
اشاعت کی تاریخ: 6th, August 2025 GMT
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 06 اگست 2025ء) لبنان کی حکومت نے فوج کو ایک ایسا منصوبہ تیار کرنے کا کام سونپا ہے جس میں رواں برس کے اواخر تک صرف ریاستی اداروں کے پاس ہی ہتھیار ہوں گے۔
اس طرح کے اقدام کا مقصد ایران کی حمایت یافتہ شیعہ سیاسی جماعت اور لبنان میں عسکریت پسند گروپ حزب اللہ کو مؤثر طریقے سے غیر مسلح کرنا ہے۔
منگل کے روز کا کابینہ کا فیصلہ امریکہ کی طرف سے شدید دباؤ کے بعد آیا ہے، جس میں واشنگٹن نے گروپ کو غیر مسلح کرنے کے لیے کہا ہے۔
یہ فیصلہ نومبر 2024 کی جنگ بندی کے نفاذ کے ایک حصے کے طور پر بھی ہے، جس کے تحت اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان ایک سال سے زیادہ کی دشمنی کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی تھی۔
اس جنگ بندی کے معاہدے کے تحت لبنان میں صرف فوج یا داخلی سلامتی سے متعلق حکام کے پاس ہی ہتھیار ہونے چاہئیں۔
(جاری ہے)
لبنان کے وزیر اعظم نواف سلام نے کہا ہے کہ حکومت نے لبنانی فوج کو "اس سال کے اختتام سے پہلے" ہی فوج اور دیگر ریاستی فورسز تک ہتھیاروں کو محدود کرنے کے لیے ایک عملی منصوبہ ترتیب دینے کا کام سونپا ہے۔
تقریباً چھ گھنٹے تک جاری رہنے والے کابینہ کے اجلاس کے بعد نواف سلام نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ اس منصوبے کو اگست کے اواخر تک بحث اور منظوری کے لیے کابینہ کے سامنے پیش کیا جانا ہے۔
حزب اللہ کے پاس ہتھیار کیوں ہیں؟حزب اللہ لبنان کی ایک اہم سیاسی جماعت ہونے کے ساتھ ہی عسکریت پسند گروپ بھی ہے جسے امریکہ، جرمنی، برطانیہ اور کئی دیگر مغربی ممالک دہشت گرد تنظیم قرار دیتے ہیں۔
یہ ایسا واحد گروپ ہے، جس نے سن 1975-1990 کی خانہ جنگی کے بعد بھی اپنے آپ کو مسلح رکھا۔ یہ لڑائی اسرائیل کے خلاف "مزاحمت" کے نام پر شروع ہوئی تھی۔
حزب اللہ ایک طویل عرصے تک لبنان کی سب سے مضبوط فوجی قوت بھی تھی، جو کہ ایران سے فنڈنگ، تربیت اور ہتھیاروں کی بدولت ملک کی فوج سے بھی زیادہ طاقتور تھی۔ دنیا میں اس گروپ کو سب سے زیادہ ہتھیاروں سے لیس غیر ریاستی عنصر کے طور پر مانا جاتا رہا ہے۔
لیکن اسرائیل کے ساتھ جنگ نے حزب اللہ کو بری طرح کمزور بھی کر دیا، جس نے اس کے ہتھیاروں کو تباہ کر دیا اور اس کے بہت سے سیاسی اور فوجی رہنما ہلاک کر دیے گئے۔
کیا حزب اللہ غیر مسلح ہونے پر راضی ہو گی؟حزب اللہ کے رہنما نعیم قاسم نے منگل کے روز ہی کہا کہ جب تک اسرائیلی حملے جاری رہیں گے، اس وقت تک گروپ غیر مسلح نہیں ہو گا۔
کابینہ کے اجلاس کے دوران بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا، "عمل درآمد کے لیے پیش کردہ کسی بھی ٹائم ٹیبل کا نفاذ اسرائیل کی جارحیت کے ساتھ اتفاق سے نہیں کیا جا سکتا۔
"قاسم نے کہا، "مسئلہ سادہ سا ہو گیا ہے: ہمیں ہتھیار دے دو، لیکن کوئی قومی سلامتی نہ دو۔ یہ کیسے ممکن ہے؟ ہم اسے قبول نہیں کرتے، کیونکہ ہم خود کو لبنان کا بنیادی جزو سمجھتے ہیں۔"
لبنان کی شیعہ مسلم کمیونٹی میں حزب اللہ کو اب بھی نمایاں حمایت حاصل ہے۔
لیکن گزشتہ برس کے اوائل میں عرب بیرومیٹر کی طرف سے کی گئی رائے شماری سے معلوم ہوا کہ "لبنان میں حزب اللہ کے نمایاں اثر و رسوخ کے باوجود، اب نسبتاً کم لبنانی اس کی حمایت کرتے ہیں۔
" اسرائیل لبنان پر حملے کیوں کر رہا ہے؟حزب اللہ اور اسرائیل کے درمیان کئی دہائیوں سے سرحد پار جھڑپیں ہوتی رہی ہیں اور اسرائیل نے نومبر 2024 کی جنگ بندی کے باوجودلبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
اس کا کہنا ہے کہ یہ حملے حزب اللہ کے ہتھیاروں کے ڈپو اور جنگجوؤں پر مرکوز ہیں۔ وہ اس گروپ پر اپنی فوجی صلاحیتوں کو دوبارہ تشکیل دینے کی کوشش کرنے کا الزام لگاتا ہے۔
اسرائیل نے دھمکی دی ہے کہ جب تک اس گروپ کو غیر مسلح نہیں کیا جاتا لبنان پر وہ اپنے حملے جاری رکھے گا۔
ادارت: جاوید اختر
.
ذریعہ
ذریعہ: UrduPoint
کلیدی لفظ: تلاش کیجئے حزب اللہ کو حزب اللہ کے لبنان کی کے لیے
پڑھیں:
5 اگست کو پاکستان تحریک انصاف کیا کرنے جا رہی ہے؟
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی اور سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں قید کے 3 سال مکمل ہونے پر پارٹی 5 اگست کو احتجاجی پروگرام پر غور کر رہی ہے تاہم پارٹی ذرائع کے مطابق اس حوالے سے مرکزی قیادت کے اندر ابھی تک مکمل اتفاق رائے نہیں ہو سکا جس کے باعث حتمی احتجاجی کال جاری نہیں کی گئی۔
یہ بھی پڑھیں: 5 اگست کے احتجاج پر پی ٹی آئی کی واضح حکمت عملی اب تک سامنے نہ آسکی
پارٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ عمران خان کی ہمشیرہ علیمہ خان اڈیالہ جیل کے باہر بھرپور احتجاج کی حامی ہیں۔ ان کے مؤقف کے مطابق پارٹی کے ارکان قومی و صوبائی اسمبلی، سینیٹرز اور کارکنوں کو جیل کے باہر جمع ہونا چاہیے تاکہ عمران خان کی قید کے خلاف مؤثر پیغام دیا جا سکے۔
دوسری جانب ذرائع کے مطابق پارٹی کے بعض سینیئر رہنما، جن میں چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان بھی شامل ہیں، لاہور میں احتجاج یا کسی متبادل پروگرام کے حق میں دکھائی دیتے ہیں۔
بڑی احتجاجی کال پر تحفظاتپارٹی ذرائع کے مطابق متعدد ارکان قومی و صوبائی اسمبلی نے قیادت کو آگاہ کیا ہے کہ مہنگائی، مقدمات کے خدشات اور مسلسل احتجاجی سرگرمیوں کے باعث عوام پہلے جیسی تعداد میں سڑکوں پر آنے کے لیے تیار نہیں۔
ذرائع کے مطابق بعض رہنماؤں کی رائے ہے کہ ہر رکن اپنے اپنے حلقے میں علامتی یا ٹوکن احتجاج کرے اور عوام کو یہ پیغام دے کہ عمران خان کی قید کو 3 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
مزید پڑھیے: اڈیالہ جیل کے باہر ہنگامہ آرائی، پی ٹی آئی میں انتشار کھل کر سامنے آگیا، جماعت کے سیاسی کلچر پر سنگین سوالات
پارٹی کے ایک حلقے کی جانب سے یہ تجویز بھی سامنے آئی ہے کہ 5 اگست کو کسی بڑے احتجاجی پروگرام سے گریز کیا جائے تاکہ کارکنوں اور رہنماؤں کو مزید گرفتاریوں اور مقدمات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
ذرائع کے مطابق ابھی تک یہ طے نہیں ہو سکا کہ احتجاج، ریلی، جلسہ یا کسی اور شکل میں ہوگا۔ علیمہ خان کی اڈیالہ جیل کے باہر احتجاج کی تجویز پر بھی پارٹی کے بیشتر رہنما متفق نہیں جبکہ متعدد رہنما محدود یا علامتی احتجاج کے حق میں ہیں۔
9 مئی کے بعد بڑا احتجاج منظم نہ ہو سکاپارٹی ذرائع کے مطابق 9 مئی 2023 کے واقعات کے بعد پی ٹی آئی بڑے پیمانے پر کوئی کامیاب احتجاجی تحریک منظم نہیں کر سکی۔
26 نومبر کو خیبر پختونخوا کے سابق وزیراعلیٰ علی امین گنڈاپور اور بشریٰ بی بی کی قیادت میں عمران خان کی رہائی کے لیے اسلام آباد کی جانب مارچ کیا گیا تاہم یہ احتجاج کسی واضح نتیجے کے بغیر ختم ہو گیا۔
مزید پڑھیں: پی ٹی آئی کا علیمہ خان اور بشریٰ بی بی کو ایکسپوز کرنے کا فیصلہ، اقبال آفریدی سے عہدہ واپس
اس احتجاج کے بعد پارٹی کے متعدد کارکنوں اور رہنماؤں کی گرفتاریاں ہوئیں جس کے بعد پارٹی کسی بڑے احتجاجی منصوبے کا اعلان نہیں کر سکی۔ اس دوران مختلف مواقع پر ریلیاں اور مظاہرے بھی کیے گئے تاہم حکومتی اقدامات اور دیگر عوامل کے باعث وہ مطلوبہ نتائج حاصل نہ کر سکے۔
عمران خان کی قید کو 3 سال مکملعمران خان 5 اگست 2023 سے اڈیالہ جیل میں قید ہیں۔ اس عرصے کے دوران ان کے خلاف متعدد مقدمات درج کیے گئے جنہیں پاکستان تحریک انصاف سیاسی انتقام قرار دیتی ہے۔
پارٹی کی جانب سے مختلف مواقع پر عمران خان کی صحت، خصوصاً آنکھوں کے مسائل، اہلخانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹوں اور عدالتی احکامات پر عمل درآمد سے متعلق تحفظات کا اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔
5 اگست کی روایت برقرار رہے گی؟گزشتہ برسوں میں پاکستان تحریک انصاف 5 اگست کو مختلف شہروں میں احتجاج، ریلیوں اور پرامن مظاہروں کے ذریعے عمران خان کی رہائی کے مطالبات اٹھاتی رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: خیبرپختونخوا میں پی ٹی آئی کے بڑھتے اندرونی اختلافات سے پشاور کے عوام پریشان
ذرائع کے مطابق اس سال بھی ضلعی سطح پر مشاورت اور تیاریاں جاری ہیں تاہم مرکزی قیادت کی جانب سے ملک گیر احتجاج یا کسی بڑے پروگرام کے بارے میں حتمی فیصلہ ابھی سامنے نہیں آیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اڈیالہ جیل بشریٰ بی بی پاکستان تحریک انصاف پی ٹی آئی پی ٹی آئی کا 5 اگست کو احتجاج علی امین گنڈاپور عمران خان کے قید میں 3 برس