واشنگٹن:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اقتصادی، تجارتی اور عالمی سیاسی معاملات پر اہم بیانات دیے ہیں، صدر ٹرمپ نے اعلان کیا کہ مائیکروچپس اور سیمی کنڈکٹرز پر 100 فیصد ٹیرف عائد کیا جائے گا تاکہ امریکی معیشت کو تقویت دی جا سکے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ بھارتی حکومت کو روس سے تیل خریدنے کی قیمت چکانی ہوگی، اگر بھارت نے روسی تیل کی خریداری بند نہ کی تو اس پر مزید تجارتی پابندیاں اور ٹیرف نافذ کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے جا چکے ہیں اور آئندہ مزید سخت اقدامات متوقع ہیں۔

صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ ان کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں امریکی اسٹاک مارکیٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہے، مہنگائی میں کمی آئی ہے اور تنخواہوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔

ان کے مطابق ایپل سمیت کئی بڑی ٹیک کمپنیاں امریکا واپس آ رہی ہیں، اور ملک میں سیکڑوں ارب ڈالر کی سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔

انہوں نے بگ بیوٹی فل بل کی منظوری کو معیشت میں بہتری کی بڑی وجہ قرار دیا اور کہا کہ ایپل مزید 100 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر آپ امریکا میں مصنوعات بنائیں گے تو کوئی اضافی چارج نہیں ہوگا۔

عالمی امور پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ انہوں نے ایرانی، اسرائیلی اور دیگر 5 جنگیں ختم کرا دی ہیں، جبکہ روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے حالیہ گفتگو کو اچھی بات چیت قرار دیا، تاہم انہوں نے کہا کہ وہ اسے کوئی بریک تھرو نہیں کہیں گے۔

صدر ٹرمپ نے جارجیا میں فوجی اڈے پر حملے کا ذکر کرتے ہوئے بتایا کہ اس واقعے میں دو افراد شدید زخمی ہوئے ہیں جن کی حالت تشویشناک ہے۔

یوکرین جنگ پر بات کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے الزام عائد کیا کہ یہ جنگ جوبائیڈن کی پالیسیوں کا نتیجہ ہے، اور آج بھی وہاں اموات ہو رہی ہیں۔

صدر نے مزید کہا کہ وہ سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے خلیجی ممالک سمیت کئی ملکوں کے دورے کر چکے ہیں کہ ٹیرف کے ذریعے امریکا میں اربوں ڈالر آ رہے ہیں، اور یہ ہماری معاشی خودمختاری کی طرف اہم قدم ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ کیا کہ

پڑھیں:

بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات

بلوچستان میں انسانی حقوق کی صورتحال اور لاپتا افراد سے متعلق جاری بحث ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی ہے، جہاں بعض حلقوں کی جانب سے یہ مؤقف پیش کیا جا رہا ہے کہ حالیہ برسوں میں بلوچستان سے متعلق سرگرم بعض مبینہ انسانی حقوق اور میڈیا نیٹ ورکس کے پیچھے بھارت کے مبینہ اثر و رسوخ اور فنڈنگ کے الزامات سامنے آتے رہے ہیں۔ ان دعوؤں کے مطابق 2020 میں ’انڈین کرونیکلز‘ جیسے ناموں سے پاکستان اور خاص طور پر بلوچستان کے حوالے سے سرگرم بعض فرضی این جی اوز اور انسانی حقوق کے اداروں کے نیٹ ورک سامنے آئے، جنہیں بعض مبصرین بھارت کے بیانیہ سازی کے منصوبوں سے جوڑتے ہیں، تاہم یہ مؤقف ایک متنازع اور زیرِ بحث دعویٰ ہے جس پر مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:کراچی بڑی تباہی سے بچ گیا، ماہرنگ بلوچ کا جھوٹ بے نقاب

اسی تناظر میں حال ہی میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ، جسے بعض حلقے ’ایچ آر سی بی‘ سے منسوب کر رہے ہیں، میں لاپتا افراد کے حوالے سے اعداد و شمار اور کیسز کا ذکر کیا گیا ہے، تاہم اس کی کریڈیبلٹی پر بھی سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ ان حلقوں کا دعویٰ ہے کہ رپورٹ میں شامل کئی نام اور فہرستیں ایسے نیٹ ورکس سے اخذ کی گئی ہیں جو سوشل میڈیا پر پہلے سے مخصوص دعوے کرتے ہیں، اور پھر انہی دعووں کو بغیر آزادانہ اور مکمل تصدیق کے رپورٹ کا حصہ بنا لیا جاتا ہے، جسے بعض لوگ ایک “ایکوسسٹم” یا “ایکو چیمبر” قرار دیتے ہیں۔

تنقید کرنے والے مؤقف کے مطابق اس طرزِ عمل میں ایک خاص طریقۂ کار دیکھا جاتا ہے، جس میں پہلے کسی شخص کو جبری گمشدہ قرار دینے کا دعویٰ سامنے آتا ہے، پھر سوشل میڈیا پر اس پر مہم چلتی ہے، اس کے بعد وہی معلومات رپورٹس میں شامل ہو جاتی ہیں، اور پھر بین الاقوامی سطح پر انہیں بطور حوالہ پیش کیا جاتا ہے۔ تاہم بعد ازاں بعض کیسز میں مختلف حقائق سامنے آنے کے دعوے بھی کیے جاتے ہیں، جنہیں ان رپورٹس کی ساکھ پر سوال کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:ماہرنگ اور بلوچ یکجہتی کمیٹی ایک بار پھر بے نقاب، دہشتگردوں کی پشت پناہی ثابت

اسی سلسلے میں بعض مثالوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ چند افراد کے کیسز میں بعد میں مختلف دعوے یا وضاحتیں سامنے آئیں، جنہیں ان رپورٹس کے طریقۂ کار پر تنقید کے طور پر پیش کیا جاتا ہے۔ ناقدین کے مطابق اگر رپورٹنگ کا انحصار غیر مصدقہ سوشل میڈیا دعوؤں پر ہو تو اس کی غیر جانبداری متاثر ہو سکتی ہے، خصوصاً جب اسے کسی مخصوص سیاسی یا نظریاتی بیانیے کے ساتھ جوڑا جائے۔

دوسری جانب یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ انسانی حقوق کی کسی بھی رپورٹ میں صرف ایک پہلو نہیں بلکہ تمام متاثرین کا احاطہ ہونا چاہیے، جن میں وہ شہری بھی شامل ہیں جو دہشتگردی کے واقعات میں متاثر ہوئے۔ اس ضمن میں چمن، مچ اور دیگر علاقوں میں پیش آنے والے حملوں کے متاثرین، مسافروں، اساتذہ اور مزدوروں کا ذکر کرتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ اگر کسی رپورٹ میں ان واقعات اور متاثرین کو نظر انداز کیا جائے تو اس کی جامعیت اور غیر جانبداری پر سوال اٹھ سکتے ہیں۔

یوں بلوچستان سے متعلق انسانی حقوق کی رپورٹس، لاپتا افراد کے اعداد و شمار اور مبینہ بیرونی اثر و رسوخ کے الزامات ایک پیچیدہ اور متنازع بحث کی صورت اختیار کر چکے ہیں، جس میں مختلف فریقین اپنے اپنے مؤقف کے ساتھ موجود ہیں اور حتمی اتفاق رائے تاحال سامنے نہیں آ سکا۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

انڈین کرونیکلز بھارت لاپتا افراد ماہرنگ بلوچ

متعلقہ مضامین

  • محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو ہونے کا اندیشہ
  • مودی کی ناکام پالیسیاں؛ بھارتی نوجوانوں کی تحریک بے قابو  ہونے کا اندیشہ
  • جبری مشقت کے خلاف ناکافی اقدامات: امریکا کی انڈیا سمیت 60 ملکوں پر نئے ٹیرف عائد کرنے کی تجویز
  • ہماچل پردیش میں موجود اسرائیلی فوجی کی گرفتاری کے لیے بھارت پر دباؤ کیوں؟
  • بلوچستان میں بیرونی فنڈنگ، بھارت کے مبینہ کردار اور انسانی حقوق کی رپورٹس پر سنگین سوالات
  • بھارت میں ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ کیا ہے اور یہ بھارتی حکومت کے لیے دردِ سر کیوں بن گئی ہے؟
  • امتحانی تنازعات پر کاکروچ جنتا پارٹی کے بانی نے بڑا اعلان کردیا
  • بھارت: میسی کا 70 فٹ بلند مجسمہ حفاظتی خدشات کے باعث ہٹا دیا گیا
  • افغان ٹیم پہلی بار بھارت میں ٹی ٹوئنٹی سیریز کی میزبانی کرے گی