لاہور ہائیکورٹ کے پناہ گاہ پراجیکٹ کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق کیئے گئے فیصلے کے مطابق ملازمت کی مستقلی بنیادی حق نہیں، مستقل ملازمت ایک رعایت ہے جو پالیسی اور قانونی شرائط سے منسلک ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت چاہے تو مخصوص شرائط کے تحت اس رعایت کا اختیار استعمال کر سکتی ہے، 2018ء کے ریگولرائزیشن ایکٹ کا اطلاق پراجیکٹ پوسٹوں پر نہیں ہوتا۔ اسلام ٹائمز۔ لاہور ہائیکورٹ نے پناہ گاہ پراجیکٹ کے ملازمین کی مستقلی سے متعلق بڑا فیصلہ سنا دیا۔ لاہور ہائیکورٹ کے فیصلے کے مطابق پراجیکٹ کی پوسٹوں پر ریگولرائزیشن ایکٹ کا اطلاق نہیں ہوتا، 2 رکنی بینچ نے پناہ گاہ منصوبے کے کنٹریکٹ ملازمین کی مستقل تقرری کی اپیلیں خارج کر دیں۔ لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس عاصم حفیظ اور جسٹس خالد اسحاق پر مشتمل 2 رکنی بینچ نے فیصلہ سنایا، 2 رکنی بینچ نے محمد قدیر سمیت دیگر کی درخواستوں پر 11 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا۔

فیصلے کے مطابق ملازمت کی مستقلی بنیادی حق نہیں، مستقل ملازمت ایک رعایت ہے جو پالیسی اور قانونی شرائط سے منسلک ہے۔ تحریری فیصلے میں کہا گیا کہ حکومت چاہے تو مخصوص شرائط کے تحت اس رعایت کا اختیار استعمال کر سکتی ہے، 2018ء کے ریگولرائزیشن ایکٹ کا اطلاق پراجیکٹ پوسٹوں پر نہیں ہوتا۔ فیصلے کے مطابق 2018ء کے ریگولرائزیشن ایکٹ میں پراجیکٹ ملازمین کو ملازم کی تعریف سے خارج کیا گیا ہے، آئینی عدالتیں خود سے ملازم کا درجہ تبدیل کرنے کی مجاز نہیں۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: لاہور ہائیکورٹ فیصلے کے مطابق ملازمین کی کی مستقلی پناہ گاہ

پڑھیں:

خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 02 جون2026ء) پاکستان ریلویز نے خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل ہونے کے بعد ذمہ دار افسران کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا ہے۔ریلوے حکام کے مطابق سابق ڈویژنل انجینئر(ڈی ای این)ملتان عابد رزاق کو ملازمت سے برطرف کر دیا گیا ہے جبکہ سابق اسسٹنٹ انجینئر (اے ای این)خانیوال راجا یوسف کو بھی سروس سے برخاست کر دیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ خانیوال پل حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد وفاقی وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے ذمہ داروں کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا تھا کہ عوامی جانوں کے نقصان پر کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔وزیر ریلوے کی ہدایت پر حادثے کی جامع انکوائری شروع کی گئی تھی۔

(جاری ہے)

انکوائری رپورٹ میں متعلقہ افسران کی غفلت اور ذمہ داری کا تعین کیا گیا جس کی روشنی میں محکمانہ کارروائی عمل میں لائی گئی۔

ریلوے حکام کے مطابق وفاقی وزیر ریلوے اپنے زیرو ٹالرنس مقف پر قائم رہے اور حادثے کا کیس منطقی انجام تک پہنچایا گیا۔ وزارت ریلوے کا کہنا ہے کہ احتساب کا عمل جاری رہے گا اور غفلت، لاپروائی یا نااہلی پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔وزیر ریلوے محمد حنیف عباسی نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ مسافروں کے جان و مال کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنایا جائے گا اور ذمہ دار عناصر کے خلاف بلاامتیاز کارروائی جاری رہے گی۔

متعلقہ مضامین

  • لاہور، کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر رواں سال اب تک4727 ملزمان گرفتار
  • لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ، خاتون کو دوسرے شوہر کے ساتھ جانے کی اجازت
  • بیرون ملک سفری پابندیوں کے کیس میں اسلام آباد ہائیکورٹ کا بڑا فیصلہ
  • کرایہ داری ایکٹ کی خلاف ورزی پر کریک ڈاؤن تیز، 5600 سے زائد ملزمان گرفتار
  • ڈرائیونگ لائسنس سے متعلق بڑا فیصلہ، اہم شرط بھی ختم
  • خانیوال پل حادثے کی انکوائری مکمل‘پاکستان ریلویز نے دو افسران کو ملازمت سے فارغ کر دیا
  • باپ اپنے نابالغ بچے کے نان و نفقہ کی ذمہ داری سے بری الذمہ نہیں ہو سکتا ،لاہور ہائیکورٹ
  • میاں بیوی کو تین سالہ بچی سمیت اٹھانے کی سی سی ٹی وی فوٹیج محفوظ کرنے کی درخواست ، لاہور ہائیکورٹ کی متعلقہ عدالت سے رجوع کرنے کی ہدایت
  • پنجاب حکومت کا مفت سفر کی سہولت سے متعلق اہم پالیسی تبدیلی پر غور
  • نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ