Juraat:
2026-07-24@07:47:48 GMT

مخصوص نشستوں پر بحال اراکین کو فی کس 58لاکھ ملنے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 7th, August 2025 GMT

مخصوص نشستوں پر بحال اراکین کو فی کس 58لاکھ ملنے کا امکان

سپریم کورٹ کے فیصلے سے 18اراکین قومی اسمبلی کو سال بھر کی تنخواہیں ایک ساتھ ملے گی
پرانی تنخواہیں دینی ہیں یا نہیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہ کرسکا،ذرائع

سپریم کورٹ کے فیصلے سے مخصوص نشستوں پر بحال ہونے والے 18اراکین قومی اسمبلی کو سال بھر کی تنخواہیں ایک ساتھ ملنے کا امکان ہے، پرانی تنخواہیں دینی ہیں یا نہیں، قومی اسمبلی سیکرٹریٹ تاحال کوئی حتمی فیصلہ نہ کرسکا۔ذرائع کے مطابق سپیکر کی منظوری کے بعد رواں اجلاس کے دوران فیصلہ متوقع ہے، جنوری 2025 سے ایم این اے کی تنخواہ 7لاکھ 30ہزار ہوچکی ہے، منظوری کی صورت میں ہر ایم این اے کو 58لاکھ 71ہزار روپے بقایا جات ملنے کا امکان ہے، 18ایم این ایز کو ادائیگی کے لئے مجموعی طور پر 10کروڑ 56لاکھ روپے درکار ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق 13مئی 2024ء کو سپریم کورٹ فیصلے پر 18ارکان معطل کیے گئے تھے، 2جولائی 2025ء کو سپریم کورٹ نے تمام ارکان کو بحال کردیا تھا، بحال ہونے والوں میں 15خواتین مخصوص نشستوں پر منتخب ہوئی تھیں، 3 بحال ارکان کا تعلق اقلیتی نشستوں سے ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Juraat

کلیدی لفظ: قومی اسمبلی سپریم کورٹ

پڑھیں:

کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن

الیکشن کمیشن نے خیبر پختونخوا اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم قرار دے دیا۔

اسلام آباد سے الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی کی جانب سے کی جانے والی ترمیم آئین اور قانون سے متصادم ہے۔ 

الیکشن کمیشن آف پاکستان کے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل چوہدری ندیم قاسم کی جانب سے چیف سیکریٹری خیبر پختونخوا کو تحریر کیے گئے خط کے مطابق خیبر پختونخوا اسمبلی نے بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل 6 جولائی کو منظور کیا۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق گورنر کے پی نے بلدیاتی حکومت کے نئے ترمیمی بل کی توثیق کر دی ہے، ترمیم کے مطابق ضلع میں ویلیج اور نیبر ہڈ کونسل کی آبادی 30 سے 40 ہزار کے درمیان ہوگی، ترمیم کے مطابق الیکشن کمیشن حکومت سے مشاورت سے کوئی تبدیلی کر سکے گا۔ 

خط کے مطابق الیکشن ایکٹ اور آئین کے مطابق بلدیاتی حکومتوں کے الیکشن کے لیے حلقہ بندی کرنا الیکشن کمیشن کا اختیار ہے، حلقہ بندی کے معاملے پر حکومت سے مشاورت بھی آئین کی روح کے خلاف ہے۔ 

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق الیکشن کمیشن کے لیے اس ترمیم کے تحت 30 سے 40 ہزار کی آبادی کے لیے حلقہ بندی کرنا قابل عمل نہیں۔ 

خط کے متن کے مطابق آئین کے تحت کوئی قانون الیکشن کمیشن کے اختیارات نہیں لے سکتا، اتنی تاخیر سے یہ ترمیم کرنا بظاہر بلدیاتی انتخابات میں تاخیر کا حربہ ہے۔  

الیکشن کمیشن کے خط کے مطابق خیبر پختونخوا حکومت اس معاملے پر معاونت کرے تاکہ بلدیاتی انتخابات کا انعقاد کیا جا سکے۔

متعلقہ مضامین

  • باکو میں بین الاقوامی جوڈیشل ٹریننگ پروگرام، سپریم کورٹ کے جج نے متبادل نظامِ انصاف پر زور
  • نیب کیسز سننا ہمارا اختیار نہیں، سپریم کورٹ نے فیصلہ سنادیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں، عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • نیب مقدمات کی سماعت کا اختیار وفاقی آئینی عدالت کو منتقل، سپریم کورٹ نے محفوظ فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ  نے نیب ترمیم کے بعد عدالتی دائرہ اختیار سے متعلق کیس کا فیصلہ سنا دیا
  • سپریم کورٹ کو نیب کیسز سننے کا اختیار نہیں،  عدالت عظمیٰ کا بڑا فیصلہ
  • سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ کا نیا حربہ، عالمی درآمدات پر نئے ٹیرف کا نفاذ
  • چیف جسٹس سپریم کورٹ کا ضلع و سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت پر اظہار افسوس
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن