قومی اسمبلی کے اسپیکر سردار ایاز صادق نے گزشتہ روز قومی اسمبلی رولز آف بزنس کی شق 44 کا حوالہ دیتے ہوئے پارلیمنٹ کو بتایا کہ پاکستان تحریک انصاف کے سیکریٹری اطلاعات اور جھنگ سے رکن قومی اسمبلی شیخ وقاص اکرم گزشتہ 40 روز سے بغیر اطلاع یا چھٹی کی درخواست دیے بغیر ایوان سے غیر حاضر ہیں اور ایسی صورت میں اُن کی نشست کو خالی تصوّر کیا جائے گا۔ اس پر پاکستان مسلم لیگ ن کی رکن پارلیمان سیدہ نوشین افتخار نے شیخ وقاص اکرم کی نشست خالی قرار دینے کے لیے تحریک پیش کر دی جس پرڈپٹی اسپیکر سید غلام مصطفیٰ شاہ نے کہا کہ اس تحریک کو رولز کے مطابق دیکھ لیا جائے گا۔

آج اپوزیشن رہنماؤں نے میاں نواز شریف اور حمزہ شہباز کی حاضریوں پر بھی سوال اٹھایا تو کہا گیا کہ اُن کی جانب سے چھٹی کی درخواستیں اسمبلی ریکارڈ پر موجود ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: پی ٹی آئی رہنما شیخ وقاص کی قومی اسمبلی کی سیٹ خطرے میں، مگر کیوں؟

یہاں اس امر کا ذکر بھی ضروری ہے کہ سنہ 2021 میں پاکستان تحریک انصاف کی حکومت کے دوران ایک وکیل اظہر صدیق ایڈووکیٹ نے سینیٹر اسحاق ڈار کی طویل عرصے تک حلف نہ لینے کی بنا پر ان کی نشست کو خالی کرانے کے لیے پہلے الیکشن کمیشن میں درخواست دائر کی تھی جو بعد میں انہوں نے واپس لے لی تھی۔

اسحاق ڈار 3 مارچ 2018 کو پاکستان مسلم لیگ ن کے سینیٹر منتخب ہوئے تھے اور اُس کے بعد 9 مارچ 2018 کو الیکشن کمیشن نے ان کا بطور سینیٹر نوٹیفیکیشن جاری کیا تھا۔ پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے 2 ستمبر 2021 کو ایک آرڈینیس جاری کیا جس کے مطابق اگر کوئی شخص جان بوجھ کر طویل عرصے تک بطور رُکنِ پارلیمان حلف نہ لے تو اُس کی نشست خالی تصور کی جائے گی۔ جس پر اسحاق ڈار نے الیکشن کمیشن کو ایک خط لکھا کہ وہ بطور سینیٹر اپنے عہدے کا حلف اس بنا پر نہیں لے پائے کیونکہ سپریم کورٹ نے ان کا نوٹیفیکیشن معطل کیا ہوا ہے۔ جبکہ دسمبر 2021 میں سپریم کورٹ نے اُن کا نوٹیفیکیشن بحال کر دیا تھا۔

کامران مرتضٰی

سپریم کورٹ کے سینیئر وکیل اور جمیعت علمائے اسلام ف کے سینیٹر کامران مرتضٰی نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جو بھی جماعت حکومت میں ہوتی ہے وہ حزب اختلاف کے اراکین کو نااہل کروانے کے لیے اس طرح کی حرکتیں کرتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان کے دور میں اسحاق ڈار کو نااہل کروانے کی کوشش کی گئی لیکن اس سلسلے میں جو آرڈیننس تھا اس کی مدت ختم ہو گئی تھی اور اب یہ حکومت شیخ وقاص اکرم کو نااہل کرنے کی کوشش کر رہی ہے جبکہ میرے علم کے مطابق حاضری کی بنیاد پر کسی کو نااہل کرنے کے حوالے سے کوئی قانون موجود نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی رکن پارلیمان کو نااہل کرنے کے لیے جو چیزیں ہوتی ہیں وہ ساری آرٹیکل 63 میں دی گئی ہیں اور اُس آرٹیکل میں ایسی کوئی چیز نہیں۔

کامران مُرتضٰی نے کہا کہ میں ذاتی طور پر اس چیز کو 2 طریقوں سے دیکھتا ہوں۔ ایک یہ جو کوئی بھی رکن پارلیمان منتخب ہو اسے اپنی حاضری کو یقینی بنانا چاہیے جو اُس کا اخلاقی فرض ہے۔ دوسری طرف حاضری کی بنیاد پر کسی کو ڈی سیٹ نہیں کیا جا سکتا۔

میاں رؤف عطاء

سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کے موجودہ صدر میاں رؤف عطاء نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سنہ 2017 کے الیکشن ایکٹ میں ایسی کوئی چیز موجود نہیں کہ کسی رکن پارلیمان کو کم حاضری کی بنیاد پر نااہل قرار دیا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی کے رولز آف بزنس میں اگر کوئی ایسی چیز موجود ہے تو مجھے اس کا علم نہیں۔

انہوں نے کہا کہ اراکین پارلیمان کی نااہلیت کی شرائط آئین میں دی گئی ہیں جن کسی عدالت کا سزایافتہ ہونا شامل ہے لیکن کم حاضری کی بنیاد پر کسی کو نااہل نہیں کیا جا سکتا کیونکہ آئین رولز آف بزنس سے بالاتر ہے۔

مزید پڑھیے: کراچی احتجاج: پی ٹی آئی کے 12 کارکنوں کی ضمانت منظور، حلیم عادل شیخ کا نام بھی مقدمے میں شامل

میاں رؤف عطا کا کہنا تھا کہ اخلاقی طور پر جب کوئی رکن اسمبلی منتخب ہوتا ہے تو اس پر فرض ہوتا ہے کہ وہ اپنے حلقے کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے پارلیمان میں حاضر رہے اور اگر وہ ایسا نہیں کرتا تو اپنے حلقے کے عوام کی حق تلفی کر رہا ہے۔

جہانگیر جدون

سابق ایڈووکیٹ جنرل اِسلام آباد جہانگیر جدون ایڈووکیٹ نے وی نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حاضری کی بنیاد پر رکنیت منسوخی کا تصور آئین میں نہیں بلکہ اسمبلی رولز آف بزنس میں ہے جس کی بنیاد پر درخواست دی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کی حکومت نے ایک آرڈینینس کے ذریعے اِس چیز کو لاگو کرنے کی کوشش کی تھی لیکن وہ آرڈیننس کی مدت ختم ہو گئی۔

جہانگیر جدون نے کہا کہ اصولی طور پر ایسا قانون ہونا چاہیے جو منتخب اراکین پارلیمان کو ایک مقررہ مدت کے دوران حلف برداری اور اسمبلی اجلاسوں میں شرکت کا پابند کرے۔

مزید پڑھیں: پی ٹی آئی سے  انتخابی نشان چھیننا سیاسی ناانصافی، عوام کے مینڈیٹ کی توہین تھی: شیخ وقاص اکرم

ان کا کہنا تھا کہ چوہدری نثار علی خان رکن پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے اور 4 سال انہوں نے حلف ہی نہیں لیا، ایسا نہیں ہونا چاہیے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

آئینی ماہرین جہانگیر جدون شیخ وقاص اکرم شیخ وقاص اکرم کی نااہلی کامران مرتضیٰ میاں رؤف عطاء.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: ا ئینی ماہرین جہانگیر جدون شیخ وقاص اکرم شیخ وقاص اکرم کی نااہلی کامران مرتضی میاں رو ف عطاء حاضری کی بنیاد پر شیخ وقاص اکرم رکن پارلیمان رولز ا ف بزنس جہانگیر جدون قومی اسمبلی سپریم کورٹ کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے کہا کہ کو نااہل انہوں نے منتخب ہو کی نشست کے لیے

پڑھیں:

مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار

اسلام آباد، منیلا (خبر نگار خصوصی) نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ پاکستان علاقائی امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے آسیان ریجنل فورم کے ذریعے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے پْرعزم ہے۔ اسحاق ڈار نے 33  ویں آسیان ریجنل فورم سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ  عالمی اور علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے مؤثر کثیرالجہتی تعاون ناگزیر ہے۔ جموں و کشمیر کے تنازعے کا منصفانہ حل ہی جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کی بنیاد ہے۔ پاکستان مسئلہ کشمیر کے پرامن اور منصفانہ حل کی حمایت جاری رکھے گا، جبکہ عالمی برادری کو حل کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔ اسحاق ڈار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی معطلی کو تشویشناک اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ معاہدے سے متعلق یکطرفہ اقدامات 25 کروڑ پاکستانیوں کے مفادات کو متاثر کر سکتے ہیں۔ غزہ کی انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت جاری رکھے گا۔ پاکستان 1967ء سے پہلے کی سرحدوں پر مشتمل آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کا حامی ہے۔انہوں نے دہشتگردی کو عالمی امن و سلامتی کے لیے سنگین خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان دہشتگردی کے خلاف جنگ میں 90 ہزار سے زائد جانوں کی قربانیاں دے چکا ہے اور ہر قسم کی دہشتگردی کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھے گا۔ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف دہشتگردی کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے، جبکہ افغانستان میں امن سے علاقائی تجارت، روابط اور ترقی کو فروغ ملے گا۔ نائب وزیراعظم نے جنوبی بحیرہ چین کے تنازعات کے پرامن حل کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ایک چین پالیسی کی مکمل حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے موسمیاتی تبدیلی کو ترقی پذیر ممالک کے لیے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے نمٹنے کے لیے عالمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ دوسری جانب نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ و سینیٹر اسحاق ڈار نے عمان ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق فلپائن میں آسیان ریجنل فورم کی سائیڈ لائنز پر ملاقات ہوئی، دونوں رہنمائوں نے دوطرفہ تعاون کی مثبت پیش رفت پر اطمینان کا اظہار کیا۔ملاقات کے دوران اعلیٰ سطح تبادلوں، تجارت و سرمایہ کاری کے فروغ کو مزید مستحکم بنانے پر اتفاق کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے فلپائن میں مختلف ملکوں کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کیں۔ وزرائے خارجہ نے امریکہ ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستان کے کردار کو سراہا اور مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے خاتمے کیلئے مذاکرات پر زور دیا، اسحاق ڈار نے برطانیہ کے سیکرٹری آف سٹیٹ برائے خارجہ سے ملاقات کی دونوں رہنماؤں نے پاک برطانیہ تعلقات کو مزید مضبوط  بنانے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ ملاقات میں خطے  کی سکیورٹی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے نیوزی لینڈ کے وزیر خارجہ ونٹسن پیٹرز سے ملاقات کی۔ دونوں ملکوں نے تجارت، سرمایہ کاری اور کھیل کے شعبے میں تعاون پراتفاق کیا۔ ملاقات میں خطے اور عالمی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ اسحاق ڈار نے آسٹریلیا کے وزیر خارجہ سے بھی ملاقات کی جس میں مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار آسیان ریجنل فورم میں شرکت کے بعد کرغزستان روانہ ہو گئے۔ ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق اسحاق ڈار ایس سی او وزرائے خارجہ کونسل کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اجلاس 23 اور 24 جولائی کو ہوگا، اسحاق ڈار اجلاس کے موقع پر رکن ملکوں کے وزرائے خارجہ سے دو طرفہ ملاقاتیں کریں گے۔؎

متعلقہ مضامین

  • مسجد اقصیٰ کی حرمت پر کوئی سمجھوتہ نہیں، پاکستان سمیت 8 ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوٹوک اعلان
  • مسئلہ کشمیر کا منصفانہ حل جنوبی ایشیا میں امن کی بنیاد، دہشتگردی عالمی سلامتی کیلئے سنگین خطرہ: اسحاق ڈار
  • کراچی میں 2 سال قبل شروع ہونیوالی مفت شٹل سروس کمرشل بنیاد پر چلائی جارہی ہے
  • کالم نگار کو بیوروکریسی کے بارے میں مبینہ ریمارکس پر نوٹس صرف مؤقف حاصل کرنے کے لیے جاری کیا گیا تھا، اس پر کوئی ایف آئی آر درج نہیں کی گئی، سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں این سی سی آئی کی بریفنگ
  • سرکاری دفاتر میں حاضری اور وقت کی پابندی سے متعلق نئی ہدایات جاری
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
  • ویپنگ کے نقصانات: نئی تحقیق میں صحت کے سنگین خطرات سے خبردار
  • ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن